تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔ طاقتور ہمیشہ لفظ ایجاد کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کیساتھ انہی لفظوں کے معنی بدل جاتے ہیں۔ کبھی کسی کو باغی کہا جاتا ہے، کبھی غدار، کبھی شدت پسند اور کبھی حقارت سے ’’کاکروچ‘‘۔ مگر جب کوئی معاشرہ اپنے زخموں کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے تو طعنہ احتجاج میں بدل جاتا ہے، اور احتجاج تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پڑوسی ملک میں بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہا گیا۔ شاید مقصد انہیں کمتر ثابت کرنا تھا، لیکن انہوں نے اس طعنے کو اپنی کمزوری نہیں، اپنی طاقت بنا لیا۔ انکا جواب ہے ’’اگر ہم کاکروچ ہیں تو اسکی وجہ ہم نہیں، وہ نظام ہے جس نے ہمیں اس حال تک پہنچایا۔‘‘یہ ایک جملہ نہیں، ریاست سے ایک سوال ہے۔ پھر یہی سوال سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا تک پہنچا، اور جن نوجوانوں کو حقیر سمجھا گیا تھا، وہی عالمی توجہ کا مرکز بن گئے۔یہ منظر دیکھ کر بے اختیار خیال آتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ہمارے نوجوان بھی بے روزگاری، مہنگائی، غیر یقینی مستقبل اور محدود مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر انکی توانائیاں اکثر ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہو جاتی ہیں۔ کوئی فرقے کے نام پر تقسیم ہے، کوئی جماعت کے نام پر، کوئی زبان اور نسل کے نام پر اور کوئی شخصیتوں کی اندھی عقیدت میں اس قدر گم ہے کہ اسے اپنے اصل مسائل ہی دکھائی نہیں دیتے۔ ہماری اجتماعی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمیں سوچنے سے زیادہ ماننے کی عادت ڈالی گئی۔ دلیل سے زیادہ نعرے پسند آئے، سوال سے زیادہ خاموشی اور اصولوں سے زیادہ شخصیتیں۔میری نسل نے بہت سے موسم دیکھے ہیں۔ ہم نے روٹی، کپڑا اور مکان کے خواب بھی دیکھے۔پھر ’نظامِ مصطفیٰ‘ کے نام پر ایک نئی صبح کا انتظار کیا۔1977ء کے بعد ایک ایسا دور آیا جس نے سیاست، معاشرت اور قومی مزاج پر گہرے اثرات چھوڑے۔ افغان جنگ، اسلحے اور منشیات کا پھیلاؤ، مذہبی تقسیم، سیاسی پابندیاں اور عدم برداشت کی فضا نے آنیوالی نسلوں تک اپنا سایہ پھیلایا۔ تاریخ کے یہ ابواب آج بھی ہمارے قومی رویوں میں جھلکتے ہیں۔پھر ’’قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ کا نعرہ بلند ہوا۔ بعدازاں ’’صادق اور امین‘‘ کی اصطلاح نے سیاست کا رخ بدلا۔پھر’’ووٹ کو عزت دو‘‘ قومی بیانیے کا حصہ بنا۔ہر دور میں ایک نیا نعرہ آیا، ایک نئی امید پیدا ہوئی، ایک نیا خواب بیچا گیا، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ پاکستان کئی مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پروگراموں میں گیا، بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا، مہنگائی نے قوتِ خرید کو کمزور کیا، اور بے روزگاری نوجوانوں کیلئے سب سے بڑا سوال بنتی گئی۔ یہ محض سیاسی مؤقف نہیں، بلکہ معاشی اعداد و شمار اور سرکاری رپورٹس میں بارہا بیان ہونیوالی حقیقت ہے۔ آج ایک سرکاری یا نجی ملازم کی تنخواہ مہینے کے اختتام سے پہلے جواب دے دیتی ہے۔چھوٹا تاجر غیر یقینی حالات میں کاروبار کر رہا ہے۔کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملنے کی شکایت کرتا ہے۔تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ہم آج بھی اپنے اصل مسائل پر ایک قوم بننے کے بجائے ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہیں۔ شاید یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ہم نے شخصیتوں کو اداروں پر ترجیح دی۔ نعروں کو پالیسیوں پر ترجیح دی۔جذبات کو شعور پر ترجیح دی اور اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا۔
حالانکہ دنیا کی کامیاب قوموں نے ترقی نفرت سے نہیں، قانون کی حکمرانی، مضبوط اداروں، معیاری تعلیم، تحقیق، احتساب، شفافیت اور مسلسل محنت سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے اپنے نوجوانوں کو ایک دوسرے کیخلاف نہیں، بلکہ جہالت، غربت، بدعنوانی اور ناانصافی کیخلاف کھڑا کیا۔آج ہمیں بھی خود سے ایک سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری اصل جنگ ایک دوسرے سے ہےیا پھر بے روزگاری، مہنگائی، کمزور نظامِ تعلیم، کمترنظام صحت، انصاف اور بدعنوانی سے؟اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو نعرے بدلتے رہیں گے، چہرے بدلتے رہیں گے، حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، مگر عام آدمی کی زندگی میں بہت کم فرق پڑے گا۔قومیں ایک دن میں نہ بنتی ہیں اور نہ بکھرتی ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے فیصلوں، اپنی ترجیحات اور اپنی خاموشیوں کا نتیجہ بن جاتی ہیں۔ جب عوام سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو انکی تقدیر دوسروں کے فیصلوں کے رحم و کرم پر چلی جاتی ہے۔ پھر تاریخ خود کو دہراتی نہیں، بلکہ ہماری غلطیوں کو دہراتی رہتی ہے۔ وقت شاید اب بھی پوری طرح ہاتھ سے نہیں نکلا۔اب بھی اگر ہمارے نوجوان نفرت کے بازار سے نکل کر شعور کی شاہراہ پر آ جائیں،اگر وہ شخصیتوں کے بجائے اصولوں سے وفاداری سیکھ لیں،اگر وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری معاشرے کی طاقت سمجھیں،اگر وہ اپنی توانائیاں ایک دوسرے کیخلاف نہیں بلکہ علم، تحقیق، دیانت، محنت اور قومی تعمیر کیلئے وقف کر دیںتو یقین مانیے، کوئی طاقت اس قوم کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ’’کاکروچ‘‘ کون ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو کس چیز پر لڑنا سکھایا اور کس چیز کیلئے جینا بھلا دیا؟