• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز خارج کردی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمانی تجویز مسترد کرتے ہوئے عمانی راستے کے ایک حصے پر کنٹرول کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے انتظام سے متعلق تجاویز کے تبادلے پر مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ تہران نے عمان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں بحری راستوں کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کرنے کی بات کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اس کے بجائے تجویز دی ہے کہ آبنائے ہرمز کے اپنی جانب والے حصے میں بحری آمد و رفت کا انتظام تہران کرے، جبکہ مخالف سمت کے راستے کے ایک حصے کا انتظام مسقط کے پاس ہو، تاہم مکمل راستہ عمان کے اختیار میں نہ ہو۔

غریب آبادی نے کہا کہ عمان نے ہمیں تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز میں ایک راستہ قائم کیا جائے، جس کا 50 فیصد حصہ ہماری علاقائی حدود میں اور 50 فیصد حصہ عمانی علاقائی پانیوں میں ہو۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کا راستہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ ایرانی پانیوں سے داخل ہوں اور عمانی علاقائی پانیوں سے نکلیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمان کے لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ روٹ کا ایک حصہ ہماری علاقائی حدود میں ہو، جبکہ جو حصہ عمانی پانیوں سے گزرتا ہے، اس کا انتظام بھی ہمارے کنٹرول میں ہو۔

غریب آبادی نے خبردار کیا کہ اگر عمان نے اس منصوبے کو مسترد کیا تو آبنائے ہرمز بدستور بند رہے گی۔

علاوہ ازیں ایک ایرانی عہدیدار نے خبرایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جنوبی راستے جہازوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامات کا فیصلہ صرف ایران اور عمان اپنے اپنے حصوں کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا مکمل اندرونی راستہ اور بیرونی راستے کا ایک حصہ ایرانی کنٹرول میں ہونا چاہیے۔

اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران عمان کو ایک قابلِ قدر ہمسایہ سمجھتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں عمان کا کنٹرول اس کے حصے کے مطابق ہونا چاہیے۔


بین الاقوامی خبریں سے مزید