پاکستان کی برآمدات کا انحصار تاریخی طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے کی کارکردگی پر منحصر رہا ہے۔ اسی لئے جب ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آتی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کا انحصار قرضوں، ترسیلاتِ زر یا بیرونی امداد پر زیادہ ہے۔ دوسروں پر انحصار کی اس قومی عادت سے چھٹکارے کیلئے ضروری ہے کہ صنعتی ترقی، پیداواری صلاحیت اور برآمدی مسابقت کو بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے زبانی حد تک ہر حکومت برآمدات بڑھانے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن اس کیلئے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر کئے جاتے ہیں۔مالی سال 26-2025ء کی برآمدات کے اعدادو شمار اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں مجموعی طور پر صرف 0.26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ جون 2026ءکے ایک مہینے میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 26فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ شیئر کی حامل برآمدی صنعت کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے کن مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ موجودہ عالمی حالات یا برآمدی مصنوعات کی طلب میں کمی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب ملک کے اندر انڈسٹری کو درپیش وہ مسائل ہیں جنہوں نے برآمدی صنعتوں کی مسابقت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ان مسائل میں سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی بلند قیمتیں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں صنعتی صارفین کو بجلی اور گیس خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی قیمت پر فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ غیر یقینی سپلائی، لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش پیداوار کے تسلسل کو نہ صرف متاثر کرتی ہیں بلکہ اس کی لاگت بھی مزید بڑھا دیتی ہیں۔ اس طرح جب پاکستانی ایکسپورٹرز کو اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ پیداواری لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے تو پھر ان کے لئے عالمی مارکیٹ میں قیمت کے لحاظ سے مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ بینکوں سے حاصل کئے گئے قرضوں کے مالیاتی اخراجات ہیں۔ شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے برآمدی صنعتوں کیلئے سرمایہ حاصل کرنا مہنگا بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے ورکنگ کیپٹل کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس ریفنڈز اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں تاخیر صنعتوں کو درپیش سرمائے کی قلت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔اس حوالے سے پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کاروبار کرنے کی بلند قیمت، حکومت کی اعلان کردہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کو چلانے میں تاخیر اور کپاس کی پیداوار میں شدید کمی کو ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کپاس کی مقامی پیداوار تقریباََ ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں سے کم ہو کر 55لاکھ گانٹھوں پر آ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گرمی کا طویل موسم، پانی کی کمی اور کپاس کی کاشت کے علاقوں میں گنے کی کاشت ہے جسکی وجہ سے ملکی پیداوار اور صنعتی طلب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنے کیلئے کپاس کی درآمدات میں اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ، ایمپلائز اولڈ اویج بینفٹ، ورکرز ویلفیئر فنڈ، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ، پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن اور سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے لازمی کنٹری بیوشن سے برآمدی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ برآمدی صنعتوں کو ریلیف دینے کے لئے کچھ عرصے کے لئے ان ادائیگیوں سے مستثنی قرار دے کر ایمپلائز اولڈ اویج بینفٹ کے پاس جمع شدہ 700 ارب روپے کی رقم سے ورکرز کو علاج معالجے اور سماجی تحفظ کی خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح ٹیکس کا پیچیدہ نظام اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی بھی برآمدی صنعتوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے ،نئی سرمایہ کاری بھی جمود کا شکار ہوتی ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کامیاب برآمدی معیشت کیلئے صرف مراعات ہی ضروری نہیں ہوتی ہیں بلکہ پالیسیوں کا تسلسل بھی لازمی ہوتا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو کوئی انڈسٹری طویل المدت حکمت عملی بنا سکتی ہے اور نہ ہی برآمدات میں اضافے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ کاروباری دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ سرمایہ کار اسی ماحول میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں انہیں مستقبل کے بارے میں یقین ہو۔ اگر ہر چند ماہ بعد قواعد و ضوابط اور پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں گی تو پھر کوئی بھی کاروبار کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ علاوہ ازیں عالمی تجارتی حالات، علاقائی کشیدگی، افغانستان کے ساتھ تجارت میں تعطل، مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور نئی تجارتی پابندیاں پاکستانی برآمد کنندگان کیلئے اضافی چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ سب سے پہلے برآمدی صنعتوں کیلئے مسابقتی قیمت پر توانائی کی مستحکم فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ سستی بجلی اور گیس صرف رعایت نہیں بلکہ عالمی مسابقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں سرمائے کی قلت ختم کرنے کیلئے شرح سود میں کمی، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور سرمایہ کاری دوست مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھائی جائےتاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ محض اعلانات یا وقتی مراعات سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کیلئے مستقل، مربوط اور طویل المدت اصلاحات ضروری ہیں۔