• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے دنوں امریکہ کی 250ویں سالگرہ بڑے دھوم دھام سے منائی گئی۔ یاد رہے کہ 4جولائی 1776ء کو 13امریکی نوآبادیات نے برطانوی سلطنت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا اور 1788ء میں امریکہ کا آئین منظور کرتے ہوئے انہوں نے آزادی کے تحفظ اور طاقت کے ارتکاز کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کیا۔ جبکہ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں سلطنتیں، بادشاہتیں، نوآبادیاتی طاقتیں اور آمریتیں حکمران تھیں۔ ان حالات میں تمام انسانوں کو برابری کا تصور دینے ، انسانی آزادی اور عوام کے حقوق کی بات کرنا انتہائی انقلابی قدم تھا۔ امریکہ نے ابتدائی سو سالوں میں اپنی زیادہ تر توجہ معاشی ترقی اور مغرب کی جانب جغرافیائی توسیع جس میں میکسیکو کے پچاس فیصد سے زیادہ علاقے پر جنگوں اور معاہدوں کے ذریعے قبضہ کرنے پر مرکوز رکھی۔ 1823ء میں مونرو ڈاکٹرائن کے ذریعے امریکہ نے لاطینی امریکہ کو اپنے دائرہ اثر میں لے لیا اور یورپی طاقتوں کو خبردار کیا کہ اس خطے میں مزید نوآبادیاتی توسیع سے باز رہیں۔ 1881ء سے لے کر 1885ء کے درمیان غلامی اور نسل کشی کے مسئلے پر خانہ جنگی ہوئی، غلامی کے خاتمے کے باوجود نسلی امتیاز اور مساوی حقوق کی جدوجہد کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ ان تمام تر خلفشار کے باوجود امریکی سماج نے نہ صرف وقت کے تقاضوں سے خود کو مزین کیا بلکہ جمہوری روایتوں میں ایسا سازگار ماحول پیدا کیا کہ دنیا بھر سے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں یہاں آ کر آباد ہونے لگے۔

ہٹلر کی پالیسیوں کی وجہ سے جب یہودیوں کا قتل عام ہوا تو ذہین و سیاسی شعور رکھنے والے یہودی امریکہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے کہ 1932ء تک سائنس کے میدان میں جرمنی کے جیتے گئے نوبل انعامات میں سے تقریباََ ایک چوتھائی یہودیوں نے حاصل کیے تھے حالانکہ وہ جرمنی کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ تھے، ان میں سے بہت سارے سائنسدان نہ صرف امریکہ منتقل ہوئے بلکہ یہاں کے سائنسی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے۔ 1965ء کی امیگریشن اصلاحات کے بعد امریکہ نے دنیا بھر سے ابھرتے ہوئے سائنسی ذہنوں جن میں چین اور بھارت کے ذہین لوگ نمایاں تھے ،کو نہ صرف امریکہ میں تعلیم مہیا کی بلکہ انہیں رہائشی سہولیات مہیا کرا کے ان سے تحقیقاتی لیبارٹریاں اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں قائم کرائیں۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں تحقیق اور ترقی پر جی ڈی پی کا 2.5فیصد خرچ ہونا شروع ہو گیا۔ ریاست نے پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں مقابلے کروائے اور فنڈ مہیا کیے لیکن خود امریکی حکومت نے ان پروگراموں کو چلانے کی کوشش نہیں کی۔ یونیورسٹیوں کی اس آزادی اور مسابقتی پروگراموں نے دراصل جدید امریکی سائنسی نظام کو جنم دیا جو دراصل انسانی تاریخ کا سب سے کامیاب نظام ثابت ہوا۔ لیکن آج ٹرمپ کے دوسرے دور میں یونیورسٹیوں کو زبردستی حکومتی کنٹرول میں لینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کے اربوں روپے کے تحقیقاتی فنڈ بھی روکے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی برتری جو کہ آج تک چین کو بھی حاصل نہیں ہے وہ عالمی ذہنوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت ہے لیکن اب یہ سب کچھ بدل رہا ہے۔ دسمبر2025ء میں نیچر کے جریدے کی تحقیق کے مطابق جب محققین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں؟، تو1600سائنسدانوں میں سے 75 فیصد سے زائد نے حیران کن جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں وہ امریکہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ تھیں وہ امریکہ کی مضبوط بنیادیں اور روایتیں جو پچھلے اڑھائی سو سال میں ارتقا پذیر ہوئی تھیں جو کہ ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں تیزی سے منہدم ہو رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سرمایہ داری نظام کے فروغ اور روس کے خلاف عالمی نظام کی قیادت شروع کی۔ مارشل پلان کے ذریعے یورپ کی تعمیر نو، نیٹو، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور یہ عہد 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام پر اختتام پذیر ہوا۔ اس کے بعد عالمگیریت(globalization) کا دور شروع ہوا جس میں لبرل جمہوریت اور آزاد منڈی کی معیشت کو دنیا کے لیے مثالی نمونہ بنا کر پیش کیا گیا ۔ روس کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری نظام نے فوری منافع کے حصول کو اپنا نصب العین بنا لیا جس سے دولت کا ارتکاز ایک فیصد اشرافیہ کے ہاتھ میں آگیا۔ امریکہ میں یہ اشرافیہ چند ارب پتیوں اور ایک ہزار کارپوریشن کا نام ہے جو کہ پوری دنیا میں اپنی مرضی کے قوانین آئی ایم یف اور ورلڈ بینک کے ذریعے نافذ کرتی ہے ۔ دولت کے اس غیر فطری ارتکاز کی وجہ سے بہت ساری ریاستوں میں تعلیم اور جیل خانہ جات کا بجٹ برابر ہے اور دس امریکیوں میں سے ایک جیل ضرور گیا ہے ۔ معاشی اعتبار سے عدم مساوات میں اضافے کی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ کے دس امیر ترین افراد کے پاس اتنی دولت ہے جتنی کہ پچاس فیصد امریکی گھرانوں کی مجموعی دولت ہے۔

افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بعد امریکہ نے چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کے خلاف اپنی ساری توجہ مرکوز کر دی۔ یاد رہے امریکہ نے سرد جنگ اپنے اتحادیوں جن میں یورپ، جاپان اور کوریا شامل ہیں کے ساتھ مل کر جیتی تھی اور ان کے ساتھ نقصان کی تجارت بھی کی تھی لیکن ٹرمپ نے آتے ہی نہ صرف ان ممالک پر ٹیرف کی یلغار کر دی بلکہ اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہو کر امریکہ کے اندر شدید عوامی ردعمل کو بھی جنم دیا۔ ویتنام کی جنگ کے بعد جب امریکہ کی معاشی حالت خراب ہو رہی تھی تو امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کر کے تیل کی قیمت ڈالر میں متعین کروائی اور اس کے بدلے سعودی عرب کو فوجی تحفظ فراہم کیا جسے بعد میں پورے خلیجی ممالک نے بھی اپنا لیا یوں 1974ء سے اب تک تیل ڈالر میں بک رہا ہے اور امریکہ ڈالر کی کرنسی چھاپ چھاپ کر دنیا بھر میں نہ صرف اپنی جنگیں مسلط کر رہا ہے بلکہ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے ذریعے اپنا اسلحہ بھی بیچ رہا ہے ۔ اس نے دنیا بھر میں 800 سے زائد فوجی اڈے بنائے ہوئے ہیں جس سے امریکی عالمی تسلط کو اب تک تقویت حاصل ہے لیکن اب تہران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے بعد تیل کی تجارت اور خلیجی ممالک کے ساتھ امریکہ کے دفاعی تعلقات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کی مختلف مشکلات سے نکلنے کی اصل وجہ اس کے جمہوری ادارے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور کی کوتاہیوں پر بھی امریکی ادارے اور اس کا عدالتی نظام جلد یا بہ دیر قابو پا لے گا کیونکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ امریکی ادارے حکومت وقت سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس جنگ سے امریکہ کا عالمی تسلط کمزور تو ہو سکتا ہے لیکن امریکی سلطنت کا خاتمہ اتنا آسان نہیں ہو گا اور اس زوال پذیری کا انحصار پیٹرو ڈالر پر کاری ضرب سے ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین