• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سفارتی حیثیت گزشتہ چند برسوں میںعالمی سطح پر مستحکم ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا جنگوں، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کی رقابت کا شکار ہے، پاکستان نے کئی مواقع پر ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے متحارب ممالک کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ہماری سفارتی صلاحیت اور ادارہ جاتی استعداد کا ثبوت ہے۔لیکن یہی کامیابی ایک اہم سوال بھی جنم دیتی ہے۔ اگر پاکستان دنیا کے مختلف حصوں میں دشمن ریاستوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے تو کیا ہم اپنے ہی ملک میں موجود سیاسی، سماجی اور سلامتی کے بحرانوں کا حل مکالمے، تدبر اور قومی اتفاقِ رائے سے تلاش نہیں کر سکتے؟چار دہائیوںسے پاکستان دہشت گردی، شدت پسندی، علاقائی شورش اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہرنے واضح کر دیا ہے کہ قومی سلامتی صرف عسکری کارروائیوں سے مستقل طور پر یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ اب آزاد جموں و کشمیر بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اسی دوران بھارت کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم بعض عناصر کو فریڈم فائٹرز قرار دیا گیا، جو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پوری قوم ان قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ تاہم دیرپا امن صرف عسکری کامیابیوں سے نہیں بلکہ سیاسی حکمت، انصاف، مؤثر حکمرانی اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔ فوج دہشت گردوں کو شکست دے سکتی ہے، مگر دہشت گردی کے اسباب کا خاتمہ ریاستی بصیرت اور سیاسی دانش سے ہی ممکن ہے۔پاکستان کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں اب ایک نئے ستون کا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ پائیدار امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور قومی مفاہمت سے بھی جنم لیتا ہے۔ایسی کسی بھی کوشش کی پہلی شرط سیاسی اتفاقِ رائے ہے۔ جب تک بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مستقل دشمن سمجھتی رہیں گی، داخلی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ حکومت کو پہل کرتے ہوئے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریکِ انصاف، جمعیت علمائے اسلام، اے این پی اور دیگر تمام آئینی سیاسی جماعتوں سے غیر مشروط اور بامعنی مکالمہ شروع کرنا چاہیے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی انا اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں۔اس کے ساتھ دہشت گردی کے بیرونی پہلو اور پاک افغان تعلقات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاندانہ عناصر افغان سرزمین کو بی ایل اے جیسے گروہوں کی معاونت اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب تک افغان سرزمین دہشت گرد عناصر کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی رہے گی، پاکستان کو مکمل امن میسر نہیں آ سکتا۔تاہم افغانستان کے ساتھ تعلقات صرف طاقت سے بہتر نہیںہو سکتے۔ مذاکرات میں ثقافتی، لسانی اور قبائلی نفسیات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے تو مولانا فضل الرحمٰن، محمود خان اچکزئی، دیگر پختون و بلوچ رہنما اور پاک فوج کے تجربہ کار پختون افسران پر مشتمل ایک نمائندہ وفد افغان قیادت کے ساتھ زیادہ مؤثر مکالمہ کر سکتا ہے۔ اس سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور دوطرفہ تجارت کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

اگر پاکستان میں قومی کمیشن برائے سچائی و مفاہمت قائم کیا جائے تو اسے آزاد، غیر جانبدار اور آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے۔ اس میں ریٹائرڈ ججوں، آئینی ماہرین، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور متاثرہ علاقوں کے نمائندے شامل ہوں تاکہ حقائق سامنے آئیں، متاثرین کو انصاف ملے اور مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام ہو۔

واضح رہے کہ اس تجویز کا این آر او سے کوئی تعلق نہیں۔ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ سنگین دہشت گردی، قتل اور ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں کا فیصلہ عدالتوں ہی کو کرنا چاہیے۔ مفاہمت کا مقصد مجرموں کو معاف کرنا نہیں بلکہ تنازعات کے اسباب کا خاتمہ ہے۔بعض ناقدین مفاہمت کو کمزوری قرار دیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکومت ریاستی نظم کی ذمہ دار ہونے کے ناطے والدین کے کردار کی مانند ہوتی ہے، جبکہ اپوزیشن بعض اوقات ناراضی کا اظہار کرتی ہے۔ ایسے میں اسے ساتھ لے کر چلنا حکومت کی سیاسی بصیرت اور بالغ نظری کا مظہر ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں رواداری کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی پر میاں نواز شریف کی مبارک باد، بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات، بے نظیر بھٹو کی شہادت پر انتخابی مہم معطل کرنا، عمران خان کی عیادت اور چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ شدید اختلاف کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکتا ہے۔

آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ مسلسل محاذ آرائی، عدم اعتماد اور تقسیم کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا آئین، مکالمے، انصاف اور قومی مفاہمت کی طرف۔ یہی راستہ پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔اگر پاکستان دنیا میں امن کیلئے ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو یقیناً ہم اپنے وطن میں بھی اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قومیں صرف اپنی سرحدوں کے دفاع سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے درمیان اعتماد، انصاف اور یکجہتی کو فروغ دے کر بھی مضبوط بنتی ہیں۔ امن نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ بندوق کے زور پر مسلط کیا جا سکتا ہے۔ پائیدار امن اسی وقت جنم لیتا ہے جب قومیں ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر کا فیصلہ کرتی ہیں، کیونکہ ہر قومی مفاہمت کا آغاز اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔

تازہ ترین