تاریخ میں بعض ادارے صرف عمارتوں، منصوبوں یا اعداد و شمار سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ ان خوابوں سے پہچانے جاتے ہیں جو ایک فرد دیکھتا ہے اور پھر پوری قوم کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں سندس فاؤنڈیشن بھی ایک ایسا ہی خواب ہے جس کی بنیاد تقریباً تین دہائیاں قبل محمد یاسین خان نے اس یقین کے ساتھ رکھی کہ کوئی بھی انسان صرف اس لیے زندگی سے محروم نہ ہو کہ اسے محفوظ خون میسر نہیں۔1998ء میں جب سندس فاؤنڈیشن کا آغاز ہوا تو پاکستان میں تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور خون کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوںکیلئے حالات انتہائی تشویشناک تھے۔ محفوظ خون کی فراہمی کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا۔ غریب خاندان مہنگے داموں خون خریدنے پر مجبور تھے، جبکہ غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی کے باعث ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور دیگر مہلک بیماریوںکا پھیلاؤ معمول بن چکا تھا۔ دیہی علاقوں کے والدین اپنے بچوں کی جان بچانےکیلئےمیلوں کا سفر کرتے تھے، مگر اکثر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔انہی حالات نے محمد یاسین خان کو ایک ایسی تحریک شروع کرنے پر آمادہ کیا جو وقت کے ساتھ ایک قومی خدمت کے ادارے میں تبدیل ہو گئی۔ گوجرانوالہ میں ایک چھوٹے سے بلڈ کیمپ سے شروع ہونے والا یہ سفر آج پاکستان کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ جہاں ہزاروں مریضوں کو محفوظ خون، جدید تشخیص، آئرن چیلیشن تھراپی اور دیگر طبی سہولیات مکمل طورپر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
آج سندس فاؤنڈیشن صرف ایک بلڈ بینک نہیں بلکہ خون کی بیماریوں کے علاج، تحقیق اور آگاہی کا ایک معتبر قومی ادارہ ہے۔اس کامیابی کی بنیاد صرف جدید مشینری یا طبی سہولیات نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو لاکھوں رضاکار خون عطیہ دہندگان، مخیر حضرات، طبی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے اس ادارے پر کیا۔ ہر عطیہ کیے گئے خون کے بیگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، ملیریا، سفلس اور دیگر متعدی امراض کیلئے اسکرین کیا جاتا ہے تاکہ ہر مریض تک صرف محفوظ خون ہی پہنچے۔ یہی معیار آج سندس فاؤنڈیشن کی پہچان بن چکا ہے۔تاہم محمد یاسین خان کا خواب صرف محفوظ خون کی فراہمی تک محدود نہیں تھا۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایک دن ایسا آئے جب کوئی بچہ تھیلیسیمیا کے باعث عمر بھر خون لگوانے پر مجبور نہ ہو۔ یہی خواب آج سندس فاؤنڈیشن کے نئے سفر کی بنیاد بن رہا ہے۔
دنیا بھر میں طب کے میدان میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت نے تھیلیسیمیا کے علاج کے حوالے سے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ CRISPR-Cas9 پر مبنی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی نے اس بیماری کے مستقل علاج کی راہیں کھول دی ہیں۔ اس جدید طریقۂ علاج میں مریض کے اپنےسٹیم سیلز میں موجود جینیاتی خرابی کو درست کیا جاتا ہے،جس کے بعد جسم قدرتی طور پر صحت مند ہیموگلوبن بنانا شروع کر دیتا ہے۔ بین الاقوامی طبی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاج کے بعد بڑی تعداد میں مریض خون کی بار بار منتقلی سے مستقل نجات حاصل کر سکتے ہیں۔اسی عالمی پیشرفت کوپاکستان تک پہنچانے کیلئےسندس فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی طبی و تحقیقی اداروں کے ساتھ اشتراک کا آغاز کیا ہے۔ اس تعاون کے تحت پاکستان میں Gene Therapy Center of Excellence کے قیام، جدید مالیکیولر ڈائیگناسٹکس، ڈی این اے ٹیسٹنگ، قومی تھیلیسیمیا رجسٹری اور موبائل جینیاتی اسکریننگ جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ یہ صرف ایک طبی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے علاج کے تصور کو تبدیل کرنے کی ایک جامع قومی حکمتِ عملی ہے۔
اس پروگرام کا مقصد صرف موجودہ مریضوں کا علاج نہیں بلکہ بیماری کی روک تھام بھی ہے۔ جدید جینیاتی اسکریننگ اور جینیاتی مشاورت کے ذریعے تھیلیسیمیا کے کیریئرز کی بروقت نشاندہی کی جا سکے گی، جبکہ مستحق مریضوں کو عالمی معیار کی جین تھراپی تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ یوں پہلی مرتبہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے صرف زندگی گزارنے کی نہیں بلکہ مکمل صحت یابی کے ساتھ جینےکی امید پیدا ہو رہی ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں محمد یاسین خان کا خواب ایک نئے افق میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جس سفر کا آغاز محفوظ خون کی فراہمی سے ہوا تھا، وہ آج جین تھراپی جیسے جدید ترین علاج تک پہنچ چکا ہے۔ کل تک مقصد مریضوں کی جان بچانا تھا، آج مقصد انہیں بیماری سے ہمیشہ کیلئے نجات دلانا ہے۔ یہی کسی بھی فلاحی ادارے کے حقیقی ارتقا کی علامت ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے محمد یاسین خان کو ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا درحقیقت اسی طویل، مخلص اور نتیجہ خیز سفر کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ان ہزاروں رضاکاروں، ڈاکٹروں، خون عطیہ کرنے والوں، مخیر حضرات اور کارکنوں کی مشترکہ کاوشوں کا اعتراف بھی ہے جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں سے اس مشن کو اپنا فرض سمجھ کر آگے بڑھایا۔سندس فاؤنڈیشن کا اگلا ہدف صرف علاج فراہم
کرنا نہیں بلکہ ’’تھیلیسیمیا فری پاکستان ‘‘کے خواب کو حقیقت میں بدلنا ہے۔ محفوظ خون، قبل از شادی تھیلیسیمیا اسکریننگ، جینیاتی مشاورت، جدید جین تھراپی اور عالمی معیار کی تحقیق کو یکجا کرکے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جو آنے والی نسلوں کو اس موروثی بیماری سے محفوظ بنا سکے۔سندس فاؤنڈیشن کا سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ شروع ہونے والی ایک چھوٹی سی کوشش وقت کے ساتھ قومی تحریک بن سکتی ہے۔ محفوظ خون سے شروع ہونیوالا یہ سفر آج جین تھراپی تک پہنچ چکا ہے، اور اگر قوم، حکومت، طبی ماہرین، مخیر حضرات اور بین الاقوامی شراکت دار اسی جذبے سے اس مشن کا حصہ بنتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ میں دنیا کیلئے ایک مثال بن کر ابھرے گا۔
(صاحب تحریر ڈائریکٹر سندس فاؤنڈیشن ہیں)