• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتوار کی شام جوتوں پر پالش ہوئی ، پیر کی صبح بیٹی کی چوٹیوں میں سرخ ربن بندھے۔ اسکول کے دفتر میں داخلے کا انٹرویو تھا۔ پرنسپل صاحبہ نے مسکرا کر انگریزی میں سوال کیا اور وہ شخص، جو منڈی میں پلک جھپکتے بھاؤ توڑ لیتا ہے، یکایک گنگ ہو گیا۔ بیٹی نے باپ کو پہلی بار ہارتے دیکھا — اور پہلی بار وہ دیوار بھی دیکھی جو نظر نہیں آتی، مگر ترقی کے ہر راستے میں کھڑی ہے۔ہماری روایت میں ایسی دیوار کی کوئی سند نہیں۔ خطبۂ حجۃ الوداع نے کسی عربی کو عجمی پر فضیلت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ہمارے ہاں زبان فقط ایک پہچان ہے، اور پہچان کو دیوار بنا لینا خود اپنی روایت سے بغاوت ہے ۔ پھر آنگن میں، بچوں اور رزق کے بیچ، اس زبان کی دیوار کا کیا مطلب؟ پہلے دیوار کا ثبوت ۔ مردم شماری (2023) گواہ ہے کہ ہر دس میں سے نو بچے اُسی مکتب میں بیٹھتے ہیں جہاں پہلی گھنٹی اجنبی زبان میں بجتی ہے۔اردو بمشکل گیارہ گھروں میں سے ایک کی مادری بولی ہے، انگریزی تقریباً کسی کی نہیں۔ دیوار کا محصول بھی معلوم ہے، مشرقی ہمسائے کی ایک تحقیق (اعظم، چِن اور پرکاش، 2013) بتاتی ہے کہ روانی سے انگریزی بولنے والا ملازم ہم پلہ ساتھی سے تقریباً ایک تہائی زیادہ کماتا ہے — یہی ہے وہ اضافی معاوضہ (premium) جس کا حساب محلے کے انگلش میڈیم اسکول کی فیس میں برسوں پہلے درج ہو چکا۔ اور سب سے اونچا پھاٹک ریاست کے اپنے ہاں،فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مطابق افسری کے امتحان میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ 'انگریزی مضمون کا پرچہ ہے۔

یہ دیوار ماں باپ کے خوف اور امید سے اینٹ در اینٹ چنی گئی ہے — جو چیز بکتی ہے، والدین وہی مانگتے ہیں۔یہ لالچ نہیں، اولاد کے رزق کا کھرا حساب ہے۔ مگر پڑھانے والا استاد بازار میں ہے ہی نہیں، سو بازار وہی بیچتا ہے جو اس کے پاس ہے، سائن بورڈ۔ باہر 'انگلش میڈیم اسکول لکھا ہے، اندر اردو اور رٹے ہوئے انگریزی فقرے۔ بچہ انگریزی تو کیا سیکھتا، اکثر کچھ بھی سیکھنے سے جاتا رہتا ہے۔

دیوار کا سب سے گہرا سایہ کمرۂ جماعت پر پڑتا ہے۔ 'ایسر  ASER کی رپورٹیں گواہ ہیں۔ پانچویں کے کم و بیش آدھے بچے دوسری جماعت کی کہانی کسی بھی زبان میں نہیں پڑھ پاتے ۔ چھ سو برس پہلے ابن خلدون نے مقدمے میں لکھا کہ زبان ایک ملکہ ہے، ہنر کی مانند مشق سے حاصل ہوتی ہے ، اور مشق ماں بولی سے بڑھ کر کہیں اور پختہ نہیں ہوتی۔ آج کی تحقیق اسی پر مہر لگاتی ہے۔کینیڈا کے ماہرِ تعلیم جیمز کمنز کہتے ہیں کہ پرائمری تعلیم کا آسان ترین راستہ ماں بولی ہی ہے۔ زبان کے اس مقدمے میں سب سے وقیع گواہی کیمرون سے آئی ہے، جہاں والٹر، لیٹن اور رام چندرن نے قرعہ اندازی سے کچھ اسکولوں میں ابتدائی تین جماعتوں کی تعلیم مقامی زبان '’کوم‘ میں رکھی اور باقی حسبِ معمول انگریزی میں پڑھاتے رہے — وہی نصاب ویسے ہی استاد، فرق صرف ذریعۂ تدریس کا ۔ تین برس بعد نتیجہ حیران کن تھا،کوم میں پڑھنے والے بچے ریاضی ہی میں نہیں خود انگریزی میں بھی انگریزی میڈیم کے بچوں سے نمایاں طور پر آگے نکل گئے۔ — اجنبی زبان میں پڑھانا انگریزی سیکھنے کا راستہ نہیں، رکاوٹ تھا۔ سبب سیدھا ہے،بچہ جو زبان سمجھتا ہے اسی میں سوچنا اور پڑھنا سیکھتا ہے، اور یہ ہنر پھر ہر زبان میں منتقل ہو جاتا ہے۔

