پاکستان میں موروثی سیاست پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، مگر اسے صرف پاکستان کا مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ برصغیر کے تقریباً تمام ممالک میں سیاسی خاندان کئی دہائیوں سے اقتدار اور سیاست پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ نہرو،گاندھی خاندان، بھٹو خاندان، شریف خاندان، خان عبدالغفار خان کا سیاسی خانوادہ، بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمٰن اور جنرل ضیاء الرحمن کے خاندان اور متعدد علاقائی سیاسی گھرانے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔فرق یہ ہے کہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں خاندانی قیادت کے باوجود جماعتوں نے ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کیے، جبکہ پاکستان میں زیادہ تر جماعتیں شخصیات کے گرد تشکیل پائیں ، اسی لئے یہاں ووٹ اکثر منشور کے بجائے شخصیت کو ملتا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی شناخت نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کی بھٹو خاندان، پاکستان تحریکِ انصاف کی عمران خان، جمعیت علمائے اسلام کی مفتی محمود کے خاندان اور عوامی نیشنل پارٹی کی باچا خان اور ولی خان کے خاندان سے وابستہ رہی ہے، نتیجتاً جب جماعتیں اداروں کے بجائے شخصیات پر استوار ہوں تو قیادت کے منظر سے ہٹتے ہی پوری جماعت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ اس کی واضح مثال ہے، جو الطاف حسین کی عملی سیاست سے علیحدگی کے بعد مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔
حالیہ سیاسی پیش رفت بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے حمزہ شہباز کو ارکانِ پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان رابطہ کار مقرر کرنا بظاہر ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ جماعت کے اہم معاملات میں اعتماد اب بھی خاندان کے اندر ہی تلاش کیا جاتا ہے۔ اس تقرری نے موروثی سیاست پر جاری بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ موروثی سیاست اور اقربا پروری ایک ہی چیز نہیں۔ موروثی سیاست سے مراد سیاسی قیادت کا خاندان کے اندر منتقل ہونا ہے، جبکہ اقربا پروری میں رشتہ داری یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر عہدے اور اختیارات دیے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں غیر خاندانی قیادت پر اعتماد کیوں نہیں کرتیں؟ اسکا جواب ہماری سیاسی تاریخ میں ملتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلاوطن تھی تو مخدوم جاوید ہاشمی نے مقدمات اور قید و بند کا سامنا کرتے ہوئے جماعت کو متحرک رکھا، مگر شریف خاندان کی واپسی کے بعد وہ بتدریج فیصلہ سازی سے دور ہوتے گئے اور بالآخر جماعت چھوڑ گئے۔ اسی طرح پاناما فیصلے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے انتہائی مشکل حالات میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالی اور حکومت کو استحکام دیا، لیکن بعد ازاں جماعت کی توجہ نئی خاندانی قیادت کی طرف منتقل ہوئی تو ان کا کردار بھی محدود ہوتا گیا، حتیٰ کہ انہوں نے بھی الگ سیاسی راستہ اختیار کر لیا۔ ایک اور مثال چوہدری پرویز الٰہی کی ہے۔ 1993ء سے 1996ء کے دوران میاں شہباز شریف کمر کی تکلیف کے باعث طویل عرصہ لندن میں مقیم رہے۔ اس دوران چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں قائم مقام قائدِ حزبِ اختلاف کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھائیں، مگر حالات معمول پر آتے ہی قیادت دوبارہ شریف خاندان کے ہاتھ میں آ گئی۔ یہ تمام مثالیں ایک حقیقت واضح کرتی ہیں کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں مشکل حالات میں غیر خاندانی رہنماؤں پر انحصار ضرور کرتی ہیں، مگر جیسے ہی بحران ٹلتا ہے، قیادت دوبارہ خاندانی دائرے میں سمٹ آتی ہے۔ پاکستان میں جماعتِ اسلامی اس حوالے سے ایک مختلف مثال پیش کرتی ہے۔ اسکی قیادت کسی خاندان میں منتقل نہیں ہوتی بلکہ باقاعدہ انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جماعت اندرونی جمہوریت کی ایک مثبت مثال ہے، تاہم قومی سطح پر بڑی انتخابی کامیابی کبھی حاصل نہیں کر سکی۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ ایسی سیاسی حکمتِ عملی بھی ضروری ہے جو وسیع عوامی اعتماد حاصل کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں شخصیات کا اثر جماعتوں سے زیادہ مضبوط رہا ہے۔ ووٹر اکثر منشور، تنظیم اور نظریے کے بجائے قائد کی شخصیت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی عوامی رجحانات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتی ہیں اور اداروں کے بجائے شخصیات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سیاسی جماعتوں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ جب ووٹر خود خاندانی نام، ذاتی مقبولیت اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ووٹ دے تو جماعتیں بھی اسی سیاسی حقیقت کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ اس لئے مسئلہ صرف قیادت کا نہیں بلکہ سیاسی کلچر کا بھی ہے۔
موروثی سیاست دراصل پاکستان کے سیاسی نظام کی بیماری نہیں بلکہ اسکی علامت ہے۔ اصل بیماری سیاسی جماعتوں کے اندر ادارہ جاتی جمہوریت کی کمزوری، شخصیات پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور ایسی سیاسی ثقافت ہے جس میں جماعت سے زیادہ فرد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں قیادت کے انتخاب، فیصلہ سازی اور احتساب کے مضبوط ادارے قائم نہیں ہوں گے، تب تک قیادت چند خاندانوں یا شخصیات کے گرد ہی گردش کرتی رہے گی۔
پاکستان کی جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر حقیقی جمہوری روایات کو فروغ دیں، کارکنوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کریں اور قیادت کیلئے میرٹ، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو بنیادی معیار بنائیں۔ اسی طرح عوام کو بھی اپنی سیاسی ترجیحات میں شخصیت کے بجائے منشور، کارکردگی اور ادارہ جاتی استحکام کو اہمیت دینا ہوگی۔جمہوریت کی اصل طاقت خاندانوں میں نہیں بلکہ مضبوط اداروں میں ہوتی ہے۔ جب سیاسی جماعتوں میں ادارے افراد سے بڑے اور عوام کی نظر میں منشور شخصیات سے زیادہ اہم ہو جائے گا تو قیادت چند خاندانوں تک محدود نہیں رہے گی۔ موروثی سیاست کا خاتمہ کسی ایک قانون یا ایک انتخاب سے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کے فروغ، میرٹ کے احترام اور عوام کے سیاسی شعور میں اضافے سے ممکن ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی جمہوریت کو زیادہ مضبوط، مستحکم اور پائیدار بنا سکتا ہے۔