پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اراکین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری اور مبینہ اغوا کے بیان سے اختلاف کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سے بدسلوکی کے معاملے پر اسمبلی میں کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ لاہور میں پیش آئے واقعہ کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ مذمتی قرارداد صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان میں پیش کی۔
قرارداد کے متن کے مطابق وزیراعلیٰ کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا، وزیراعلیٰ کو سیکیورٹی سے الگ کرکے بغیر سیکیورٹی کے چھوڑ دیا گیا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، منتخب نمائندے کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھا جائے۔
قرارداد کے متن کے مطابق منتخب وزیراعلیٰ کو اس انداز میں روکنا آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 25 کے منافی ہے۔ کسی صوبے کی پولیس کو منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا حق حاصل نہیں۔
ادھر اپنے بیان میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کابینہ سمیت لاہور میں سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے سرکاری اسپتالوں میں مریض اور لواحقین ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی مطالبات کے حق میں اور میڈیکل اسٹور ایسوسی ایشن کی ہڑتال جاری ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ خیبر پختونخوا عملی طور پر دو دن سے لاوارث ہے۔