• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ بھارت پر سیکیورٹی کیلئے کیے گئے غیر معمولی انتظامات کا انکشاف

---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

چینی صدر شی جن پنگ ہفتے کو 7 سال بعد ایک روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے جہاں انہوں نے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ 

شی جن پنگ کے دورے کے لیے نئی دہلی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، چینی صدر نے نئی دہلی کے تاج پیلس ہوٹل میں قیام کیا جسے نو فلائی زون قرار دیا گیا تھا۔ 

انسدادِ دہشت گردی اور بم ڈسپوزل ٹیمیں ہوٹل میں تعینات رہیں جبکہ جوہری، تابکاری اور حیاتیاتی خطرات کی نشاندہی کے لیے بھی خصوصی جانچ کی گئی، ہوٹل کے اطراف زیرِ زمین پائپ لائنز اور دیگر تنصیبات کا بھی معائنہ کیا گیا۔

چین نے شی جن پنگ کی سرکاری لیموزین، متبادل گاڑی اور مواصلاتی آلات تقریباً 10 روز قبل ہی مال بردار طیارے کے ذریعے بھارت پہنچا دیے تھے۔

شی جن پنگ تقریباً 24 گھنٹے بھارت میں رہے اور کل صبح تقریباً 11 بجے روانہ ہو گئے۔

چینی صدر خصوصی طور پر تبدیل کیے گئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سفر کرتے ہیں جس میں محفوظ مواصلاتی نظام، خطرات کا پتہ لگانے والے آلات، میزائل دفاعی حفاظتی نظام اور برقی مقناطیسی اثرات سے بچاؤ کی سہولت موجود ہے۔

طیارہ چینی صدر کو حکومتی اور عسکری کمانڈ مراکز سے رابطے میں رکھنے کے لیے خفیہ مواصلاتی نظام سے بھی لیس ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق برکس سربراہ اجلاس کے پیشِ نظر پورے نئی دہلی میں 15000 سے زائد پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستوں کی 200 کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں، مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں کی تلاشی بھی لی گئی۔

صدر شی جن پنگ کے ہوائی اڈے سے شانتی پتھ تک کے راستے پر 700 سے زائد نگرانی کیمروں اور 5 کنٹرول رومز کا انتظام کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید