پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اس جماعت نے پاکستانی سیاست میں بتدریج اپنی جگہ بنائی اور بالآخر ایک ایسی سیاسی قوت بن گئی جسے نظرانداز کرنا کسی بھی سیاسی تجزیے کیلئے ممکن نہیں۔ عمران خان کی بین الاقوامی شہرت، کرکٹ ہیرو کی حیثیت، ان کی سلیبرٹی شخصیت اور پاکستانی سیاست کے روایتی انداز سے مختلف طرزِ سیاست نے تحریکِ انصاف کو ایک غیر معمولی عوامی مقبولیت عطا کی۔
گزشتہ عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں مختلف حلقوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ تمام سیاسی و انتظامی رکاوٹوں کے باوجود عوامی رجحان تحریکِ انصاف کے حق میں نمایاں تھا۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف آخر کن قومی، سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی مسائل کو ایڈریس کرتی ہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل شناخت اس کی مقبولیت نہیں بلکہ اس کا نظریہ، منشور، پروگرام اور ریاستی مسائل کے حل کیلئے اس کی عملی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ اپنے قیام کے پچیس برس سے زیادہ عرصہ میں اس جماعت نے کئی سیاسی مراحل طے کیے، حکومت بنائی، اقتدار سے محروم ہوئی، احتجاج کیے، تحریکیں چلائیں اور ایک بڑی عوامی قوت کے طور پر اپنا وجود منوایا۔لیکن سیاسی جماعتیں نعروں سے نہیں، پروگراموں سے تاریخ بناتی ہیں۔’’ایک کروڑ نوکریاں‘‘، ’’پچاس لاکھ گھر‘‘، ’’نیا پاکستان‘‘، ’’کرپشن کا مکمل خاتمہ‘‘، ’’ریاستِ مدینہ‘‘ اور ’’تبدیلی‘‘ جیسے نعرے عوامی سطح پر غیر معمولی کشش رکھتے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ ان نعروں کو عملی ریاستی پروگرام میں کس حد تک تبدیل کیا گیا؟یہاں اصل مسئلہ عمران خان کی شخصیت نہیں بلکہ شخصیت پرستی کی سیاست ہے۔ اس جماعت کی شناخت مکمل طور پر عمران خان کی شخصیت ہے۔آج پاکستان تحریکِ انصاف کے بڑے اجتماعات، احتجاجی تحریکیں، سوشل میڈیا مہمات اور سیاسی بیانیہ بڑی حد تک ایک ہی سوال کے گرد گھومتا ہے:عمران خان کہاں ہیں؟یہ سوال اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، مگر پاکستان کے کروڑوں عوام کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں ہے کہ عمران خان کہاں ہیں۔ ان کا سوال یہ بھی ہےکہ ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہے؟ نوجوانوں کو روزگار کہاں سے ملے گا؟وغیرہ وغیرہ۔
پاکستان اس وقت بے شمار بحرانوں میں گھرا ہے۔ بڑھتی آبادی، کمزور معیشت، بے روزگاری، دہشت گردی، انتہا پسندی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، عدلیہ پر عوام کا کم ہوتااعتماد، اداروں کی کمزوری، پولیس کا غیر مؤثر نظام، ناقص تعلیمی ڈھانچہ، صحت کے مسائل، پانی کا بحران، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی قلت اور نوجوانوں کے مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال جیسے مسائل ہمارے سامنے موجود ہیں۔یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کی پیداوار نہیں۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ان مسائل سے مکمل طور پر بری نہیں ہو سکتیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف، جو ایک بڑی عوامی قوت ہے، ان مسائل کے بارے میں اپنا جامع، واضح اور قابلِ عمل پروگرام کب پیش کرے گی؟محض یہ کہنا کافی نہیں کہ باقی سب چور ہیں اور ہم ایماندار ۔ ہمیں اقتدار مل جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔پاکستان کی معیشت کا بحران صرف قرضوں کا بحران نہیں۔ یہ ایک ساختی بحران ہے۔ ہماری معیشت درآمدات پر انحصار، کمزور صنعتی بنیاد، محدود برآمدات، کم ٹیکس وصولی، توانائی کے مسائل، زرعی پسماندگی، آبادی کے دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ ان سب مسائل کو کیسے حل کرے گی۔اسی طرح عمران خان کو مقبول سیاسی رہنما تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن کسی بھی مقبول رہنما کو خود بخود ایک نظریاتی مفکر، انقلابی رہنما یا قومی نجات دہندہ قرار دینا ایک الگ معاملہ ہے۔پاکستان کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کا حل کسی ایک فرد کے پاس نہیں ہو سکتا۔
بدقسمتی سے یہ مسئلہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف تک محدود نہیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں شخصیت پرستی، خاندان پرستی، جذباتی نعروں اور اقتدار کے حصول کی سیاست میں گرفتار ہیں۔پاکستانی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی نعروں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ کبھی ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘، کبھی ’’اسلامی نظام‘‘، کبھی ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘، کبھی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘، کبھی ’’نیا پاکستان‘‘ اور کبھی ’’تبدیلی‘‘۔مگر عوام کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کہاں آئی؟
آج بھی عام آدمی روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور تحفظ کیلئے پریشان ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر بے روزگار ہیں۔ہم گزشتہ کئی برسوں سے ایک ایسے شور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں قومی مسائل کی اصل آواز دب گئی ہے۔ایسے میںپاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت کو محض سازش، میڈیا، سوشل میڈیا یا کسی ایک شخصیت کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس مقبولیت کے پیچھے عوام کی مایوسی، روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری، نظام سے شکایات اور تبدیلی کی خواہش بھی موجود ہے۔
عوام کسی جماعت کو اقتدار دے سکتے ہیں، مگر اقتدار کو کامیابی میں تبدیل کرنا ایک الگ صلاحیت ہے۔ احتجاج کرنا آسان ہے، حکومت چلانا مشکل۔ مخالفین پر الزام لگانا آسان ہے، معیشت سنبھالنا مشکل۔ نعرہ لگانا آسان ہے، ادارہ بنانا مشکل۔ سوشل میڈیا پر مقبول ہونا آسان ہے، مگر ریاست کے پیچیدہ مسائل کا حل پیش کرنا مشکل ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو اگر واقعی ایک قومی سیاسی جماعت بننا ہے تو اسے عمران خان کی شخصیت سے آگے بڑھ کر پاکستان کے مسائل پر بات کرنا ہوگی۔محض ’’چور چور‘‘ کا نعرہ اب کافی نہیں۔
پاکستان کو ایسی قیادت چاہیے جو عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرے۔ پاکستان تحریکِ انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف اقتدار حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ریاست چلانے، ادارے بنانے، معیشت سنبھالنے اور قوم کو مستقبل دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