• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دنوں ہمارے ملک میں ان الفاظ کی گونج ہے کہ ” پاکستان کا سسٹم کولیپس کر گیا ہے“، لہٰذا اب یہاں نئے سسٹم کی ضرورت ہے جو اسی صورت ممکن ہے کہ ریاست کی چار اکائیوں یا صوبوں کی بجائے نئے صوبے تخلیق کر دیے جائیں ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو انڈیا کی طرح یہاں بھی نوجوانوں کی یلغار اٹھ کھڑی ہوگی جسکے سامنے اس سسٹم کو سرنڈر ہونا پڑے گا۔ بظاہر یہ الفاظ بڑےخوشنما ہیں جن میں ہماری موجودہ سیاسی صورتحال سے نفرت و بیزاری ہی نہیں پائی جاتی بلکہ نوجوانوں یا جین زی کے سامنے ایک سہانے مستقبل کی امید بھی ہے تاہم درویش ان خوشنما الفاظ کے پیچھے سہانا مستقبل نہیں ماضی جیسی گھٹن ملاحظہ کر رہا ہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے فرمایا تھا ۔

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلمان نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

موجودہ حالات میں آپ مسلم کی جگہ” سسٹم“رکھ لیں تو کچھ یوں بنے گا کہ

شور ہے، ہو گیا ملک سے سسٹم نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھا بھی کہیں سسٹم موجود

درویش کی نظروں میں ہمارا سسٹم اسی روز بیٹھ گیا تھا جب یہاں سسٹم کی نہیں،شخصی اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ اسی نے ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس، لبرٹی اینڈ فریڈم کا گلا گھونٹ کر یہاں جبرو آمریت کی شاہراہ اعظم تعمیر کر ڈالی جس سے ہٹنے یا اختلاف کرنیوالوں کیلئے ہم نے غدار، وطن دشمن، بھارتی ایجنٹ کی اصطلاحات ایجاد کر لیں اور جن پر چاہا، انہیں تھوپ ڈالا۔

جب اولوں سابقوں نے ریاست کیلئے یہ اصول طے فرمایا تو پھر متاخرین کیوں بیٹھ رہتے اس کے بعد شخصی اقتدار کی دوڑ لگنی ہی تھی بالآخر اس دوڑ میں کامیابی اسی کے ہاتھ آنی تھی جس کے ہاتھوں میں زیادہ طاقت تھی۔ قانون قدرت ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے۔ سو آگے چل کر جب بڑی طاقت چھوٹی طاقت سے ٹکرائی تو نتیجتاً جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا، جنرل مشرف اور جنرل باجوہ جیسے طاقتوروں کا ظہور ہوا۔ قوم بیچاری تو انارکلی کی شانیں دیکھنے والی بھولی مَجّھ یا بھینس ٹھہری جسکا حقدار صرف اور صرف وہی تھا جسکے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ایسے میں یہ شکوہ کہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے، درست نہیں۔رہی بات یہ کہ کیوں نہ صوبوں کو بانٹ دیا جائے۔ تو عرض ہے کہ حضور ہمارے یہ ایشوز ہی نہیں، جن کیلئے آج ہم پریشان ہیں۔ ہمارا اولین ایشو ہے ہماری ڈبکیاں کھاتی اکانومی، جس نے غربت، بیروزگاری، نوجوانوں کی مایوسی اور ناقابل برداشت مہنگائی کو جنم دے رکھا ہے۔ اس کے بعد ہمارا ایشو ہے آئین پر عمل نہ ہونا جس نے اس ملک میں ڈیموکریسی کے خاتمے، میرٹ کے قتل، عدم مساوات اور جرائم کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ ہمارا تیسرا ایشو ہے آزادی اظہار کی بحالی: جس کے فقدان نے یہاں برداشت اور رواداری کی اپروچ کو مار ڈالا ہے۔

ہمارا چوتھا ایشوہے اتھارٹی کی دھونس اورجبر، جس نے یہاںایک کلرک کو بھی فرعون بنا ڈالا ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکلنہیں کہ جس کےپاس زیادہ طاقت ہے، وہ کیا کرتا ہو گا ۔ جبر کی یہی اپروچ ہے جس نے ہمارے سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

کسے معلوم نہیں کہ ترقیاتی کام کروانا صوبائی نہیں بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں رونا اتھارٹی کاہےہی نہیں کھانے پینے کا بھی ہے۔ نالیاں یا سڑک بنا کر اپنے معصوم ووٹرز پر احسان جتلایا جاتا ہے اور جو کچھ بطور کمیشن کمایا جاتا ہے، وہ گویا کسی کو معلوم ہی نہیں۔ رہ گئی شتر بے مہار بیوروکریسی تو ان کا تذکرہ ہی کیا۔ ہر گردن میں ایسا سریا ہے کہ الامان و الحفیظ۔

اس ملک کو ایک طرف ہمالہ جیسے بڑے داخلی ایشوز درپیش ہیں، خدا لگتی کہو کہ جب آپ اتنے طاقتور ہو، اتنے درد مند ہو اور سسٹم کے کولیپس ہونے پر دکھی ہو تو کیوں مضبوط بلدیاتی حکومتیں قائم نہیں کرواتے؟ اس میں کیا امر مانع ہے؟ درویش کو آپ کی مجبوریوں کا پورا احساس و ادراک ہے۔

سو باتوں کی ایک بات، درویش آپ کو اس کا مجرب نسخہ بتلا دیتا ہے، محض ایک ہی نکتہ قابل التفات ہے۔ وہ یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو، آپ انڈیا دشمنی کو دوستی میں بدل دیجیے۔ سارے مسائل بتدریج حل ہو جائیں گے۔ درویش گارنٹی دیتا ہے کہ چھبیس کروڑ عوام خوشحال اور ہمارا دفاع پائیدار ہو جائے گا۔ کشمیر ایشو ہی نہیں، ایک سو ایک ایشوز حل ہو جائیں گے، چھبیس کروڑ عوام نہ صرف سکون کا سانس لیں گے بلکہ جنت میں آ جائیں گے۔

تازہ ترین