وفاقی و صوبائی حکومتیں ہر سال آمدن اور خرچ کا میزانیہ یعنی بجٹ تیار کرتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کیلئے اخراجات کا حساب لگایا جاتا اور آئندہ مالی سال کیلئے جن طبقات کو ریلیف دینا مقصود ہوانکی ایک پوری فہرست بنائی جاتی ہے۔ لیکن ان طبقات میں شاید حکومت جنہیں نظر انداز کرتی ہے، وہ تنخواہ دار اور پنشن ہولڈر طبقہ ہے۔ سرکاری ملازم جب حاضر سروس ہوتا ہے تو سب سے زیادہ ٹیکس گزار بھی یہی طبقہ ہوتا ہے، جب ریٹائر ہوجاتا ہے تو حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اب یہ ریٹائر بابے کس کام کے ہیں، سو انکی پنشن میں بس واجبی سا اضافہ کر دیتے ہیں، اگرچہ بقول وزیر اعظم، دل پر پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ پنجاب حکومت بھی شاید اسی پتھر سے کام لے رہی ہے اور پتھر بھی اتنا وزنی کے ہٹائے نہیں ہٹ رہا۔ جب نئےمالی سال کا غلغلہ ہوا تو وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے اعلان کیاکہ وفاق تنخواہوں اور پنشن میں جتنا اضافہ کرے گا، پنجاب میں بھی اتنا ہی کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ خواتین و حضرات ٹی وی اسکرینوں کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئے کہ وزیر اعظم جناب شہباز شریف صاحب نے حال ہی میں ایران امریکہ جنگ، بلکہ تیسری عالمی جنگ رکوائی ہے اور میڈیا میں شائع ہونے والے حکومتی ترجمانوں کے بیانات کے مطابق معیشت بھی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے، اس لیے کوئی بہت بڑا اضافہ ہوگا۔ لیکن جب وزیر خزانہ صاحب کی بجٹ تقریر سنی تو نہ صرف حاضر سروس بلکہ ریٹائرڈ ملازمین کے ارمانوں پر بھی اوس پڑ گئی۔ ریٹائرڈ ملازمین سارا سال جون کے مہینے کا انتظار کرتے ہیں کہ بجٹ میں پنشن میں اضافے کی نوید سنائی جائے گی، ہر سال چیتے کی رفتار سے بھاگتی مہنگائی کو تو حکومت لگام نہیں ڈال سکتی شاید تنخواہوں اور پنشن میں اس قدر اضافہ ہوجائے کہ انسان چند سانسیں ہی سکون کی خرید سکے۔ مگر یہ ہو نہ سکا۔وفاقی وزیر خزانہ کے مایوس کن بجٹ بھاشن کے بعد اب امید تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے وعدوں کو وفا کریں گی لیکن بقول غالب ’’ تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں صرف ساڑھے تین فیصد کا ’’خطیر‘‘ اضافہ کیا گیا۔ شاید پنجاب حکومت یہ سمجھتی ہے کہ تمام سرکاری ملازمین گریڈ اکیس سے ریٹائر ہوتے ہیں، جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی شوفرڈ گاڑیاں، مفت بجلی اور پٹرول جیسی عیاشیاں نصیب ہوتی ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے اکثر ریٹائرڈ ملازمین گریڈ 14 تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ اکثر ایسے ہیں جو بنیادی اسکیل ایک سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ درجنوں ایسے ملازمین ہیں جن کی بیٹیاں بیوہ یا مطلقہ ہو کر باپ کی چوکھٹ پر بیٹھی ہیں، اور نواسوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہے، کسی کا جوان بیٹا حادثے میں معذور ہو کر بوڑھے باپ کے کندھوں کا بوجھ بن چکا ہے۔کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہے اور ہر مہینے یہ سوچتا ہے کہ دوا خریدوں یا آٹا اور اوپر سے بجلی، گیس اور پٹرول کے بھاری بھر کم اخراجات۔ آئندہ بجٹ کیلئے وفاق نے پنشن میں سات فیصد، خیبر پختونخوا و بلوچستان سات فیصد، سندھ نے آٹھ فیصد جبکہ پنجاب میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا ہے۔ وفاق اور پنجاب میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے لیکن مراعات میں اس قدر تفاوت کہ الاماں!ایک اور بہت اہم بات یہ کہ فروری 2024کے الیکشن کے چند ماہ بعد یعنی دسمبر 24 میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں تقریباََ 426فیصد اضافہ کیا گیا۔ پہلے فی رکن تنخواہ چھہتر ہزار تھی جو بیک جنبش قلم چار لاکھ روپے کر دی گئی۔ اسی طرح جنوری 2025ءمیں اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ اسی ہزار سے بڑھا کر پانچ لاکھ انیس ہزار کر دی گئی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اس اضافے پر نہ کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی کسی پارلیمانی کمیٹی میں یہ بات زیر بحث آئی۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ فیڈرل اور دیگر صوبوں کے ملازمین زیادہ مستحق ہیں اور ان کی حکومتیں بھی امیر ہیں۔ جبکہ پنجاب کے ریٹائرڈ ملازمین بہت مالدار ہیں اور حکومت خود خط غربت سے نیچے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ قومی و پنجاب اسمبلی اور سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اراکین کی تعداد381 ہے لیکن کسی ایک بھی رکن نے ریٹائرڈ ملازمین کے حق پر اس ڈاکے کیخلاف آواز بلند نہیں کی۔ ایک اور امر توجہ کا متقاضی ہے کہ دیگر ممالک میں حکومت نے کچھ فنڈز بچت اور منافع بخش اسکیموں میں انویسٹ کیے ہوتے ہیں تاکہ اس پر منافع حاصل کر کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ہر سال خاطر خواہ اضافہ کیاجائے تاکہ صرف پنشن پر گزارہ کرنیوالے افراد کو مہنگائی کے تناسب سے زیادہ مالی بوجھ نہ برداشت کرنا پڑے۔ اکاؤنٹینٹ جنرل پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پنجاب حکومت مختلف درجوں کے پانچ لاکھ 65 ہزار 9سو 11ملازمین کو پنشن ادا کر رہی ہے اور ان میں سے اکثریت گریڈ ایک تا 14کے ملازمین کی ہے، سو یہ اندازہ لگانے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ ماہانہ چند ہزا ر پنشن حاصل کرنیوالے بزرگ خواتین و حضرات کی پنشن میں جب ساڑھے تین فیصد کا اضافہ ہو گا تو وہ مزید کتنے سو روپے ہو سکتا ہے۔جناب وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ! گزارش اتنی ہے کہ یہ پنشن ریٹائرڈ ملازمین کسی بھیک یا خیراتی فنڈ سے نہیں لیتے۔ ملازمین نے اپنی عمر کے حسین ترین سال اس ملک اور قوم کی خدمت کیلئے وقف کیے ہوتے ہیں۔ آپ اپنے ہی وعدے پر عمل کیجئے۔ سرکاری ملازمین کو ان کا حق دیجئے۔
(صاحب تحریر سابق ڈائریکٹر جنرل آرکائیوز اینڈ لائبریرز ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب ہیں)