• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشیات کا پہلا سبق:وسائل محدود ، ضرورتیں لا محدود۔ اسی فرق سے قلت جنم لیتی ہے جسکے گرد سارا نظام گھومتا ہے — منڈی اور محصول، لشکر اور سرحد، عالمی بساط کی صف بندی ۔ اور قلت کی جڑ کھودیے تو نکلتی ہے توانائی کی لاگت — جس کا منبع زمین پر ایک ہی ہے،سورج ۔ کھیت کا سبزہ دھوپ کی گرہ ہے، ہوا اسی کی تپش سے چلتی ہے، بادل اسی کے اٹھائے ہوئے سمندر،کوئلہ اور تیل کروڑوں برس پرانی دھوپ ہے جو زمین کی تہوں میں سو گئی ۔اور دست و بازو کا زور بھی وہی دھوپ جو روٹی بن کر رگوں میں اتری۔ جو بھی جیتا ہے، جلتا ہے، چلتا ہے، سورج کے دم سے ہے۔

روٹی، کپڑا، مکان — ہر شے توانائی ہی کا پیکر ہے۔ فولاد اور المونیم؟دھات کا دام اس آگ کا دام جس نے اسے ڈھالا۔ مزدور کا بازو بھی روٹی کے ایندھن پر چلتا ہے، اور منشی کا ذہن بھی۔ اجرت آدمی نامی انجن کے ایندھن اور مرمت کا خرچ ہے۔ مصنوعی ذہانت، جو فکر کا بار اٹھائےاور روبوٹ جو دست و بازو کا،دونوں مشین کی پیداوار ہیں اوردونوں کی قیمت مشین کو چلانے والی توانائی سے ماخوذ ۔ سو قلت و فراوانی کی ساری داستان ایک سوال میں سمٹ آئی: توانائی کادام کیا ہے؟

جواب قیاس میں نہیں، حساب میں ہے۔ امریکی ماہرِ معاشیا ت ولیم نورڈہاؤس لکھتا ہے کہ بابل کے مزدور کی دن بھر کی اجرت چند منٹوں کیلئے ہی دیے کی ٹمٹماہٹ خرید پاتی تھی۔ شمسی سیل 1976ءمیں سو ڈالر فی واٹ تھا، آج دس سینٹ ہزار گنا ارزاں؛ خلیجِ عرب کی نیلامیوں میں بجلی کا سودا ایک سینٹ فی یونٹ کے آس پاس آ پہنچا۔ اس سب کے پیچھے صنعت کا وہ قاعدہ ہے رائٹ کا قانون (Wright's Law) — جو نصف صدی سے خطا نہیں گیا: پیداوار جب دگنی ہو، لاگت بیس فیصد گھٹ جاتی ہے۔ شمسی تنصیبات ہر تین چار برس میں دگنی ہو رہی ہیں؛ یہی چال 2050 ءتک قائم رہی تو بجلی کا نرخ صفر کی جانب جھکتا چلا جائے گا۔یہ پیشین گوئی نہیں، پچھلی چند دہائیوں کےخطِ خمیدہ کا تسلسل ہے ۔ ادھر مشینی عقل کا مول ہر سال دس گنا گر رہا ہے، اور روبوٹ بھی کارخانے ہی کی پیداوار ہے — سو اسی رائٹ کے قانون کا اسیر۔ اسی بات کی تازہ گواہی سب سے بڑے روبوٹ ساز ایلون مسک نے اکانومسٹ کے ساتھ انٹرویو میں دی ہے۔

مستقبل کا حال کس نے دیکھا ہے؟ مگر قرائن پکار پکار کر کہتے ہیں کہ 2050ء تک بنی نوعِ انسان قلت سے نجات پالے گی۔ توانائی مفت، عقل مفت، روبوٹ مفت تو گندم سائبیریا کے جاڑے میں بھی مفت — پیداوار انسانی ہاتھ لگے بغیر دہلیز تک آئے گی، اور جو شے مشین بناسکے گی اس کا دام صفر کو چھوتا چلا جائے گا۔ خام مال کا کھٹکا نہ کیجیے — زمین میں ایٹموں کا کال نہیں، کال انہیں چھانٹنے اور جوڑنے کی توانائی کا ہے ۔ سمندر کا کھارا پانی میٹھے پانی کاذخیرہ، صحرا کی ریت سلیکان کی کان ۔ توانائی کا دام صفر ہو تو ہر شے ہر شے میں ڈھل سکتی ہے ۔ دام صرف ان چیزوں کا ہو گا جومشین سے بنائی نہ جا سکیں —صادقین کی اصلی پینٹنگ ، محبوب کی توجہ یا کسی جزیرے اور سمندر کا وہ سنگم جہاں چاند اک خاص زاویے سے دکھتا ہو۔ ہر شہری خودکار سرمائے (مصنوعی ذہانت ، روبوٹ اور مفت توانائی ) کا حصہ دار یعنی مشین کا خراج گھر گھر وظیفہ۔ ریاست محصول لینے والی نہیں، بانٹنے والی ہو گی۔ جھگڑا بجٹ کا نہیں، کلیے کا ہو گا۔ اور کام روزی کیلئے نہیں، شوق اور رتبے کیلئے ہو گا۔ مارکس کا قلت کے خاتمے کا جو خواب ذرائع پیداوارکی اجتماعی ملکیت پورا نہ کر سکی، کمپیوٹر اور شمسی سیل کے طفیل تعبیر ہو گا۔

