پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے اپنی حکومت بنائی اور ان کا وزیر اعلیٰ منتخب ہوا۔ چونکہ جون کے مہینے میں بجٹ پیش ہونا تھا لیکن اسی دوران اسمبلی کے الیکشن کی وجہ سے بجٹ تیرہ جولائی کو پیش کیا گیا۔ یہ بجٹ اس نئی حکومت کا نہیں ہے لہٰذا اس بجٹ میں حکومت کی ترجیحات یا خواہشات شامل حال نہیں ۔ چونکہ یہ ایک قانونی تقاضا تھا اس لئے پہلے سے بنا بنایا صرف تین ماہ کا بجٹ رسماً پیش کیا گیا ہے لہٰذا اس پر تبصرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نئی حکومت کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ ہیں اور بطور صوبائی صدر کے پارٹی کی فعالیت کیلئے بہت سرگرم رہے۔چنانچہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہونے کے باوجود وہ گلگت بلتستان کا الیکشن جیت گئے۔ وزیر اعلیٰ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو اب ایک پر خارراستہ طے کرنا ہے اور اس آبلہ پائی کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے یہی ووٹرز کی خواہش بھی ہے۔ 2009 کے بعد پیپلز پارٹی کو دوسری بار گلگت بلتستان میں حکومت ملی ہے اور عوامی مینڈیٹ کا تقاضا ہے کہ کچھ ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیںکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
الیکشن کیلئے امجد حسین نے تین اہم بنیادی مقاصد (Objectives) کو اپنی سیاسی مہم کا حصہ بنایا تھا اور انہی نکات کے اردگرد اپنی پارٹی کا بیانیہ بھی تشکیل دیا۔ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار،یہ تین بنیادی عناصر اپنی ترجیحات کا بیانیہ بنا کر پیپلز پارٹی نے الیکشن مہم شروع کی اور عوام نے بھی اسے تائید سے لاد دیا۔ اب آئیں ان تینوں نکات کو گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔حق حاکمیت کا مطلب ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا حق ہے جوبنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ اب اس حوالے سے دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کی صورتحال ملک کےدیگر شہریوں سے مختلف ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق ملک کی جوآئینی سرحد بیان کی گئی ہے اس میں گلگت بلتستان شامل نہیں ۔ 1947-48کی جنگ آزادی کے بعد سے آج 75 سال گزرنے کے بعد بھی گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا ۔ 1999کے سپریم کورٹ آرڈر میں وفاق پاکستان یعنی مقننہ پر لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستان کے شہری تسلیم کرے اور ان کیلئے خود مختار مقامی حکومت کیلئے آئین میں ترمیم سمیت کوئی بھی قانون سازی کرے۔ غرض 2009 کے گڈ گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آرڈر تک مختلف فریم ورک کے تحت کچھ محدود انتظامی بندوبست سے کام چلایا گیا گوکہ اس میں گلگت بلتستان کے عوام کی ترجمانی شامل نہیں تھی۔ آج کل 2009 کے صدارتی آرڈر میں کچھ معمولی ترامیم کے بعد صدارتی آرڈر 18 کے تحت گلگت بلتستان کے معاملات چلائے جارہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا کہ انکی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندے بھی قومی اسمبلی میں ان کے دائیں بائیں موجود ہوں۔
اب وفاق پاکستان میں پیپلز پارٹی کی زبردست ساجھے داری ہے اور ملکی سطح کی کوئی بھی قانون سازی اس کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان کو حق حاکمیت دینےکیلئے دو گائیڈ لائن پہلے سے موجود ہیں جن میں تمام قانونی نکات پر بحث کی گئی ہے جسکے تحت گلگت بلتستان کو آئینی شناخت دی جاسکتی ہے۔سید منظور گیلانی آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رہے ہیں ۔ انہوں نے ’’آئینہ کشمیر‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ۔ انہوں نے ملکی قوانین ، مسئلہ کشمیر اور یو این کی قرادودں کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ تجویز دی کہ ریاست پاکستان آئین کی ایک آدھ شق میں معمولی تبدیلی کرکے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو پاکستان میں شامل کرسکتی ہے۔
نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے حوالے سے جو سرکاری کمیٹی بنائی گئی اس کے چیئرمین سرتاج عزیز تھے۔ اس کمیٹی کی سفارشات سرتاج عزیز کمیٹی کے نام سے معروف ہیں۔ اس کمیٹی نےکہا کہ تمام ملکی، آئینی اور بین الاقوامی معروضات کے مدنظر گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل کرنے میں کوئی قدغن نہیں ۔ تاہم بدقسمتی سے اس پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اب جبکہ وفاق میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی باہم شیر و شکر ہیں یہ امجد ایڈوکیٹ کی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ حق حاکمیت کے نعرے کو سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کب عملی جامہ کب پہناتے ہیں۔
دوسرا نکتہ حق ملکیت کاہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنی زمینوں کے حوالے سے خاصے فکرمند ہیں اور اپنا الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تین ایریاز جن میں گلگت، استور اور بلتستان شامل ہیں انکی زمینوں کا بندوبستی کام ڈوگرہ دور حکومت میں 1914ءسے لیکر 1916ءتک ہوا تھا۔ ہنزہ، نگر چھوٹی ریاستیں تھیں وہاں رواجی قوانین تھے جبکہ چلاس داریل تانگیر میں ایسا نہیں تھا ۔ عوام کا کہنا ہے کہ چراگاہیں اور غیر آباد زمینیں صدیوں سے عوامی ملکیت ہیں مگر بندوبستی کاغذات کی من پسند تشریح کر کے سرکار عوامی زمینوںپر خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ کررہی ہے۔ اسی طرح پہاڑوں میں موجود معدنیات اور منرلز کا حق ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس سے عوامی سطح پر بڑی بے چینی ہے ۔ سابق حکومت کے دوران امجد ایڈوکیٹ کی سربراہی میں قائم لینڈ ریفارمز کمیٹی نے زمینوں کی حقداری کے حوالے سے اسمبلی سے ایک بل پیش کیا تھا جسکے حسن و قبح پر آج تک بحث جاری ہے۔
امجد ایڈووکیٹ اب وزیر اعلیٰ ہیں اور حق ملکیت کا نعرہ انہی کا بلند کردہ ہے ایسے میں حق ملکیت کو اصل شکل میں عملی طور پر عوام کی طرف منتقل کرنا انکی بڑی خدمت ہوگی۔ اس کیلئے کسی ایک ضلع سے شروعات کی جائیں اور عوام کو قابل کاشت زمینوں کا حق ملکیت دینا شروع کیا جائے۔ اس کیلئے ایک ماڈل ایفاد (IFAD) اور اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹیوز (ETI-GB ) کی طرف سے آباد کردہ زمینوں کا ہے جسکے تحت کسانوں کو بنجر زمینیں آباد کرکے ملکیتی حق دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
جہاں تک حقِ روزگار کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر روزگار سرکاری محکمہ جاتی ملازمتوں کے ذریعے فراہم ہورہا ہے۔ اس ضمن میں وفاق سے جو بجٹ ملتا ہے اس کا بیشتر حصہ محکمانہ اخراجات اور تنخواہوں پر صرف ہوتا ہے جبکہ قلیل سا بجٹ ڈویلپمنٹ کیلئےبچتاہے۔ ایسے میں سرکاری ملازمتیں فراہم کرنا کار دشوار ہے جبکہ اسکل ڈویلپ کرکے روزگار کیلئے متبادل ذرائع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس حوالے سے برٹش کونسل ، giz، جرمن کارپوریشن، یورپین یونین، NAVTTC اور حکومت پاکستان کی مالی و تکنیکی مدد جو گلگت بلتستان کے حوالے سے لیبر ورک اسسمنٹ رپورٹ 2025ءچشم کشا نتائج پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی بہت اچھی ہونے کے باوجود نوجوانوں کو ووکیشنل ٹریننگ کے کم مواقع دستیاب ہیں۔ اس رپورٹ میں پوٹینشل مارکیٹ سیکٹرز کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سیکٹرز میں حق روزگار کی فراہمی کیلئے ہنرمند نوجوان اسکیم کا اجرا کرے اور مارکیٹ کی ضرورت اور روزگار کی فراہمی دونوں کو پورا کرنے کیلئے حکمتِ عملی وضع کرے۔