• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ اسے کمپیوٹر نیٹ ورک میں سپلائی چین ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ 2008ء میں جاپان کے ایک غیر معروف شخص ستوشی ناکا موتو نے اس کا تصور پیش کیا۔ پھر 2009ءمیں دنیا میں سب سے پہلی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کے نام سے جاری کی گئی۔پاکستان میں 2010ء میں اس کا ابتدائی رواج ہوا اور 2014ء سے پاکستانی عوام نے اس میں باقاعدہ سرمایہ کاری کرنا شروع کی۔ 2017ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پر پابندی لگا دی اور اب 2025ء میں اس سے پابندی ہٹا کر اس پر دوبارہ غور و خوض شروع کر دیا ہے۔

جب سے اس کرنسی کا دنیا میں چلن شروع ہوا ہے، مسلمان عوام اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنےکیلئے علماء کرام سے رابطہ کرتے رہے ہیں۔ جامعہ دارالعلوم کراچی سے بھی اس ضمن میں رابطہ کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس نئی چیز کے بارے میں کوئی حکم دینے سے پہلے ضروری تھاکہ اس کرنسی کی پوری حقیقت معلوم کی جائے۔دارالعلوم کراچی میں مختلف سطحوں پر اس کرنسی کے بارے میں تحقیقات کی گئیں۔ مرحلہ تخصص کے بعض طلبہ نے اسے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔بعض اساتذہ نے اپنے اپنے طور پر اس سلسلے میں لکھی گئی تحریروں اور مقالوں کا مطالعہ کیا۔بعض ماہرین کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کیلئے دعوت دی گئی۔یہاں تک کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کا دارالافتاء اس نتیجے پر پہنچا کہ جن ماہرین کی رائے یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی حقیقی وجود نہ رکھنے اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے مال کی تعریف میں داخل نہیں، وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، اسلئے فی الحال اس کا لین دین جائز نہیں۔ چنانچہ ایک سائل کے سوال کے جواب میں یہ جواب تحریری طور پر دیا گیا۔اس موقع پر مختلف طرح کا عوامی رد عمل دیکھا گیا۔بعض لوگوں نے اس فتوے پر اعتماد اور اسی پر عمل کیا۔ جو لوگ پہلے ہی اس کرنسی میں معاملہ نہیں کر رہے تھے، اس فتوی کےبعد بھی رکے رہے۔ البتہ ایک طبقہ نے سوشل میڈیا پر اس فتویٰ کیخلاف ہنگامہ برپاکردیا۔ ان کی طرف سے دو اعتراضات کیے گئے۔پہلا اعتراض تو یہ تھاکہ ملک میں اور کتنے غلط کام ہو رہے ہیں تو مفتی تقی عثمانی نے ان کے ناجائز ہونے کا فتویٰ جاری کیوں نہیں کیا اور صرف کرپٹو کرنسی کے ناجائز ہونے کا فتویٰ کیوں جاری کیا؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ فتویٰ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی شخصی حیثیت میں جاری نہیں کیا بلکہ یہ فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی کے دار الافتاء سے جاری کیا گیا اوراسکے مفتی ہونے کی حیثیت سے حضرت نے بھی اس پر تصدیقی دستخط فرمائے ہیں۔ کسی بھی مستند دینی ادارے کے دارالافتا کا اصول یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی مسئلے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اسے اس سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ سوموٹو فتویٰ جاری کرنے کا عمومی رواج نہیں ہوتا۔ ایسےاعتراض سے پہلے دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا پورا ریکارڈ دیکھا جاتا تواعتراض کی نوبت ہی نہ آتی۔

اس اعتراض کی حقیقت تو کچھ ایسی ہےکہ ایک ڈاکٹر اپنے کلینک میں بخار کے مریض کو دوا دے رہا ہو توایک آدمی باہر کھڑا ہو کر یہ شور مچانا شروع کر دے کہ اتنے بڑے بڑے مریض گھروں میں پڑے ہیں لیکن ڈاکٹر ان کو دوا نہیں دے رہا، یہ نا انصافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسکا جواب یہی ہوگا کہ ڈاکٹر تو صرف اسی مریض کو دوا دئیگاجو علاج کرانےآئیگا۔ اسی طرح دار الافتاء بھی اسی سائل کو فتویٰ دئیگا جو رہنمائی حاصل کرنے کیلئے اس سے رجوع کرئیگا۔ البتہ معاشرے میں پائی جانیوالی کسی شرعی خرابی کے بارے میں بات کرنا دعوت کا میدان ہے اور دعوت کے اصول و ضوابط کے مطابق امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائیگااور ہر مسلمان اسکا ذمہ دار ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔"تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی نفع رسانی کیلئے نکالا گیا ہے (جس کی صورت یہ ہے) کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔ ( آلِ عمران، 110) اس آیتِ مبارکہ میں یہ ذمہ داری پوری امت کی ہے، اسے صرف علماء کرام تک محدود سمجھنا غلط فہمی ہے۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ علماء کرام عام طور پر پہلے کسی چیز کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسی چیز کو جائز قرار دے دیتے ہیں،یہ لوگ وقت کے تقاضوں کو بروقت سمجھنے سے قاصر ہیں اور انہیں اصل بات کی طرف آتے بہت دیر ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں لاؤڈ اسپیکر اور کیمرے کی تصویر سے متعلق فتاویٰ کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔

یاد رہے مفتی کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اسکے سامنے جو مسئلہ کی صورت بیان کی جائے وہ اسکا حکم بتائے۔ صورتِ مسئلہ کی صحیح وضاحت کرنا سوال کرنیوالے کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی نئی ایجاد سامنے آتی ہے تواسکے ماہرین اسکی جو حقیقت بتاتے ہیں علماء اسکے مطابق شرعی حکم بیان کر دیتے ہیں، بعد میں اگر ماہرین کی رائے میں صورتحال بدل جائے تو ظاہر ہے کہ حکم بھی تبدیل ہو جائیگا، تو تبدیلی دراصل شرعی حکم میں نہیں ،اس مسئلے کی صورت میں ہوئی ہے، جسکی وجہ سے شرعی حکم بدل گیا۔

جب لاؤڈ اسپیکرآیا اور علماء کرام سے پوچھا گیا کہ اسے فرض نماز کی جماعتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو علماء کرام نے ماہرین سے دریافت کیا کہ اس میں جو بلند آواز آرہی ہے، کیا یہ اصل آواز ہے یا آواز کی گونج ہے؟ بہت سارے ماہرین نے یہ رائے دی کہ یہ آواز کی گونج ہےاسکی روشنی میں علماء کرام نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر کوئی مقتدی اس گونج کی بنیاد پر نماز میں اپنی حرکات تبدیل کرئیگا تواسکی نماز نہیں ہوگی۔ اسے فقہ کی اصطلاح میں ’’تلقین بالخارج‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن بعد میں ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ یہ گونج نہیں بلکہ اصل آواز ہی ہے تو علماء کرام نے بھی فرض نمازوں میں اسکےاستعمال کو جائز قرار دیا۔

ازمنہ قدیم میںتصویریں ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں پھر کیمرہ دریافت ہوا۔شروع میں جو کیمرے تصویر بناتے تھے اسکا نیگیٹو بھی تصویر کی شکل میں کیمرے کے اندر موجود ہوتا تھا،جب اسکا پرنٹ نکلتا تھا تو وہ ایک کاغذ پر ہوتا تھا، علماء کرام نے یہ فتویٰ دیا کہ یہ بھی تصویر سازی ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ تصویر ہاتھ کے بجائے ایک مشین سے بنائی گئی ہے۔تاہم جب ڈیجیٹل کیمرہ آیا تو پتہ چلا کہ اس میں تصویر کو ہندسوں کی شکل (0,1 0,1 ) میں توڑ دیا جاتا ہے۔ کیمرے کے اندر اسکا کوئی وجود نہیں ہوتا، پھر جب اسے تصویر کی شکل دینا ہوتی ہے تو ایک خاص کمانڈ دی جاتی ہے اس کمانڈ کے ملنے پر کیمرہ ان ہندسوں کو دوبارہ شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس نئی صورتحال کے بارے میں بعض علماء کرام کی رائے یہ تھی کہ چونکہ یہ تصویر کے بجائے عکس کیساتھ زیادہ مشابہ ہے، اسلئے اس کو حرام کہنا مشکل ہے ہاں البتہ اگر اسکا بھی پرنٹ نکال لیا جائے تو یہ تصویر بن جائیگی اور ناجائز ہو گی۔ یہاں بھی حکم میں جو تبدیلی ہوئی وہ صورتحال کے تبدیل ہونے سے ہوئی۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ علمائے کرام نہ صرف تازہ ترین صورتحال سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ اسکی روشنی میں شرعی مسائل پر غور و فکر کر کے امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ دراصل علماء کرام کی سیرت کا ایک روشن پہلو ہے جسے بعض عاقبت نا اندیش غلط معنی پہناتے ہیں۔

(صاحب تحریرسینئر استاذ جامعہ دارالعلوم کراچی ہیں)

تازہ ترین