جب سارا نظام خودکار سرمائے پر کھڑا ہو تو سوال یہ ہے کہ اس کا مالک کون ہو گا ؟ ۔ جن ریاستوں کو تیل کی دولت بن مانگے ملی، انہیں رعیت کی محنت کی حاجت نہ رہی، سو رعیت کی رائے سے بھی بے نیاز ہو گئیں ۔ اب سستی توانائی اور مصنوعی ذہانت ہر ریاست کو ویسی ہی ریاست بنا دے گی — اور شہری ، نہ کارکن رہے گا نہ ٹیکس گزار بس فراوانی کا کھاتے دار ۔ عام آدمی کی پروا کی جو آخری معاشی مجبوری تھی، وہ بھی جاتی رہے گی۔جمہوریت اسی مجبوری کی دختر نیک اختر ہے ، سو وہ بھی اس کی زد سے کیونکربچےگی ۔

جب روزی کا جھگڑا ہی نہ رہے گا تو آدمی کیا کرے گا؟ یاد رکھیے کہ فراوانی کی جنت میں قلت مرتی نہیں، بس ہجرت کر جاتی ہے — روٹی کا قضیہ ختم ہوتا ہے تو مقابلے کی جبلت رتبے کے میدان میں انگڑائی لیتی ہے۔ نویں صدی کے بغداد کے امرا کے ہاں روزی روٹی کا ذکر عیب تھا، سو امرا نے علم و فن کی سرپرستی کو آپس کے مقابلے کا میدان بنا لیا — اسی دوڑ نے بیت الحکمت کو جنم دیا اور یونان و فارس و ہند کی دانش عربی کے قالب میں ڈھلتی چلی گئی۔ سنگ عہد کے چین — دسویں سے تیرہویں صدی — میں اہلِ دربار کی عمریں خوش نویسی، مصوری، ظروف کی پرکھ اور امتحانات کے مدارج میں کٹیں۔ ہیان عہد کے کیوٹو — نویں سے بارہویں صدی — میں امرا نے جیتے جی اپنی جاگیروں کی صورت نہ دیکھی مگر ساری عمر عطر کی ترکیب، آستین کے رنگ اور شعر کی داد پر نچھاور کر دی ۔ اور انیسویں صدی کے لکھنؤ میں تعلقےکا حاصل ڈیوڑھی تک آپ چل کر آتا تھا، سو دسترخوان کی وسعت، تکلف کے مدارج اور پتنگ اور کبوتر — سب فنونِ حیات کا درجہ پا گئے۔ ہاں وہی لکھنؤ جہاں ایک کچا مصرع منصب لے ڈوبتا تھا۔چار شہر، چار صدیاں، ایک نتیجہ:محل سب کو مل سکتا ہے، پہاڑی والا محل سب کو نہیں مل سکتا ۔ فراوانی کے بعد کی معیشت روٹی کی نہیں، رتبے کی معیشت ہے — اور رتبے کی نعمتیں وہ ہیں جنکی ساری قدر اسی میں ہے کہ سب کے ہاتھ نہیں آتیں، جس دن سب کے ہاتھ آ گئیںاس دن سب کےہاتھ سے چلی گئیں۔

جب سب کچھ مل جائے گا تو کیا سب کچھ مل جائے گا؟ جدید علم نفسیات کہتا ہے کہ آدمی مسرت کے کولہو (Hedonic Treadmill) کا بیل ہے۔ امریکی ماہرِ نفسیات برک مین نے 1978ءکی مشہور تحقیق میں دکھایا کہ لاٹری جیتنے والا سال بھر میں وہیں آن کھڑا ہوتا ہے جہاں سے چلا تھا — ہر تعبیر اگلے خواب کا صفر ٹھہرتی ہے ۔صوفیا نے یہ رازبرک مین سے صدیوں پہلے پا لیا تھا: قلت گودام میں نہیں، خواہش میں ہے۔ فقر محرومی نہیں، ملکیت سے پہلو تہی ہےاور مولانا روم کا سارا مضمون یہی کہ سیری پردہ ہے اور طلب آنکھ۔ نسخہ : خواہش کی تربیت — کہ دولت کی واحد پائیدار صورت قناعت ہے۔ 2050 کا انسان، بھرے دامن اورخالی من کے ساتھ ، اسی نسخے کا محتاج ہو گا۔انگریز ماہرِ معیشت کینز نے 1930 ءمیںپوتوں کے نام مضمون میں لکھا کہ سو برس میں معاشی مسئلہ حل ہو جائے گا اور اصل ابتلا فرصت کی ہو گی۔ جنت کا اصل امتحان فراوانی کی سحر نہیں، فرصت کی شام ہے اور اس شام کا نصاب صوفیا کے کتب خانے میں موجود ہے۔

تازہ ترین