’’کیا پاکستان اپنی منزل کے قریب ہے؟‘‘ یہ وہ سوال ہے، جو ہر وقت اور ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کی کُھلی آنکھوں میں خواب جاگتے ہیں۔ کچھ کرنے، دِکھانے کی آرزو جوش مارتی ہے، لیکن پھر وطن کی طرف دیکھتے ہیں، تو مایوسی کے سائے لہرانے لگتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی چَھٹی نسل اب میدان میں اُتر رہی ہے، لیکن یہ سوال ہر نسل سے جواب مانگتا ہے اور جواب دینے والے کسی ایسے شان دار ماضی کی تلاش میں ہیں، جس کا آج سے کوئی تعلق نہیں۔
نئی صدی میں دو وجوہ کی بنا پر اِس سوال کا جواب دینا زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ اوّل، پاکستان کی آبادی کا بڑا حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان جہاں بے پناہ انرجی رکھتے ہیں، وہیں غیر معمولی جذباتیت کے بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ ہر مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے بنگلا دیش میں دیکھا اور حال ہی میں بھارت میں بھی نوجوان طاقت نظر آئی۔ محسن نقوی نے، جو حکومت کا حصّہ اور طاقت وَر وزیر ہیں، نظام منہدم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے نوجوانوں کی طاقت سے ڈرانے کے ساتھ، نئے صوبوں کے قیام کی بحث چھیڑ دی۔
وہ طاقت وَر حلقوں کے قریب مانے جاتے ہیں، لیکن عوام سے کتنے قریب ہیں، یہ اب اُن کی چھیڑی گئی بحث کے نتائج سے پتا چلے گا۔ ایران، امریکا جنگ میں ثالثی کے بعد یہ نیا ٹاپک ہے، جو شاید اگلے تین، چار ماہ ہمارے اہلِ دانش اور عوام کی توجّہ کا مرکز بنا رہے گا۔ وزیر موصوف کے ذہن میں یہ تو ضرور ہوگا کہ اِس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ منہگائی، بے روزگاری اور تعمیر وترقّی ہے۔ وہ فوری ریلیف چاہتے ہیں اور اُنھیں کسی انتظامی یونٹ کے قیام یا اُکھاڑ پچھاڑ سے کم ہی دل چسپی ہے۔
اصل میں ایسے انتظامی اقدامات سے پہلے تیاری بہت ضروری ہے۔ یہاں جو لسانی، صوبائی اور مذہبی تقسیم ہے، کیا یہ خلیج صرف اِس نعرے سے پاٹ لی جائے گی کہ’’ہم ایک ہیں۔‘‘ جو حُکم ران، وزراء کچرے کے ڈھیروں، ٹوٹی پُھوٹی سڑکوں سے کُھلی آنکھوں گزر جاتے ہوں اور اُن کی استر کاری نہ کرواسکیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی کا مسئلہ جن کے لیے توجّہ کے قابل نہ ہو، بھلا وہ کیا نظام تبدیل کریں گے۔ عوام کے خیال میں تو نظام کی تبدیلی کے نام پر محض اپنے ہی کچھ لوگ، جاگیردار اور سردار اِدھر اُدھر کردیے جائیں گے کہ نظام پر اُن کا مکمل کنٹرول ہے۔
عوام دانتوں میں انگلیاں دابے اُنھیں محافظوں کے لشکر میں’’ہٹو بچو‘‘ کا شور مچاتے گزرتے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو وجود میں آئے تقریباً آٹھ دہائیاں ہونے کو ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے، جیسے وقت منجمد ہوگیا ہو۔ ہر بات میں گورنینس کا ذکر ہوتا ہے، لیکن کوئی تو بتائے اِس کے معنی کیا ہے۔ گورنینس کا ذکر کرنے والوں کا کرّوفر، تن خواہیں اور مراعات دیکھیں۔
