• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصل آباد کا سوت بازار ایشیا کی گنی چنی دھاگہ منڈیوں میں ہے۔ سینکڑوں آڑھتی، ہزاروں بیوپاری، روز کروڑوں کے سودے بیشتر زبانی یا پرچی پر۔ جھگڑے کی صورت کوئی کچہری نہیں جاتا۔ منڈی کے چند بزرگ چائے کی پیالی پر دونوں فریقوں کو سن کر ہفتے دس دن میں فیصلہ سنا دیتے ہیں نہ وکیل، نہ ضابطہ، نہ اپیل۔ جو فیصلہ نہ مانے اسکا حقہ پانی بند۔ نہ مال، نہ ادھار، نہ سودا۔ منڈی بند برادری ہے سب شناسا، کل پھر انہی سے واسطہ سو اعتبار ہی سرمایہ اور بے اعتباری دیوالیہ۔ مگر منڈی کی اس پنچایت کا دائرہ محدود ہے۔ جس معیشت میں عہد نبھوانے کا واحد موثر بندوبست پنچایت ہو، وہاں کاروبار ایک حد تک ہی پھیل سکتا ہے۔ نوبیل انعام یافتہ مؤرخِ معیشت ڈگلس نارتھ صدیوں کی تاریخ کھنگال کر فیصلہ سنا چکا کہ ترقی کی فیصلہ کن چھلانگ اجنبیوں سے کاروبار کئے بغیر ممکن ہی نہیں۔ نیا گاہک، نیا سرمایہ کار، نیا منیجر، بدیسی خریدار، سب اجنبی۔ اور اجنبیوں میں معاہدہ بس ایک ضمانت سے ممکن ہے۔ عہد ٹوٹے تو کوئی تیسری قوت فریقین سے بڑی، دونوں سے بے نیاز اسے نبھوا دے۔ اور یہ تیسری قوت ریاست کے سوا کون؟ اور ریاست کا یہ کام کوئی دفتری خدمت نہیں، معیشت کا ویسا ہی بنیادی ڈھانچہ ہے جیسے موٹر وے یا بجلی کا گرڈ فرق اتنا کہ اسکی پیداوار سفری آسانی یا بجلی کا کرنٹ نہیں، دو اجنبیوں کے عہد کا اعتبار ہے۔ آٹھ دہائیاں ہونے کو آئیں کہ نوبیل انعام یافتہ رونالڈ کوز ثابت کر چکا کہ سودے کی اصل لاگت شرائط میں نہیں، سودا نبھوانے کے طریقِ کار میں ہے۔ سمجھنے کیلئے قرون وسطیٰ کی مثال سنیے۔ فسطاط کی ایک قدیم یہودی عبادت گاہ سے ہزار برس پرانے ہزاروں تجارتی خطوط اور بہی کھاتے برآمد ہوئے، اور اسٹینفرڈ کے مؤرخِ معیشت اونر گرائف نے انہی اوراقِ پارینہ سے ’المغربی تاجر نیٹ ورک‘ کی پوری دنیا بازیافت کر ڈالی۔ گیارھویں صدی میں یہ نیٹ ورک اندلس سے مصر و شام تک پھیلا ہوا تھا۔ مال دور کی بندرگاہ بھیجنا ہوتا تو نیٹ ورک کے کارندے کو سونپتے؛ جو کارندہ خیانت کرتا، خطوں سے اسکی خبر ہر تاجر کو پہنچتی اور پھر کوئی المغربی تاجر اسے عمر بھر منہ نہ لگاتا۔ یعنی وہی حقہ پانی بند کا اصول اور کوئی سو برس یہ نظام خوب چلا۔ مگر انہی دنوں جنیوا اور وینس نے دوسری راہ نکال لی: مستقل قانونی ادارے، لکھے معاہدے، نوٹری کے رجسٹر، اور شہری ریاست کی ضمانت کہ معاہدہ اجنبی سے بھی ہو تو نافذ ہو کر رہے گا۔ نتیجہ: بارھویں صدی ڈھلتے ڈھلتے بحیرۂ روم کی تجارت کا پلڑا المغربی تُجار کے ہاتھ سے نکل کر اطالوی ریاستوں کے ہاتھ جا لگا۔اب یہی عدسہ اپنے ملک پر رکھیے تو معیشت کا نقشہ گفتگو کرنے لگتا ہے۔ ایک طرف وہی منڈیوں کی چاردیواری میں سمٹے لاکھوں چھوٹے کاروبار ہیں، اسی قبیل کی نامور مثال سیالکوٹ ہے جہاں نسل در نسل کی کمائی ساکھ نے پردیسی خریدار کا بھروسہ جیت رکھا ہے وعدہ وہاں بھی قانون نہیں، خاندان کا نام نبھاتا ہے۔

