• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا ایک بار پھر ایک نہایت نازک اور ممکنہ طور پر تباہ کن بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کو ایک مرتبہ پھر خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ پانچ سےچھ ماہ کے دوران پاکستان نے ایک ذمہ دار، متوازن اور مثبت سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو ایک وسیع جنگ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے علاقائی اور عالمی قیادت سے مسلسل رابطے برقرار رکھے اور ہر فورم پر تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کی حمایت کی۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا کہ اختلافات کا حل فوجی طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارت کاری، مکالمے، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں مضمر ہے۔

پاکستان کی یہ کوششیں صرف اپنے قومی مفادات کے تحفظ تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد پورے خطے کو ایک ایسی جنگ سے محفوظ رکھنا تھاجسکے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہ رہتے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ اصولی مؤقف اختیار کیا کہ پائیدار امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب تمام فریق تحمل، ذمہ داری اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں اور طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں۔تاہم ان تمام مخلصانہ سفارتی کوششوں کے باوجود خطہ ایک مرتبہ پھر اسی نازک مقام پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں سے یہ بحران شروع ہوا تھا۔ یہی حقیقت آج کی عالمی سفارتکاری کا سب سے بڑا سبق ہے۔ تنازعات صرف مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر حل ہوتے ہیں۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کے ارادوں پر یقین نہیں کریں گے، ہر معاہدہ کمزور، ہر جنگ بندی عارضی اور ہر سفارتی کامیابی ادھوری رہے گی۔

یہی پاکستان کیلئے بھی ایک اہم سبق ہے۔اگرچہ اسکی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین، ذمہ دارانہ اور مخلصانہ تھیں، لیکن حالیہ پیش رفت اس امر کی متقاضی ہے کہ مستقبل کی ثالثی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لیاجائے۔ پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کئی ماہ کی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود دیرپا نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے اور آئندہ ایسی کوششوں میں صرف مذاکرات ہی نہیں بلکہ اعتماد سازی کو بھی بنیادی حیثیت دی جائے۔ پائیدار امن صرف ملاقاتوں کے انعقاد سے نہیں بلکہ بداعتمادی کو اعتماد میں تبدیل کرنے کے مسلسل اور سنجیدہ عمل سے قائم ہوتا ہے۔

پاکستان کو بدلتی ہوئی اور عالمی صورتحال کے تزویراتی اثرات کا بھی نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ اگر امریکہ بالآخر ایران میں اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پورے خطے کا جغرافیائی و سیاسی توازن نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسکے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ چونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے وہاں طویل عدم استحکام، داخلی انتشار یا طاقت کے توازن میں کسی بڑی تبدیلی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی قومی سلامتی، سرحدی استحکام، توانائی کے مفادات، تجارت اور خارجہ پالیسی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال پاکستان کیلئے نئے سفارتی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، جن کیلئے پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

ایک نئی اور طویل جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ عالمی توانائی کی منڈیاں غیر مستحکم ہوں گی، خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی، عالمی تجارتی راستے متاثر ہوں گے، رسد کا نظام ایک مرتبہ پھر مشکلات کا شکار ہوگا، سرمایہ کاری میں کمی آئیگی اور ترقی پذیر ممالک پر قرضوں اور مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں اور عالمی اقتصادی بحالی کا عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور محدود مالی وسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ایک مرتبہ پھر ایسے بحران کی قیمت ادا کریں گے جسکے وہ نہ ذمہ دار ہیں اور نہ ہی اسکے خواہاں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، درآمدی اخراجات میں اضافہ، برآمدات پر منفی اثرات اور سرمایہ کاری میں کمی پاکستان کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کیلئے خطے میں امن صرف ایک سفارتی ترجیح نہیں بلکہ ایک اہم اقتصادی ضرورت بھی ہے۔

اس نازک مرحلے پر اقوامِ متحدہ اور بڑی عالمی طاقتیں بھی اپنے عہد کے ایک اہم ترین سفارتی امتحان سے گزر رہی ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف ایک اور عارضی جنگ بندی کرانا نہیں بلکہ ایسا قابلِ اعتماد اور منصفانہ نظام تشکیل دینا ہے جو تنازعات کی بنیادی وجوہات کا پائیدار حل پیش کرے۔ امن اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک انصاف، بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کو یکساں طور پر نافذ نہ کیا جائے۔ اگر عالمی نظام اپنی ساکھ اور اعتبار برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے دوہرے معیار سے گریز کرتے ہوئے ہر ریاست کیلئے ایک ہی اصول اپنانا ہوگا۔یہ مسلم اُمہ کیلئے بھی ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کو سیاسی اختلافات، علاقائی رقابتوں اور محدود تزویراتی مفادات سے بالاتر ہو کر اتحاد، اخلاقی جرات اور ذمہ دار قیادت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہیں امن، انصاف، ریاستوں کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کیلئے ایک مضبوط اور متحد آواز بننا ہوگا۔ آج امتِ مسلمہ کا اتحاد صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔

پاکستان نے امن، تحمل اور مذاکرات کی حمایت کر کے اپنی اخلاقی، سفارتی او ر علاقائی ذمہ داری ادا کی ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے تجربات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور مستقبل کی سفارتی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ ثالثی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ صرف مذاکرات تک محدود نہ رہے بلکہ فریقین کے درمیان موجود اعتماد کے فقدان کو دور کرنےکیلئے بھی عملی اور مستقل اقدامات پر مبنی ہو۔ اسی کے ساتھ پاکستان کو بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی تزویراتی حالات پر مسلسل نظر رکھنا ہوگی تاکہ وہ اپنی قومی سلامتی، اقتصادی مفادات اور خارجہ پالیسی کا بروقت اور مؤثر تحفظ کر سکے۔

دنیا ایک بار پھر تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آج کے فیصلے صرف موجودہ بحران کا رخ متعین نہیں کریں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔ اگر عالمی قیادت نے وقتی سیاسی مفادات، طاقت کے توازن اور جغرافیائی رقابتوں کو انسانیت کے اجتماعی مفاد پر ترجیح دی تو اس کی قیمت صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو ادا کرنا پڑے گی۔علامتی سفارت کاری، رسمی بیانات اور عارضی جنگ بندیوں کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ اب بصیرت، جرات، دیانت اور دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، بڑی عالمی طاقتوں، مسلم اُمہ اور تمام ذمہ دار ریاستوں کو مل کر ایسا مؤثر اور قابلِ اعتماد عالمی نظام تشکیل دینا ہوگا جو طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف، بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری، باہمی احترام اور اعتماد کو فروغ دے۔

آج دنیا کے سامنے صرف دو راستے ہیں:

سفارتکاری یا تباہی، اعتماد یا تصادم، امن یا جنگ۔ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ اگر عالمی قیادت نے اس موقع پر دانش، انصاف اور سیاسی جرات کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب دنیا کے پاس ایک اور تباہ کن جنگ کو روکنے کا موقع موجود تھا تو اس نے خاموشی کیوں اختیار کی؟

تاریخ صرف جنگوں کی داستان نہیں لکھتی بلکہ یہ بھی فیصلہ کرتی ہے کہ امن کے نازک لمحوں میں کون انسانیت کے ساتھ کھڑا تھا اور کون خاموش تماشائی بنا رہا۔ آج کیے جانے والے فیصلے آنے والی صدیوں کے امن، استحکام اور انسانی مستقبل کا تعین کریں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا طاقت کے بجائے انصاف، نفرت کے بجائے اعتماد، محاذ آرائی کے بجائے مکالمہ اور جنگ کے بجائے پائیدار امن کا راستہ اختیار کرے۔ یہی انسانیت کی بقا کا راستہ ہے، یہی عالمی قیادت کا اصل امتحان ہے، اور یہی تاریخ کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

(صاحب تحریر مشیرِ علمی امور، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسزسوات اورسابق مالیاتی مشیرہیں)

تازہ ترین