اُن کا معیارِ زندگی بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے، اُن کے خاندان سال میں کئی ماہ بیرونِ مُلک گزارتے ہیں، جب کہ عام آدمی کی حالت سب کے سامنے ہے۔ اِن افراد نے معاشرے میں ایسے خوف ناک تضادات پیدا کردیے ہیں کہ مزدور بھی سرکاری اسکول میں اپنا بچّہ پڑھانے کو تیار نہیں۔
سِول اسپتال میں علاج کو خیراتی کام تصوّر کیا جانے لگا ہے۔ حُکم ران دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن یہ بھی تو جا کر دیکھیں کہ ڈاکٹرز اور پروفیسرز پرائیوٹ پریکٹس سے کیسے اپنے محلّات تعمیر کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کو اُن کی گاڑیاں، بنگلے اور بچّوں کی تین، تین لاکھ روپے فیس نظر نہیں آتی۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہم آج تک لوکل باڈیز کا نظام کام یاب نہیں کر وا سکے، تو ایڈمنسٹریٹیو یونٹس کیا کارنامے سرانجام دیں گے۔ کاؤنسلر سے شکایت کرو، تو وہ کہتا ہے کہ واٹر بورڈ کا ایم ڈی آفس ہی میں نہیں گُھسنے دیتا۔ یہ تو ہمارے نظام کا حال ہے۔ تو نئے نظام میں بھی محض چہرے ہی بدلیں گے یا شاید وہ بھی نہ بدلیں۔ راستے بند ہوتے جا رہے ہیں اور منزل دُور، دُھندلاتی جارہی ہے۔ یوں لگتا ہے، ہم خلا میں پھڑپھڑا کر نیچے گر جاتے ہیں، جو یقیناً کوئی اچھی علامت نہیں۔
اگر قوم، خاص طور پر ایسی قوم، جس کی اکثریت نوجوان ہو، بے منزل ہو، تو اُس کا مستقبل کیا ہوگا، یہ جاننے کے لیے بہت بڑا فلسفی ہونا ضروری نہیں۔ ہم یہی طے نہیں کر پا رہے کہ اپنی اندرونی کم زوری پر فوکس رکھیں یا چھلانگ مار کر عالمی اُفق پر پہنچ جائیں۔ بیرونی مقام کا دارومدار اندرونی استحکام اور تعمیر وترقّی ہی پر ہے اور بدقسمتی سے یہ دونوں اِس وقت مفقود ہیں۔ ترقّی، جس کا محور معاشی قوّت ہو، ہمارے لیے لانگ ٹرم ہدف نہیں رہی۔
سِرے سے کوئی ویژن ہی نہیں، بس روزانہ مختلف طبقات کو کچھ خواب دِکھا دیے جاتے ہیں۔ نوجوانوں سے متعلق پالیسی لیپ ٹاپ، موبائل فون، آسان قرضوں، الیکٹرک اسکوٹر وغیرہ ہی کے گرد گھوم رہی ہے۔ مسلم لیگ نون یہ حکمتِ عملی گزشتہ صدی کی آخری دہائی سے اپنائے ہوئے ہے، جس کی وقتی طور پر تو بڑی واہ واہ ہوئی، لیکن پھر معلوم ہوا کہ قرضے تو واپس ہی نہیں کیے گئے۔ دراصل ہم وقتی نعرے بازی اور جذباتی تقاریر ہی پر یقین رکھتے ہیں۔
صبح بات کی اور شام کو اِس کا نتیجہ اسکرین پر اپنی قصیدہ خوانی کی شکل میں دیکھ لیا۔ ہم کام نہیں کرتے، بلکہ صرف خواب دِکھاتے ہیں۔ ایک تو ہمارے وزراء کو اُن کے مشیروں نے مصروف رکھنے اور تھکانے کے لیے ڈیبیٹرز کی طرح روز شام کو ڈیبیٹ کرنا سِکھا دیا ہے۔ میڈیا نے بھی اُنھیں مختلف پلیٹ فارمز مہیّا کیے ہیں، جہاں یہ رات کو بیٹھ کر عوام کو اپنے کارنامے سُنا دیتے ہیں۔ سب کو سب کچھ مل جاتا ہے سوائے عوام کے، جو سوتے ہوئے بھی کل کی فکر میں جاگتے رہتے ہیں۔