دیوار کی بنیاد فرنگی نے رکھی۔ رعیت کے لیے دیسی زبانیں، حاکم کے لیے انگریزی ۔ میکالے کی 1835 والی یادداشت کا نسخہ سادہ تھا: ایک ترجمان طبقہ، حاکم اور محکوم کے بیچ کھڑا — خون اور رنگت میں ہندوستانی، مگر ذوق، رائے، اخلاق اور فہم میں انگریز۔ جن پر کبھی 'پڑھے فارسی بیچے تیل کا طعنہ تھا، انہوں نے وہی دیوار فرنگی اینٹوں سے دوبارہ اٹھا لی۔ مگر تاریخ کا سبق اور ہے۔بغداد کے بیت الحکمت میں یونان و ہند کا علم عربی میں ترجمہ کر کے اپنایا گیا۔ شاہ ولی اللّٰہ کے بیٹوں نے قرآن اردو میں منتقل کیا۔ کل جس پر فتوے اٹھے، آج وہ اجماع ہے۔ دستور نے 1973ءمیں اردو کو پندرہ برس میں سرکاری زبان بنانے کا حکم دیا ۔ دیوار کے انہدام کا وہ حکم بھی اُسی الماری میں دھرا ہے جہاں ہم نیک ارادے رکھا کرتے ہیں۔ سرکار ماں ہے اور ماں کی زبان سے بچے انجان ۔ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم۔

ذرا دیکھئے تو کہ انگریزی کی دیوار کے اُس پار کیا رہ گیا: نوے فیصد آبادی، نوے فیصد ذہانت، نوے فیصد خواب۔ ریاست اپنے افسر ، منصف اور پالیسی ساز اُسی دس فیصد سے چنتی ہے جو دیوار کے اندر پیدا ہوئے یا کسی نہ کسی طرح اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ باہر والوں کا ہنر ریاست تک نہیں پہنچتا، اور اندر جو طبقہ ذمہ داری سنبھالتا ہے اُن میں سے اکثر انگریزی میں رواں ہیں مگر سوادِ اعظم کی زبان سے شرماتے ہیں۔ ماہرِ عمرانیات بورڈیو اس طرز عمل کو موروثی جاگیر کہتا ہے، اور اسی کا دوسرا نام لسانی اشرافیت ہے۔ ایسی اشرافیت جو دسترخوان پر اگلی نسل کو منتقل کرنا آسان اور قیمتی اسی لیے کہ سب کے پاس نہیں ۔ یاد رہے، جو دیوار اکثریت کو باہر رکھے، وہ اندر والے کو بھی اجنبی کر دیتی ہے۔

چراغ کا کام روشنی ہے، دربانی نہیں۔زبان کا کام ملانا ہے، روکنا نہیں۔ دیوار گرانا آسان نہیں مگر ممکن ضرور ہے۔ پانچ ستون درکار ہیں۔ اول: کم از کم ابتدائی تین برس تدریس بچے کی مادری زبان میں ، اردو شروع سے بطور مضمون، اور انگریزی چھٹی سے بطور مضمون۔ دوئم: ہمارا اپنا بیت الحکمت، مکمل قومی قانونی اختیار کیساتھ، قائم ہو، مشاورتی نہیں بلکہ لازمی ۔ سوئم: جانچ پر بھرتی اور سالانہ تربیت سے ہر صوبے میں سرٹیفائیڈ اساتذہ کا کیڈر تیار ہو، الاؤنس ہر پانچ برس بعد ازسرِ نو جانچ سے مشروط۔ چہارم: ایک قومی سرٹیفیکیشن ایگزام تاکہ آجر ہنر دیکھے، نہ کہ اسکول کا نام یا بلیزر کا رنگ۔ پنجم: جب یہ چاروں ستون تیار ہو جائیں تو اردو (جوصحیح یا غلط اب ایک ثانوی مشترکہ زبان بن چکی ہے ) کالج و یونیورسٹی کی زبانِ تدریس بنے، اور ریاست اپنا در اپنی زبان کے لیے وا کرے۔ مقابلے کا امتحان کم از کم دو زبانوں میں، دفتری کام دستور کے مطابق۔

جاپان، ترکی اور ایران نے جب اپنی زبانوں کو سائنس کا حامل بنایا، تب مصنوعی ذہانت نہیں تھی۔ بیت الحکمت جیسے اداروں کو ہر اصطلاح خود گھڑنا پڑتی تھی۔ آج مصنوعی ذہانت کسی بھی سائنسی متن کو لمحوں میں قابلِ فہم بنا سکتی ہے، اور فری لانسنگ کی بڑھتی معیشت پہلے ہی ثابت کر رہی ہے کہ انگریزی کے ٹیڑھے لہجے کی گرفت اُتنی مضبوط نہیں رہی جتنی ایک نسل پہلے تھی۔ یہی ٹیکنالوجی وہ آلہ ہے جو زبان کی دیوار کو دربان نہیں بلکہ چراغ بنا سکتی ہے۔قرونِ وسطیٰ کا قلعہ یاد کیجیے ۔ بادشاہ اور اُس کے درباری فصیل کے اندر بستے، باہر کی رعایا سے لگان وصول کرتے، اور واپس فصیل کے اندر لوٹ جاتے نہ ادغام، نہ اشتراک۔ آج کا انگریزی دان طبقہ اُسی قلعے کا نیا وارث ہے، فرق صرف اتنا کہ فصیل اب چونے پتھر کی نہیں، بدیسی زبان کی ہے۔ حقیقی ترقی اُسی دن شروع ہوگی جس دن قلعے کی یہ منطق ٹوٹے گی۔

تازہ ترین