• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرسال ماہِ اگست قوم کیلئے مُسرت و شادمانی اورمّلی جوش و جذبے کا ساماں لیکر آتا ہے بوڑھے بچے جوان مرد اور خواتین سبھی وطنِ عزیزسے محبت و عقیدت سے سرشار نظر آتے ہیں۔قوم اِس سال اپنی آزادی کی79ویںسالگرہ منا رہی ہے۔یہ اِس دن کی یاد ہے کہ جب برِ صغیر کے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر انگریز اور ہندو راج سے آزادی ملی۔قائد اعظم محمد علی جناح ،محترمہ فاطمہ جناح اور قلندرِ لاہوری علا مہ اقبال کی بے لوث، مخلصانہ اور دلیرانہ قیادت و راہنمائی ہی کا نتیجہ تھا کہ تحریکِ پاکستان کو 14اگست1947ءکو کامیابی نصیب ہوئی۔

برِ صغیر میں مُسلم حکمرانی کی ایک لمبی تاریخ ہے جسکا آغاز 712سے ہوتا ہے، جب محض 17سالہ نوجوان محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ اور ملتان میں اپنی حکومت قائم کی۔ گیارہویں اوربارہویں صدی میں محمود غزنوی اور سلطان محمد شہاب الدین غوری کا دَور رہا۔ 1206 میں قطب الدین ایبک نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ 1526میں ظہیر الدین محمد بابر نے مغل ایمپائر کی بنیاد رکھی۔ 1707ءمیں اورنگزیب کی وفات کے بعد حکمرانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کا شدید فقدان واضح طور پر نظر آنے لگا ۔حصولِ اقتدار کی خاطر جنگ و جدل ایک معمول بن گیا ،مورخین نے واضح طور پر مغل حکمرانوں کی نااہلیوں اور عیش و عشرت والے طرزِ زندگی کو تاریخ کے اوراق میں رقم کیا ہے۔

مغل حکمرانوں کی شاہ خرچیوں نے خزانے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔ انتظامی کمزوریوں اور قوت فیصلہ کی کمی نے دن بدن اقتدار کے دن گننے شروع کر دیے ۔ اقرباء پروری اور مالی بد اعمالیوں کاخوب دَور دَورہ رہا۔ میرٹ کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا بس ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر حکومتیں چلتی رہیں ۔ نا اہلی اور بھر پور کوتاہیوں کا نتیجہ آخر کار1857ءمیں بہادر شاہ ظفر کی اقتدار سے ذلت آمیز رخصتی کی شکل میں نکلا اور یُوں مغل حکمرانوں کے330سالہ اقتدار کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا ۔ بیسویں صدی کے آغاز میں 1905ءمیں بنگال کو تقسیم کر دیا گیا ۔مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی جبکہ مغربی بنگال میں ہندو اکثریت میں تھے۔مسلمان اِس تقسیم پر خاصے خوش تھے مگر ہندوؤں کو یہ تقسیم ہضم نہ ہوئی ۔کانگریس نے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ بالآخر 12دسمبر 1911ءکو برطانوی راج نے بادشاہ جارج پنجم کے دورے کے موقع پر احتجاج سے بچنے کیلئے تقسیمِ بنگال کو منسوخ کر دیا۔ اِس سے مسلمانوں میں شدید مایوسی اور بددلی پھیل گئی۔

