میں نے گزشتہ کالم ’’ایک ارب{ OL 8 } ڈالر کا دھوکہ‘‘ میں یہ دلیل دی تھی کہ پاکستان اپنی ڈیجیٹل معیشت کا دفاع ان مہارتوں سے چمٹ کر نہیں کر سکتا جنہیں مصنوعی ذہانت ختم کر رہی ہے۔ وہ ایک وارننگ تھی۔ اس سے مشکل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام اگلی افرادی قوت تیار کر رہا ہے، یا وہ اب بھی لوگوں کو ایک ایسی مارکیٹ کیلئے سند دے رہا ہے جو اب موجود ہی نہیں۔ ایمانداری سے اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کیلئے تیار نسل کو ایسے نظام سے فارغ التحصیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے پچھلی نسل کو پڑھنا تک نہیں سکھایا۔اندازاً دو کروڑ اکاون لاکھ بچے، جنکی عمریں پانچ سے سولہ سال کے درمیان ہیں، سکول سے باہر ہیں۔ جو بچے سکول جاتے بھی ہیں وہ کچھ خاص سیکھ نہیں رہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق تیسری کلاس کے صرف بارہ اعشاریہ چار فیصد بچے اردو یا سندھی میں ایک سادہ کہانی پڑھ سکے۔ صرف تیرہ اعشاریہ آٹھ فیصد دوسری کلاس کی سطح کا انگریزی جملہ پڑھ سکے۔ صرف نو اعشاریہ ایک فیصد بنیادی تقسیم کر سکے۔پانچویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے صرف نصف بچوں میں یہ بنیادی صلاحیتیں موجود تھیں۔ بلوچستان میں ہزاروں سکول غیر فعال ہیں، اور انکی بھاری اکثریت میں بجلی موجود نہیں، جو کسی بھی ڈیجیٹل تعلیم کیلئے ایک براہ راست رکاوٹ ہے، چاہے وہ مصنوعی ذہانت ہو یا کچھ اور۔ہمارے اخراجات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ پاکستان نے رواں مالی سال تعلیم پر جی ڈی پی کا تقریباً صفر اعشاریہ آٹھ فیصد خرچ کیا، جو تقریباً نو سو باسٹھ ارب روپے بنتا ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار چار سے چھ فیصد ہے۔ چاروں صوبوں نے اگلے مالی سال کیلئے تعلیم کیلئے تقریباً ایک اعشاریہ نو کھرب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ ایک بڑی رقم ہے، لیکن اس میں کہیں بھی مصنوعی ذہانت کی خواندگی یا اساتذہ اور طلبہ کی مہارت میں اضافے کیلئےکوئی نظر آنے والی بجٹ لائن موجود نہیں۔ وہ بچہ جو سمجھ کر پڑھ ہی نہیں سکتا، اسے مصنوعی ذہانت کا کورس تھما کر مستقبل کیلئے تیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی بھی چیز تعمیر کرنے سے پہلے بنیاد کا موجود ہونا لازمی ہے۔ہم یہ مسئلہ حل نہیں کر رہے، اسے مزید گمبھیر بنا رہے ہیں۔ پاکستان ہر سال تقریباً آٹھ لاکھ طلبہ فارغ التحصیل کرتا ہے، اور تعلیمیافتہ نوجوانوں میں اکتیس فیصد سے زائد بے روزگار ہیں۔ ہمارے پاس ڈگریوں کی کمی نہیں، ہمارے پاس اس صلاحیت کی کمی ہے جسکی سند دینے کیلئے ڈگری بنی تھی۔ یاد رکھیں، ہماری صلاحیت اب صرف ملکی سطح پر نہیں بلکہ ریموٹ ورک اور مصنوعی ذہانت کے دور میں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر رہی ہے۔
اب اس پہلے سے ٹوٹے ہوئے نظام پر مصنوعی ذہانت کا اضافہ کر دیجیے۔ یاد رکھی گئی معلومات کی قدر ہر جگہ ختم ہو رہی ہے، صرف یہاں نہیں۔ عالمی سوال اب یہ نہیں رہا کہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت استعمال کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیسے یقینی بنائیں کہ وہ اسے استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ سیکھ رہے ہیں۔دیگر ممالک پہلے ہی قاعدہ کتاب دوبارہ لکھنا شروع کر چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی اسے کھولا تک نہیں۔ یہ کوئی مفروضاتی حل نہیں، حقیقی نظام پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے تحت سکول اور جامعہ کی شکل کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں، اور نتائج سبق آموز ہیں۔ بھارت نے سب سے پہلے نصاب پر کام کیا، اور اس پیمانے پر جسکی کسی اور نے کوشش نہیں کی۔ اگلے تعلیمی سال سے بھارت کے سب سے بڑے سکول بورڈ نے قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق تیسری کلاس سے آگے مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹیشنل تھنکنگ کو لازمی قرار دے دیا۔چین نے مصنوعی ذہانت کو براہ راست سکول کے نصاب میں شامل کیا۔ متحدہ عرب امارات نے اسے براہ راست قومی معاشی منصوبہ بندی سے جوڑ دیا۔ مصنوعی ذہانت ہر سرکاری سکول میں، کنڈرگارٹن سے لے کر بارہویں جماعت تک، لازمی مضمون بن گئی، جسے تقریباً ایک ہزار خصوصی تربیت یافتہ اساتذہ پڑھاتے ہیں۔تینوں مثالوں میں طرزِ عمل ایک جیسا ہے۔ جن نظاموں نے حقیقی پیشرفت کی، انہوں نے یہ بدلا کہ وہ کیا پڑھاتے اور کیسے جانچتے ہیں، اور کچھ بھی لازمی قرار دینےسے پہلےاپنےاساتذہ کو تربیت دی۔ بھارت کی مثال ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ وہ ہمارا انفراسٹرکچر کا خلا، ہمارا پیمانہ اور ہماری امتحانی ثقافت رکھتا ہے، اور اس نے فیصلہ کیا کہ خلا انتظار کی وجہ نہیں۔مسئلے کے مقابلے میں ہمارا پورا قومی ردعمل سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔ حکومت نے کچھ اقدام کیے ہیں، مگر مطلوبہ پیمانے پر نہیں۔ ایک وفاقی ہنر مندی کے پروگرام نے مجموعی طور پر399350 نوجوانوں کو تربیت دی ہے، جن میں سے صرف 36369ویب اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے اعلیٰ تکنیکی شعبوں میں ہیں۔ اسے سالانہ8 لاکھ فارغ التحصیل طلبہ اور پہلے سے مصنوعی ذہانت کے خطرے سے دوچار30 لاکھ فری لانسرز کے مقابلے میں رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ تصور کا نہیں، پیمانے کا ہے۔شارٹ کورسز کسی قومی صلاحیت کے سلسلے کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو سکول سے یونیورسٹی تک اور موجودہ افرادی قوت تک مسلسل چلتا رہے۔ سکول کی سطح پر، ہر بچے کو بنیادی مصنوعی ذہانت کی خواندگی دی جائے، یہ کیا ہے، کہاں ناکام ہوتی ہے، اپنے ڈیٹا کی حفاظت کیسے کی جائے، لیکن یہ تب ہی جب بنیادی پڑھنے اور ریاضی کی صلاحیتیں پہلے سے محفوظ ہو چکی ہوں۔ ترتیب اہم ہے۔ بنیاد کو نظرانداز کرنا وقت نہیں بچاتا، یہ وقت ضائع کرتا ہے۔یونیورسٹی کی سطح پر صرف نصاب نہیں بلکہ امتحان کا طریقہ بھی بدلنا ہوگا۔ کلاس میں کیس سٹڈیز، زیر نگرانی عملی کام، اور جمع کرائے گئے اسائنمنٹس کے زبانی دفاع کی طرف بڑھنا ہوگا۔ وہ طالبعلم جو یہ نہیں بتا سکتا کہ اسکا جواب کیوں درست ہے، وہ اس کا مالک نہیں، چاہے وہ جواب کسی نے بھی یا کسی بھی چیز نے تیار کیا ہو۔ ڈگریوں کے ساتھ پورٹ فولیو اور عملی طور پر ثابت شدہ کام بھی ہونا چاہیے، صرف کاغذی سند نہیں۔موجودہ افرادی قوت کیلئے، مصنوعی ذہانت سے متاثرہ شعبوں میں کام کرنیوالے فری لانسرز کو مصنوعی ذہانت سے متعلقہ کام میں ایک فنڈڈ اور واضح راستے کی ضرورت ہے، تشخیص، ٹیسٹنگ اور شعبہ وار مخصوص مصنوعی ذہانت خدمات جیسے کاموں میں۔ ہر کسی کو مصنوعی ذہانت انجینئر بننے کی ضرورت نہیں۔ ہر کسی کو اپنے موجودہ کام میں مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے۔فری لانس معیشت نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ کل کی مہارتوں پر تعمیر کی گئی کامیابی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی وہی وارننگ ہے، بس ایک درجہ اوپر۔ ہم داخلوں، ڈگریوں اور جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس کو گنتے رہ سکتے ہیں، یا ہم واحد سوال پوچھ سکتے ہیں جو اہم ہے۔ کیا ہم لوگوں کو پانچ سال بعد موجود کام کیلئے تیار کر رہے ہیں، یا اس کام کیلئے جو پہلے ہی نفع بخش ہونا بند ہو چکا؟ ہمارا پچھلا ایک ارب ڈالر اس صلاحیت نے کمایا جو نظام کے باوجود کامیاب ہوئی۔ اگلا ایک ارب ڈالر اس پر منحصر ہے کہ کیا ہم آخرکار ایک ایسا نظام تعمیر کرتے ہیں جسکی وجہ سے ہمیں کامیابی ملے۔