• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتجاج اگر پرتشدد نہ ہو، عوام کے لیے مسائل پیدا نہ کرے تو یہ بنیادی انسانی حق ہے بلکہ احتجاج زندگی کی علامت ہےمردہ لوگ تو احتجاج نہیں کر سکتے، مردے کو آپ تخت پر بٹھا دیں یا تختے پر ڈال دیں اس بیچارے نے کون سی مزاحمت یا کون سا احتجاج کرنا ہے۔ ہماری ایلیٹ کلاس غریبوں کے احتجاج پر اکثر ناک بھوں چڑھاتی ہے،ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہمارے ہاں ہونے والے احتجاج اور جنترمنتر میں جین زی کے احتجاجی فرق کو سمجھیں۔ ہمارے یہاں اکثر جنریشن گیپ کا رونا رویا جاتا ہے جب یہ درویش بچہ تھا تب بھی وہ اس سوچ کی مخالفت کرتا تھا اور آج بھی اس کا اتنا ہی مخالف ہے۔ نہ جانے کیوں بڑی نسل کو یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ ہماری نسل تو بہت اچھی تھی آج کی نئی نسل اچھی نہیں ہے۔ ناچیز ایک مرتبہ قدیمی اردو لٹریچر پڑھ رہا تھا جس میں بزرگ نسل والے نئی نسل کا رونا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تیرہویں صدی کے نوجوان تو بہت ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ اسی نوع کی کہاوتیں چودھویں صدی ہجری کے متعلق بھی پھیلائی گئیں اب پندرہویں صدی آدھی گزر گئی ہے لیکن روایتی سوچ وہیں کی وہیں ہے۔ درویش کا ماننا ہے کہ ہر نئی نسل، پہلے سے بہتر خوبیاں لے کر آتی ہے۔

بدھا روح پر نہیں شعور پر یقین رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ شعور مرتا نہیں یہ آگے سے آگے منتقل ہوتا ہے، یوں اجتماعی شعور میں بڑھوتری ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ انفرادی سطح پر عظیم المرتبت شخصیات ہر دور میں پیدا ہوتی ہیں اور نکمے افراد کی جس طرح آج کمی نہیں ہے صدیوں بعد بھی نہیں ہوگی لیکن اگر بات اجتماعی شعور کے حوالے سے کی جائے تو آج کی نئی نسلوں کا تقابل کسی بھی قدیمی نسل سے نہیں کیا جا سکتا، سائنٹفک ترقی اور جدید سائنسی ایجادات کی بدولت آج کی نئی نسل کو حصول علم کی جو سہولیات دستیاب ہیں ،ارسطو افلاطون سے لے کر قدیم عربستان تک، مصری تہذیب سے لے کر انڈین سولائزیشن کے درخشاں ماضی تک، کہیں کسی کو اس کا تصور بھی نہ تھا۔ درویش عرض گزار ہے کہ جو لوگ اکیسویں صدی سے پہلے چلے گئے وہ تو بس چلے گئے۔ انٹرنیٹ اور آرٹیفیشل انٹیلجنس کی ماڈرن ہوشربا ترقی نے آج کے عام انسان کو بھی اپنے حلقے میں امر کر ڈالا ہے۔ ناچیز بارہا سوچتا ہے کہ اے کاش اس کی پیدائش اکیسویں ربع صدی گزرنے کے بعد ہوئی ہوتی لیکن پھر ڈاکٹر خلعت سے قربت کا تصور اسے ماضی کی خوبصورتی میں لے جاتا ہے۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی آج مدعا انڈین جنریشن زی کے احتجاج کی خوبصورتی پر لکھنے کا تھا۔ جدید انڈیا کے یہ کیسے سلجھے ہوئے باشعور بچے ہیں اپنی جائز مانگوں کے لیے اپنی حکومت سے کتنے خوبصورت شبدوں کے ساتھ بات کرتے ہیں ان کی تقاریراور نپی تلی گفتگو سن کر درویش تو مبہوت رہ گیا۔ لڑکے تو ایک طرف، لڑکیاں بھی کمال کا استدلال کرتی ہیں۔

دوستوں کی انفارمیشن کے لیے عرض ہے کہ کچھ عرصہ قبل انڈین چیف جسٹس سوریا کانت نے ’’کاکروچ‘‘ کا لفظ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بولتے ہوئے کہا کہ ہمارے کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار یا کسی پیشے میں جگہ نہیں ملتی، پھر وہ میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی ایکٹوسٹ بنتے ہوئے ہر ادارے پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ان کے اس بیان کو بہت سے طلباء اور نوجوانوں نے اپنی توہین سمجھا یوں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بنی اور اسکی تحریک شروع ہو گئی، جس میں امتحانی پرچے لیک ہونے، بے روزگاری اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات ابھرے۔اس تحریک کی نمایاں شخصیت ابھیجت دیپکے ہیں، جو پہلے امریکہ میں تھے، اب دہلی میں ہیں۔ اسی طرح سونم وانگ چک بھی اس تحریک کے سرگرم ایکٹیوسٹ ہیں، جنہوں نے 26 روزہ بھوک ہڑتال کی، جسکے دوران انہیں حراست میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دہلی سے شروع ہونے والی اس تحریک کے دیگر شہروں میں پھیل جانے کے باعث اس کے دائرۂ اثر میں مسلسل وسعت اور شدت آتی جا رہی ہے۔ پولیس لاٹھی چارج کے علاوہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مظاہرین پر آؤٹ ڈیٹڈ یا ایکسپائرڈ آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے گئے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کئی شہروں میں واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔احتجاجی طلبا کا کہنا ہے کہ ہندوستان کسی تانا شاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، یہاں نوجوانوں کے حقِ احتجاج کو ہرگز دبایا نہیں جا سکتا۔

پرائم منسٹر نریندر مودی نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ حکومت امتحانی پرچے لیک ہونے کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں بھیجنے کا اہتمام کر رہی ہے،اس سلسلے میں کوتاہی کے مرتکبین کوسخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر احتجاجی نوجوانوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔حکمران اکثر کسی بھی تحریک کو ابتدامیںہلکا سمجھتے ہوئے زیادہ اہمیت نہیں دیتے، لیکن جب اس میں شدت بڑھ جاتی ہے تو پھر بارہا ایسی تحریکیں آؤٹ آف کنٹرول ہو کر بہت سنگین صورتِ حال پیدا کر دیتی ہیں، جیسے کہ ماضی میں نیپال سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ہو چکا ہے۔

احتجاجی نوجوانوں کے مطالبات بالکل جائز ہیں، پرائم منسٹر مودی کو چاہیے کہ وہ خود جنتر منتر جائیں یا مناسب جگہ بیٹھیں، اپنے بچوں کے مطالبات دلجمعی سے سنیں اور سکشا منتری دھرمیندر پردھان کے استعفے کا اعلان بھی کر یں، یورپ میں تو ٹرینوں کے لیٹ ہو جانے پر منسٹر ریزائن کر دیتے ہیں، اس سے آپ کی اور بی جے پی کی نیک نامی ہی ہو گی۔

تازہ ترین