• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ہمیشہ سے بیٹیوں کے بارے میں خوش گمان رہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ بیٹیاں بیٹوں کی نسبت اپنے والدین سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔بیٹیوں کی اپنے والدین سے محبت دیکھتے ہوئے میں نے بیٹیوں پر ایک کتاب بھی لکھی۔اس کی کہانی پھر کبھی سہی۔سر دست ہمیں آپ کو یہ بتانا ہے کہ روزنامہ جنگ کے نامور کالم نگار،منفرد براڈ کاسٹر ، افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، صحافی اور مترجم رضا علی عابدی بہت زیادہ علیل ہیں۔رضا علی عابدی کی صحت کے بارے میں ان کی بیٹی مونا نے ان کے احباب کے لیے ایک پیغام میں لکھا’’ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ اس وقت میں لندن میں اپنے والد کے ساتھ ہوں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر بہت خوش ہوں۔فی الحال ان کا خود فیس بک پر کچھ پوسٹ کرنے کا دل نہیں چاہتا، البتہ وہ دوسروں کی پوسٹس شوق سے دیکھ رہے ہیں اور انہیں پڑھ اور سن بھی رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں بھی ان کے اکاؤنٹ سے کچھ پوسٹ نہیں کر پا رہی۔کیا آپ ان کے چاہنے والوں سے، اگر وہ چاہیں، یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے لیے ایک مختصر سی ویڈیو ریکارڈ کر کے بھیجیں تاکہ اسے فیس بک پر اپ لوڈ کیا جا سکے اور وہ اسے دیکھ اور سن سکیں؟فی الحال وہ کسی کو جواب نہیں دے سکیں گے، لیکن انہیں دوسروں کی خبریں سننا بہت اچھا لگے گامثلاً وہ آج کل کیا کر رہے ہیں، کون سی بات انہیں خوشی دے رہی ہے، وہ کہاں ہیں، کون سے گانے یا موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وغیرہ۔وہ اس وقت دوسروں کی باتیں اور خبریں سن کر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح وہ اپنے چاہنے والوں سے ایک خوبصورت تعلق اور قربت کا احساس بھی برقرار رکھ سکیں گے۔‘‘بیٹی کی طرف سے ایک باپ کے لیے اتنی خوبصورت تحریر کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ویسے بھی عابدی صاحب کی لکھت میں شستہ، نفیس اور کلاسیکل رنگ دکھائی دیتا ہے۔ جس میں ماضی کی تہذیبی یادوں کا دل نشین بیان،تاریخ اور ثقافت کا امتزاج،کہیں پر ہلکا طنز ،شگفتگی اور کہیں گہرا انسانی احساس۔یہ سب ان کے طرز نگارش کی خوبیاں ہیں۔جو قاری کوان کے قریب رکھتی ہیں۔رضا علی عابدی کا صرف قلم نہیں بلکہ ان کی آواز اور لہجے نے برسوں اردو سننے والوں پر حکمرانی کی۔

سو آج کا یہ محبت نامہ رضا علی عابدی کے در دل پر دستک کے طور پر لیا جائے۔اس کی وجہ یہ ہے اپریل 1994 ءکولاہور سے سنگ میل پبلیکیشنز کے نیاز احمد کا مجھے فون آیا۔اور کہنے لگے اپریل کے دوسرے ہفتے بی بی سی لندن سے رضا علی عابدی آپ کے پاس آئیں گے۔اور آپ نے ان کی نئی کتاب جرنیلی سڑک کی تعارفی تقریب کروانی ہے۔کوشش کیجئے گا کہ کم سے کم لوگوں کو اس تقریب میں آپ کی طرف سے دعوت نامہ جائے۔کیونکہ جیسے ہی آپ ملتان میں تعارفی تقریب کی تاریخ طے کر دیں گے۔رضا علی عابدی بی بی سی ریڈیو سے اپنے پروگرام میں آپ کے دیے ہوئے شیڈول کو اناؤنس کر دیں گے اور اپنے سامعین کو بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دے دیں گے۔

کسی بھی تقریب کے کامیاب انعقاد کے لیے حاضرین کا ہونا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔لیکن رضا علی عابدی کی کتاب جرنیلی سڑک کی تعارفی تقریب میں حاضرین کی شمولیت روکنا ہمارے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ اور پھر میں نے نیاز صاحب کو فون کر کے اطلاع دی کہ رضا علی عابدی صاحب کا پروگرام ہم 15 اپریل 1994ءکو ملتان آرٹس کونسل کے ہال میں کریں گے۔نیاز صاحب نے کہا کہ میں تھوڑی دیر میں آپ کو پروگرام کی کنفرمیشن کرتا ہوں۔اسی دن شام کو نیاز صاحب نے فون کر کے بتایا۔ ہم 15 اپریل کو پروگرام کرنے جا رہے ہیں۔

