پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران سوشل میڈیا نے سیاست کے روایتی انداز کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ سیاست اب صرف جلسوں، جلوسوں، اخبارات اور ٹیلیوژن تک محدود نہیں رہی بلکہ موبائل فون کی اسکرین بھی سیاسی طاقت کا ایک مؤثر مرکز بن چکی ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، ایکس، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ نے سیاسی جماعتوں کو عوام تک براہِ راست رسائی دی، نوجوانوں کو سیاسی عمل میں متحرک کیا اور روایتی ذرائع ابلاغ کی اجارہ داری کو کمزور کیا۔ تاہم اس کیساتھ جھوٹی خبروں، کردار کشی، نفرت انگیز بیانیوں اور شخصیت پرستی نے سیاسی مکالمے کو بھی متاثر کیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف پہلی بڑی سیاسی جماعت تھی جس نے سوشل میڈیا کی طاقت کو بروقت پہچانا۔ جب دوسری جماعتیں روایتی ذرائع پر انحصار کر رہی تھیں، تحریکِ انصاف نے ایک منظم ڈیجیٹل نیٹ ورک قائم کیا جو لمحوں میں اپنا بیانیہ لاکھوں افراد تک پہنچا دیتا تھا۔ فروری 2024ء کے انتخابات میں انتخابی نشان سے محرومی، قیادت پر پابندیوں اور امیدواروں کے مختلف انتخابی نشانات کے باوجود مصنوعی ذہانت، آن لائن اجتماعات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹروں سے رابطہ برقرار رکھنا پاکستان کی انتخابی تاریخ کی ایک منفرد مثال تھی۔ اسی ڈیجیٹل قوت نے اپریل 2022ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھی عمران خان کو پاکستانی سیاست کے مرکز میں برقرار رکھا۔ عام طور پر اقتدار سے محروم ہونیوالی جماعتوں کو اپنی حکومتی کارکردگی پر سخت عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن سوشل میڈیا نے بحث کا رخ بڑی حد تک سیاسی بیانیے کی طرف موڑ دیا۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت کو مہنگائی، معاشی مشکلات، سیاسی محاذ آرائی اورانتظامی کمزوریوںپر تنقید کا سامنا رہا اور احساس پروگرام، صحت کارڈ اور سماجی تحفظ جیسے اقدامات بھی زیرِ بحث رہے، مگر اقتدار سے علیحدگی کے بعد انکی حکومتی کارکردگی کے بجائے انکی برطرفی ہی عوامی مباحثے کا محور بن گئی۔ سیاسی وابستگی ہر جمہوری معاشرے میں موجود ہوتی ہے، لیکن جب یہ تنقیدی سوچ پر غالب آ جائے تو جمہوری احتساب متاثر ہوتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے بعض حامیوں نے عمران خان کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جس پر تنقید کو بھی مناسب نہ سمجھا گیا۔ مسلسل ڈیجیٹل مدح سرائی، خود احتسابی، مفاہمت اور سیاسی لچک کی گنجائش کم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس سوشل میڈیا نے تحریکِ انصاف کو مضبوط رکھا، بعض مواقع پر اسی نے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی راہ بھی دشوار بنا دی۔ بیرونِ ملک موجود بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مبصرین نے بھی اس ماحول کو مزید گرم رکھا۔ اگرچہ ہر شخص کو سیاسی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سنسنی خیز اور تصادم پر مبنی مواد زیادہ توجہ اور زیادہ آمدن حاصل کرتا ہے۔ اسی ماحول میں بعض معروف یوٹیوبرز لاکھوں ڈالر کماتے رہے، جبکہ اسکے سیاسی اور سماجی نتائج پاکستان کے اندر کارکنوں اور معاشرے کو بھگتنا پڑے۔ تاہم یہ رجحان صرف تحریکِ انصاف تک محدود نہیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی مختلف اوقات میں جعلی خبروں، منظم ٹرینڈز، کردار کشی اور غیرمہذب سیاسی زبان سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تحریکِ انصاف نے ڈیجیٹل سیاست کو زیادہ منظم انداز میں اپنایا، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی طویل عرصے تک روایتی ذرائع ابلاغ پر انحصار کرتی رہیں۔ انکی ڈیجیٹل موجودگی اکثر رسمی بیانات اور طویل تقاریر تک محدود رہی، جبکہ آج کا نوجوان مختصر، واضح اور مؤثر ابلاغ کو ترجیح دیتا ہے۔حکومت اور ریاستی اداروں کی کمزور ڈیجیٹل حکمتِ عملی نے بھی سیاسی عدم توازن کو بڑھایا۔ مئی 2025ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کے بعد پاکستان کے مؤقف اور کامیابیوں کو نوجوان نسل تک جدید اور مؤثر انداز میں نہیں پہنچایا جا سکا۔ اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان رابطہ کاری میں پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی ایسی زبان اور انداز میں پیش نہ کیا گیا جو نوجوانوں کیلئے پرکشش ہوتا۔ اگر حکومت کا سوشل میڈیا زیادہ مؤثر ہوتا تو دفاعی اداروں کو اپنی کامیابیوں کی وضاحت کیلئے روایتی پریس بریفنگز پر اتنا انحصار نہ کرنا پڑتا۔ نتیجتاً ایک غیر مصدقہ وی لاگ، سازشی نظریہ یا اشتعال انگیز کلپ چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ قومی اہمیت کی مثبت پیش رفت عوامی توجہ حاصل نہیں کر پاتی۔ موجودہ دور میں صرف کامیابی حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اسکی بروقت، معتبر اور مؤثر تشہیر بھی ناگزیر ہے۔ اگر ریاست اپنی کامیابیوں کی قابلِ اعتماد کہانی خود بیان نہیں کرے گی تو اس خلا کو دوسروں کے بیانیے پُر کر دینگے۔تاہم اس مسئلے کا حل سوشل میڈیا پر پابندیاں، انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنا یا پلیٹ فارم بند کرنا نہیں۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر معلومات کے بہاؤ کو سست کر سکتے ہیں، لیکن افواہوں اور بداعتمادی کا خاتمہ نہیں کرتے۔ جھوٹ کا مؤثر جواب سنسرشپ نہیں بلکہ بروقت، شفاف اور قابلِ اعتماد معلومات ہیں۔ ریاستی اداروں کو نوجوانوں کی زبان اور جدید ذرائع ابلاغ کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے حقائق اور پیشہ ورانہ ابلاغ کو فروغ دینا ہوگا۔ اس حقیقت سےمفر ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا نے پاکستانی سیاست کو کئی مثبت مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس نے نوجوانوں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سیاسی عمل میں شریک کیا، عوامی آگاہی میں اضافہ کیا اور حکمرانوں کو زیادہ جواب دہ بنایا۔ لیکن اسی کیساتھ اس نے جھوٹ، نفرت، شخصیت پرستی، سیاسی انتہا پسندی اور سماجی تقسیم کو بھی تقویت دی ہے۔سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ جمہوریت کا دشمن ہے اور نہ اسکا نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقتور ذریعۂ ابلاغ ہے جو سچ اور جھوٹ، دلیل اور پروپیگنڈا، امید اور نفرت سب کو یکساں تیزی سے پھیلا سکتا ہے۔ اصل امتحان ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ہمارے سیاسی رویّوں کاہے۔ اگر اختلافِ رائے حقائق، برداشت اور جمہوری احتساب سے جدا ہو جائے تو کوئی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم جمہوریت کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔ پاکستان کا مستقبل اسی وقت زیادہ مستحکم ہوگا جب سوشل میڈیا سیاسی شعور کا ذریعہ بنے، سیاسی تعصب کا نہیں۔