کل پانی آئے گا یا نہیں، بجلی کا بِل کیسے ادا ہوگا، کل پیٹرول کے دام کیا ہوں گے، اُن کے ذہنوں میں یہی سوالات گھومتے رہتے ہیں۔ ہم نے جمہوریت اور آمریت کے زمانوں میں اِس قسم کی تشہیری مہمّات میں خود حصّہ لیا اور پھر اِن کی ناکامی بھی دیکھی۔ لوگ ایسی باتوں پر ہنستے تھے اور آج بھی ایسے پروگرامز کوئی نہیں دیکھتا۔
اِن وزراء کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا کے زمانے میں کوئی ٹی وی لاؤنج میں سات سے دس بجے تک بیٹھ کے اُن کے بھاشن نہیں سُنتا، لیکن پھر بھی حیرت ہے کہ آج بھی وہی لوگ نئی نسل پر پُرانے نسخے آزما رہے ہیں۔ یہ کہنے، سُننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ’’پاکستان ایشین ٹائیگر بن جاتا…‘‘ مگر حقائق پر کوئی غور نہیں کرتا۔ ایشین ٹائیگر بننے والے خطّے کے پیچھے دو بڑی اور عظیم طاقتیں، چین اور جاپان اپنے سرمائے کے ساتھ کھڑی تھیں، تو فکری رہنمائی کے لیے تھاکسن، لی کوان، مہاتیر محمّد اور ڈینگ زیائو پنگ جیسی قیادت موجود تھی۔
شاید نواز شریف اُن ہی سے متاثر تھے، لیکن وہ قوم کے لیے کوئی حکمتِ عملی تیار کرنے میں ناکام رہے۔ وہ روایتی سیاست کے آگے بے بس نظر آئے، اِسی لیے پاکستان پھر ترقّی کے معاملے پر نقطۂ آغاز پر کھڑا ہے۔ چین، بھارت، سنگاپور، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، ویت نام، بنگلا دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا کہاں سے کہاں پہنچ چُکے، ہم وہیں کھڑے مختلف رنگوں کی عینکوں سے اُن کا نظارہ کر رہے ہیں۔ ہم ابھی تک آزادی کے وقت کی دوستی، دشمنی کے چکر ہی سے نہیں نکلے۔ یوں لگتا ہے، ہمارے وزیرِ خزانہ کے دل میں عوام کا درد ہی نہیں ہے، بس جمع، تفریق کی مشینی کارروائی پوری کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، ہمارے وزیرِ اعظم ہر وقت دل پر ہاتھ رکھ کر عوامی ریلیف کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ہماری آبادی کا غالب حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو مسلسل نیچے لڑھک رہے ہیں، تو کیا ایسے میں پاکستان کو کسی گرینڈ اسٹریٹیجی کی ضرورت نہیں، جس میں تعمیر و ترقّی اور اقتصادی کام یابیوں کے بنیادی اہداف موجود ہوں۔
سب سے پہلے تو ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری رہنما پالیسی کیا ہوگی۔ جن ممالک کا ہم نے ذکر کیا، اُن سب نے اپنے بنیادی پالیسی، معاشی ترقّی رکھی۔ یعنی اقتصادی پالیسی کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ قرض لیا جائے یا اپنے ہم وطنوں پر ایف بی آر کا ہوّا بٹھا کر دہائیوں سے ٹیکس دینے والوں اور مجبور ٹیکس گزاروں کو پیس دیا جائے۔ ہمارے وزیرِ خزانہ جب بھی میڈیا کے سامنے آتے ہیں، پسے طبقات کو نئے ٹیکسز کی خوش خبریاں ہی دینے آتے ہیں۔