دوسری طرف بڑی تجارتی اور صنعتی برادریاں ہیں، جنہوں نے یہی نظام شہر در شہر پھیلا لیا: گجراتی میمن، چنیوٹی شیخ، پنجابی سوداگر، خوجہ، بوہرہ وغیرہ اپنی ثالثی، اپنا قرضِ حسنہ، شادی اور شراکت ایک ہی دائرے میں۔ سودے سے پھرنے کی سزا بھی وہی:برادری سے اخراج۔ نسخہ بھی سوت منڈی والا:بڑی سرمایہ کاری برادری کے دائرہ اثر کے اندر رکھو کہ قانون کی حاجت ہی نہ رہے۔ محبوب الحق نے 1968ء میں 22خاندان گنے؛ محتاط شمار اسی زمانے میں 43کا نکلا، جنکے پاس درج شدہ نجی صنعتی اثاثوں کا قریب تین چوتھائی تھا (White, Princeton, 1974) 1995ء میں پھر 43، پانچ سو سے زائد درج شدہ غیر مالیاتی کمپنیوں میں سے دو سو سے زیادہ کے مالک (Shahid-ur-Rahman,Who Owns Pakistan) اور تازہ تحقیق میں 53، جن سے درج شدہ غیر مالیاتی کمپنیوں کا نصف سے زائد وابستہ ہے ( Hussain & Safdar, NUST)۔ نام آدھے بدل گئے، مگر حلقہ یاراں آدھی صدی میں 43سے 53تک ہی بڑھ پایا ۔ یاد رہے یہ گنتی درج شدہ کمپنیوں کی ہے، پوری معیشت کی نہیں دعویٰ بس اتنا کہ منظم نجی صنعت کا مرکز آج بھی چند درجن خاندانوں کے گرد گھومتا ہے۔ ایسے خاندان اتنے ہی کارخانے چلا سکتے ہیں جتنے قابلِ اعتبار بیٹے، بھتیجے اور بھانجے میسر ہوں۔ سو سوال یہ نہیں کہ پاکستان تیزی سے ترقی کیوں نہ کر سکا۔ سوال یہ ہے کہ بیٹوں، بھتیجوں اور بھانجوں کے اس نظام پر کھڑی معیشت اتنی ترقی بھی کیسے کر گئی۔ یہ صاحبزادوں کا نیٹ ورک پالیسی کو مٹھی میں لینے کے فن میں تو یکتا ہے، کاروباری جوہر میں نہیں رعایت، ٹیرف اور اجازت نامہ جیتنا اس کا میدان ہے، دنیا کا بازار نہیں۔

تاہم بیٹوں بھتیجوں پر انحصار کا سارا الزام ان خاندانوں پر دھرنا بھی انصاف نہیں، اجنبیوں کے مابین تجارتی عہد نبھوا سکنے کا کوئی سریع بندوبست ہمارے ہاں سرے سے ہے ہی نہیں۔ اور اسی خلا کی گواہی ہمارا برآمدی گوشوارہ بھی دیتا ہے۔ وجہ ہارورڈ کے ناتھن نن کی زبانی سنیے جس نے عالمی تجارت کی سادہ تقسیم کی: کچھ مال بھروسے کے بغیر بکتا ہے: کپاس، دھاگا، اجناس اور کچھ مال سراسر وعدہ نبھانے کی ساکھ پر کھڑا ہے: پرزہ، مشین، برقی آلہ، جو خریدار کی فرمائش پر خاص اسی کیلئے بنتا ہے اور معاہدہ نہ نبھے تو قانون نبھواتا ہے۔ ڈیڑھ سو ملکوں کے اعداد و شمار نے فیصلہ سنا دیا: جس ملک میں معاہدہ نبھوانے کا بندوبست معتبر ہو وہ وعدے والے مال میں بازی لے جاتا ہے۔ گویا ہر ملک کی برآمدی فہرست کسی حد تک اس بات کا گوشوارہ ہے کہ وہاں وعدہ نبھوانے کا بندوبست کتنا معتبر ہے۔

سو معاشی نمو کی اصل گرہ وہی ہے جو اطالیہ کی شہری ریاستیں کھول گئیں اور ہم آج تک نہ کھول سکے: ایسا بندوبست جو دو اجنبیوں کا تجارتی عہد نبھوا سکے۔ اور یہ کمزوری کسی ایک ادارے کا قصور نہیں۔جڑیں تین ہیں۔ پہلی جڑ زمین کے ریکارڈ میں: جہاں ملکیت کا ثبوت ہی مشکوک ہو وہاں نہ گروی چلے نہ ضمانت اور دیوانی مقدموں کا بڑا حصہ اسی بستے کا کیا دھرا ہے؛ علاج: صاف اندراج، جس پر بینک اور اجنبی دونوں بھروسہ کریں۔ دوسری جڑطریقِ سماعت میں:حکمِ امتناع کا کلچر، جس نے حکمِ امتناع کو بلاسود قرضے کا درجہ دیدیا ہے۔ علاج:کاروباری مقدمات کا اپنا سادہ ضابطہ دعویٰ دائر کرنے سے وصولی تک ایک برس کا حتمی کیلنڈر، قلیل مدتی حکمِ امتناع بشرطِ زرِ امانت اور کارکردگی کی ماہانہ اشاعت۔ تیسری جڑ ہمارا عمومی مزاج ہے:ادھار کی واپسی احسان، مقدمہ لٹکانا ہنر اور وعدے سے پھر جانا چالاکی۔ دو اجنبیوں کے تجارتی عہد کی پاسداری کی گرہ کھولے بغیر ہماری معیشت چھ سے سات فیصد نمو کی چال کبھی نہیں پکڑ سکتی۔ جو بندوبست دو اجنبی شہریوں کے عہد کا پاسبان نہ بن سکے، وہ معاشی ترقی کا ضامن کیونکر بن سکتا ہے؟

تازہ ترین