برِصغیر کی سیاسی تاریخ اور مسلمانوں کی جدوجہد میں ایک اہم ترین موڑ اور مرحلہ اُس وقت آیا جب یکم اکتوبر 1906ءکو مسلمان زعماء کے ایک35رکنی نمائندہ وفد نے سر آغا خان کی قیادت میں شملہ میں وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کر کے مسلمانوںکیلئے ایک جُداگانہ طرزِ انتخاب کا مطالبہ کر دیا۔ درحقیقت مسلمانوں نے پہلی بار ایک منظم انداز میں اپنے سیاسی حقوق کا قومی سطح پر مطالبہ کیا اِس وفد کی کامیابی نے مسلمانوں کو اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کا حوصلہ اور عزم دیا۔ 30دسمبر 1906ءکو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایاگیا۔ اس اجلاس کی صدارت وقار الملک نے کی۔ نواب سلیم اللہ نے مسلم لیگ کی تجویز دی جس کی حکیم اجمل خان اور مولانا ظفر علی خان نے تائید کی۔دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ برِ صغیر کے مسلمانوں کی سب سے مضبوط اور موثر آواز بن گئی ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور سر آغا خان کے قائل کرنے پر 1913ءمیں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1930ءمیںالہ آباد میں علامہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کیلئے الگ وطن کا باقائدہ مطالبہ کر دیا۔ 1933 ءمیں چوہدری رحمت علی نے الگ وطن کا نام پاکستان تجویز کیا۔ 1940ءمیں قرارداد لاہور منظور ہوئی جسے شیرِ بنگال فضل الحق نے پیش کیا۔ 1946ءکے انتخابات میں مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی تمام نشستیں جیت لیں اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ۔آخرِ کار منزل قریب آن پہنچی اورمسلمان قائدین کی کاوشیں رنگ لے آئیں کہ جب برطانوی پارلیمنٹ نے The Indian Independence Act 1947 کو منظور کر لیا۔ اس طرح 14اگست 1947ءکو پاکستان معرض ِوجود میں آگیا۔

وطنِ عزیز کے قیام کے بعد بد قسمتی سے قائد اعظم جلد ہی ہم سے بچھڑ گئے ایک اور ظلم یہ ہوا کہ لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا ،سردار عبدالرب نشتر 1958ءمیں ہم سے بچھڑ گئے۔ایک اور خطاء ہم سے سر زد ہوئی کہ ہم مادرِ ملت فاطمہ جناح کے صدارتی الیکشن میں اُن کے ساتھ وفا نہ کر سکے۔ محترمہ بھی 1967ءمیں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ 1971ءمیں ہم مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے ۔ آج بھی وطنِ عزیز کئی محاذوں پر کامیابیوں کے باوجود کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں ۔

ہمارا نوجوان ڈگریاں لئے روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے ۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سسٹم کی کمزوری کی آوازیں تو اب سرکاری ایوانوں سے بھی آنے لگی ہیں۔ میرٹ اور گورننس کے مسائل حد درجہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا ملک قرضوں تلے ڈوب چکا ہے اور حالات کی بہتری کی بظاہرکوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ مگر مایوسی اور نااُمیدی گناہ ہے۔ زندہ قوموں کے سامنے ایسے مسائل کوئی معنی اور حیثیت نہیں رکھتے ۔ الحمدللہ ہماری قوم پڑھی لکھی اور باشعور ہے ملک کو مسائل کے بھنور سےنکا لنے کیلئے ہمارا نوجوان پُرعزم اور بلند حوصلہ ہے۔

پاکستان کو مسائل اور مشکلات سے نکالنا یقین کیجئے کوئی بڑی سائنس نہیں لیکن گنتی کے چار چھ بنیادی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔نظام اور طرزِِحکومت میں شفافیت ناگزیر ہے، خاندانی اور موروثی جمہوریت کو ہر صورت خیر باد کہنا ہو گا۔ اقربا پروری اور سفارش کے کلچر کا قلع قمع کر نا ہو گا۔ مالی بد عنوانی کے ناسُور کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ شاہانہ اور پُر تعیش طرزِ زندگی کا باب بند کرنا ہوگا ۔ نظامِ تعلیم کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کرناہوں گے۔ معیشت کی بہتری کے لیے ہم سب کو پیٹ پر پتھر باندھنا ہوگا قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لیے اپنے اخراجات میں خاطر خواہ کمی کرنے کی ضرورت ہے زرعی شعبے کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ یوم آزادی منانے کا اصل مزہ تو تب ہی ہے جب ہم صدقِ دل سے یہ عہد کر یں کہ ہم مادرِ وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے یومِ آزادی در اصل تجدیدِ عہد ہی کا دن ہے۔

تازہ ترین