ملتان میں انکی بھرپور پذیرائی ہوئی اور پروگرام کے اگلے دن ہم نے سوچا کہ رضا علی عابدی کو کوئی روایتی ناشتہ کرواتے ہیں۔ملتان کینٹ کے مین بازار میں تازہ نہاری اور گرم گرم روٹی سے انہوں نے ناشتہ کیا۔پھر ہم لسی پینے کیلئے مشہور زمانہ دلمیر والوں کے پاس پہنچ گئے۔جیسے ہی میں نے لسی کا آرڈر کیا۔تو عابدی صاحب نے کہالسی میں چینی کم ڈالیے گا۔

یہ سنتے ہی بزرگ دکاندار نے اپنے ملازم کو کہااس سویرے سویرے بی بی سی کنے آن کر چھڈیا اے؟

میں نے دکاندار سے کہا،آپ کا ریڈیو کسی نے آن نہیں کیا۔بی بی سی لندن سے رضا علی عابدی آپ کی دکان پر موجود ہیں۔دکاندار کھڑا ہو گیا۔اور کہنے لگا آپ نے میری عزت افزائی کی۔میرے پاس لسی پینے آگئے۔ میری تو عمر بیت گئی ہے بی بی سی کو سنتے ہوئے۔

رضا علی عابدی سے پہلی ملاقات اتنی شاندار رہی۔کہ تب سے لے کر اب تک وہ درجنوں مرتبہ ملتان آئے۔تو میں ہمیشہ ان کا میزبان رہا۔ہر سال دسمبر میں جب کراچی میں آ رٹ کونسل کے زیر اہتمام لٹریری فیسٹیول ہوتا ہے۔تو ہمیں ان کا انتظار رہتا ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے وہ پاکستان نہیں آئے۔جب سے ان کی شریک حیات ماہ طلعت کا انتقال ہوا تو وہ سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔طبیعت بھی خراب،لیکن اب ان کا قلم بھی رک گیا ہے۔

یو پی کے چھوٹے سے شہر روڑکی میں پیدا ہونے والے رضا علی عابدی 1950ءمیں کراچی آئے۔تعلیم مکمل کی۔ اس دوران بچوں کی کہانیاں اور کئی کتابیں لکھیں۔1957ءمیں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے۔پندرہ سال صحافت میں گزارے۔اس کے بعد بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستہ ہوئے۔جہاں سے کئی مقبول پروگرام نشر کیے۔ان کی مقبول کتابوں میں کتب خانہ ،جرنیلی سڑک، شیر دریا ،کتابیں اپنے آباء کی،اپنی آواز،حضرت علی کی تقریریں،اخبار کی راتیں، ریڈیو کے دن،ریل کہانی،بیگم سمرو،دائرہ مکمل ہوتا ہے،نغمہ گر ،جہازی بھائی ،ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم اور بچوں کے لیے درجنوں کتب شامل ہیں۔بی بی سی ریڈیو سے ان کے پروگرام شاہین کلب کا ایک کردار سدھو بھائی بھی بہت مقبول ہوا۔ پھرافسانہ ہو یا تاریخ،سفر نامے کا میدان ہو یا تحقیق کا سفر،بچوں کا ادب ہو یا تنقید،ہفتہ وار کالم میں ادب کی چاشنی۔ مطلب یہ ہے ان تمام شعبوں میں رضا علی عابدی کی شناخت الگ سے ہی ہے۔گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا،گزر جانے والے لوٹ کر نہیں آتے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ رضا علی عابدی صحافتی دنیا کے لوگ اور وابستگانِ اردو ادب آپکو کبھی بھول نہیں سکتے،آپ احساسوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔اردو زبان کو جن پر فخر ہے اور آواز کی شائستگی ان کی پہچان ۔اردو کے قاری کو مشکل میں ڈالے بغیر تحریر سے ہم آہنگ بنا دینا ان کا ہنر ۔خبر پڑھتے ہوئے سامعین کو سر درد سے بچائے رکھنا صرف ان کو آتا ہے۔

تازہ ترین