حالاں کہ ترقّی کا سفر طے کرنے والے ممالک کے وزیرِ خزانہ اور اقتصادی پالیسی کے معمار، اہداف کے حصول کے لیے عوام کو باپ کی طرح شفقت، ہم دردی سے راضی کرتے ہیں اور اِسی لیے لوگ اُن سے محبّت کرتے ہیں۔ یہاں خوف زدہ کر کے پیسے بٹورنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تاکہ کسی طرح سالانہ بجٹ مکمل ہوجائے۔ ٹیکس لینے والے افسران کی شہرت سے بھی سب واقف ہیں۔ پھر بالادست طبقات کے لیے مختلف طرح کی چُھوٹ اور عوام پر ٹیکسز کا شکنجہ کسنے کی خبریں بھی روز پڑھنے، سُننے کو ملتی ہیں۔
کیا اِس کے بعد بھی توقّع کی جاسکتی ہے کہ یہاں ٹیکس کلچر پروان چڑھے گا۔ جس عوام سے مزید ٹیکس کا تقاضا کیا جاتا ہے، وہ جب ٹوٹی پُھوٹی سڑکوں، گندگی کے ڈھیروں اور کھنڈر نُما کراچی کو دیکھتے ہیں، تو لامحالا سوچتے ہیں کہ’’کیا اِسی پاکستان کا خواب دیکھا گیا تھا۔‘‘ ہماری اقتصادی پالیسیز صرف لیپ ٹاپ، الیکٹرک بسز اور امداد ہی میں نظر آتی ہیں۔ ترقّی تو انفرا اسٹرکچر، روزگار، برآمدات اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا نام ہے۔
پھر یہ کہ ٹیکنالوجی کے نام پر رسمی کورسز کرنے والے شاید اپنی روزی روٹی تو کما لیں، لیکن کسی مُلک کی ترقّی کی پائے دار اور وسیع بنیاد نہیں بن سکتے۔ ہمیں جہاں اسکلڈ لیبر کی ضرورت ہے، وہیں اعلیٰ ویژن رکھنے والے رہنما بھی درکار ہیں۔ چین کی مثال لے لیں۔ ہمارے اِس عظیم پڑوسی نے نصف صدی قبل جو پالیسی اپنائی، آج چَھٹی نسل اُسے آگے بڑھا رہی ہے۔ آج بھی اُن کی حکم ران جماعت کا سب سے اہم ایجنڈا اقتصادی ترقّی ہی ہے۔
ہمارے یہاں بحث مباحثے بہت ہوتے ہیں اور ہر چند روز بعد لوگوں کی توجّہ تقسیم کرنے کے لے نت نئے موضوعات چھیڑ دیے جاتے ہیں۔ پھر سابق فوجی، صحافی، ناکام بیورو کریٹس، سفراء، سماجی رہنما اور اقتصادی ماہرین، جنہیں قوم دیکھ دیکھ کر بے زار ہوچُکی ہے، گِھسے پِٹے بیانیے کے ساتھ ٹی وی اسکرینز پر نمودار ہوتے ہیں۔ اِس لایعنی بحث مباحثے سے مُلک و قوم کا وقت ضائع کیا جاتا ہے۔
اُدھر، بیرونِ مُلک موجود پاکستانیوں کے حالات بھی دگرگوں ہیں، جنہیں پاکستان سے زیادہ اپنے سیاسی نظریات عزیز ہیں۔ پاکستان کی تعمیر و ترقّی کے علاوہ، دنیا کا ہر جھگڑا اُن کا مسئلہ بن چُکا ہے۔ کبھی اِس اسکوائر پر جھنڈے لیے کھڑے ہیں، تو کبھی اُس سڑک پر نعرے لگا رہے ہیں۔ کنویں کے مینڈک بنے رہنے کی وجہ سے وہ میزبان ممالک کے عوام سے لاتعلق ہیں، بلکہ اپنے رویّوں کے سبب نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں اور وہاں کے معاشروں میں اُن کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہماری قیادت تین ماہ ایران جنگ میں اِتنی مصروف رہی کہ اُسے یہ خیال بھی نہ آیا کہ اپنے گھر میں کہاں کہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ دُکھ اِس امر کا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو اہداف کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا۔ اوّل، معیشت اور دوم، ہم سائیوں سے اچھے تعلقات۔ اب معیشت کا حال سب کے سامنے ہے۔ ہر ہفتے کی بجائے یومیہ بنیاد پر تیل قیمتوں میں ردّ وبدل ہو رہا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک کے بیچ ثالثی کے چکر میں اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اِس سے نصف کروڑ پاکستانی تارکینِ وطن پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے، تعلقات خراب کر لیے۔
قرضوں کا یہ حال ہے کہ اب صرف سعودی عرب پر انحصار ہے، باقی ممالک سے تعلقات میں ثالثی کے سبب سرد مہری پیدا ہوگئی۔ بھارت ہمارا دشمن نمبر ایک تھا، تو اب افغانستان بھی اُس کے ساتھ مل گیا۔ امن و امان کا حال تو دہشت گردی کی وارداتیں بتا دیتی ہیں۔ ہماری فارن مینجمینٹ کا یہ حال ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی اندرونی صُورتِ حال پر بیرونی میڈیا تقریباً خاموش رہا، حالاں کہ وہاں ہر روز شہریوں کو پھانسی دی جاتی ہے، لیکن آزاد کشمیر پر غیر مُلکی میڈیا جس طرح رپورٹنگ کررہا ہے، اُس سے پتا چلتا کہ ہمیں اپنے معاملات پر توجّہ دینے کی کتنی ضرورت ہے۔
ہمارے ہاں تاثر دیا گیا کہ ہم ایران جنگ میں ثالثی کرکے بھارت سے بازی جیت گئے، حالاں کہ اُس نے بڑی چالاکی سے کشمیر میں وہ بیج ڈال دیے، جس کے نتائج ہم بُھگت رہے ہیں۔ ایران اور عرب ممالک، جن کے لیے ہم جان مارتے رہے، وہ بھارت کے دوست ہیں، تو کیا وہ افغانستان اور بھارت کو پاکستان یا آزاد کشمیر میں شورش سے روکنے کے لیے ثالثی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں مودی نے کشمیر کی خود مختاری ختم کی، تو اُن کا عملی اور سفارتی قدم صرف یہ تھا کہ حکومت ہر جمعے کو اپنے شہروں میں انسانی زنجیریں بنواتی رہی اور یہ سلسلہ بھی جلد ختم ہوگیا۔
بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں روز مرّہ کی معاشی پالیسیز میں، عوام کو خوش کرنے یا ڈرانے کی بجائے پچاس سالہ گرینڈ اسٹریٹیجی مرتّب کرنے کی ضرورت ہے،جس میں معیشت کو اوّلیت ہی حاصل نہ ہو، بلکہ وہ تمام پالیسیز کی جان اور رہنما ہو۔ اِس پالیسی سے ہر جماعت کا متفّق ہونا ضروری ہے۔ ایک قومی ویژن قوم کے سامنے رکھا جائے اور نوجونوں کو اِس طرح موٹیویٹ کریں کہ اُن کی شرکت سے یہ ویژن آگے بڑھ سکے اور یہ سب محض بیانات تک محدود نہ ہو، بلکہ عوام کو میدان میں کام ہوتا بھی نظر آئے۔
بڑھتی آبادی، موسمیاتی تبدیلی، بے روزگاری، مایوسی عفریت بنتی جا رہی ہیں، جب کہ ہمارے دانش وَر اور تجزیہ کار صرف ایران، امریکا جنگ میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ اُنھیں معلوم ہو کہ آبنائے ہرمز کے علاوہ بھی دنیا موجود ہے۔ کیا پاکستانی اِس کے بند ہونے کے باوجود اِدھر اُدھر آ جا نہیں رہے اور ہمیں فیول کی کمی کا بھی سامنا نہیں ہے۔ لہٰذا، پرائے جھگڑے اُنہی کے لیے چھوڑ دیں، بس اپنے مُلک کی تعمیر و ترقّی ہی کو اپنا نشانِ راہ بنائیں۔