ہمارے یہاں رِیت سی چل نکلی ہے کہ وطن کا ذکر چھڑے تو لہجہ ماتمی ہو جائے گویا نوحہ گری ہی نصابِ دانش ٹھہری، اور اشک باری سندِ بصیرت۔ خرابیاں کم نہیں مگر فیصلہ سنانے سے پہلے انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمے کی اصل فردِ جرم پڑھی جائے: یہ ملک بنایا ہی کس دلیل پر گیا تھا؟ سو آئیے، اُس بزمِ فکر میں لوٹ چلیں جو 1940 اور 1947 کے درمیان برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں برپا تھی جہاں تین دلیلیں آمنے سامنے تھیں، اور تینوں کے وکیل اپنے اپنے یقین میں سچے۔پہلی دلیل مسلم لیگ کی تھی اور اُسکا جوہر مذہبی نہیں، خالص دنیاوی تھا۔ قائدِاعظم اور اُنکے رفقا کوئی مذہبی ریاست نہیں مانگ رہے تھے 11 اگست کی تقریر اِس پر گواہ ہے۔ اُنکا استدلال سیکولر تھا: جس نظام میں اکثریت مستقل ہو اور اقلیت مستقل، وہاں ووٹ کی مساوات ایک فریب ہے۔ہندو اکثریت کے دائمی راج میں مسلمانوں کو ہر دنیاوی پیمانے پر ’نوکری، تجارت، نمائندگی اور عزت ‘ دیوار سے لگا دیا جائیگا۔ بس ایک الگ مسلم وطن تاکہ اقلیت ہونے کی سزا نسل در نسل نہ بھگتنی پڑے۔ اور تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اِس مطالبے کی سب سے پرجوش حمایت اُنہی صوبوں کے مسلمانوں سے اٹھی اتر پردیش، بہار جو جانتے تھے کہ مجوزہ پاکستان میں اُنکا اپنا گھر شامل نہ ہوگا گویا وہ اپنے لیے نہیں، ایک اصول کیلئے لڑ رہے تھے اور کچھ اِس امید پر کہ ایک مضبوط مسلم ریاست کا وجود ہی پیچھے رہ جانے والوں کی ڈھال بنے گا۔دوسری دلیل کانگریسی مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی اس دلیل کے سرخیل تھے ۔ مدنی صاحب نے اپنے رسالے’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ (1938) میں مقدمہ باندھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں، عقیدے سے نہیں۔ ہندو اور مسلمان ایک ہی ہندوستانی قوم کے دو دھارے ہیں اور شریعت کو ایسے وطن میں رہنے سے انکار نہیں جہاں دین کی آزادی میسر ہو۔ مولانا آزاد کی دلیل انتخابی حساب کتاب پر مبنی تھی : متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت ایک ٹھوس انتخابی دھڑا ہو گا۔ تقسیم مسلمانوں کو کمزور ٹکڑوں میں بانٹ دے گی جو کروڑوں پیچھے رہ جائینگے وہ ہمیشہ کیلئے یرغمال ٹھہریں گے نہ تعداد میں وہ وزن رہے گا، نہ آواز میں وہ زور۔ اور اگر متحدہ ہندوستان میں اکٹھے رہے تو انتخابی ترازو کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو گا ۔ اور تیسری دلیل مولانا مودودی کی تھی جو دونوں سے الگ کھڑے تھے: قومیت متحدہ ہو یا جدا سرے سے غیر اسلامی ہے۔ لیگ کی قیادت مغرب زدہ ہے اور اُسکا پاکستان مسلمانوں کی ایک قومی ریاست ہوگی، حکومتِ الٰہیہ نہیں، سو یہ سودا انہیں بھی منظور نہ تھا۔ پنجاب کے یونینسٹ الگ اپنا راگ الاپتے تھے صوبائی خودمختاری کی مخلوط سیاست جسے تقسیم کی آندھی نے اڑا دیا۔ بالآخر تاریخ نے فیصلہ لیگ کے حق میں دیا مگر 1947 میں مقدمہ جیتنا ایک بات ہے اور 79 برس بعد اُس فیصلے کا درست ثابت ہونا بالکل دوسری بات۔
اور یہی اِس تحریر کا اصل سوال ہے۔ لیگ کی دلیل چونکہ دنیاوی تھی۔ ’نوکری، نمائندگی، روٹی، عزت ‘ اِس لیے وہ پرکھی جا سکتی ہے۔ عقیدے کے دعوے ترازو کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ 79 برس گزر چکے، شواہد جمع ہو چکے، مقدمہ دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور انصاف یہ ہے کہ پرکھ اُنہی پیمانوں پر ہو جو لیگ نے خود چنے تھے: نوکری، نمائندگی، روٹی، عزت۔ سو کیا قائد کے خدشات درست تھے؟ اہلِ فکر اِس طرزِ استدلال کو counterfactual کہتے ہیں ۔تاریخ سے یہ پوچھنا کہ اگر فلاں موڑ نہ مڑا ہوتا تو قافلہ آج کہاں ہوتا۔ اور قدرت نے جواب محفوظ رکھا ہے، کیونکہ اُس قافلے کی جیتی جاگتی تصویر آج بھی موجود ہے: مغربی اتر پردیش کا مسلمان وہی عقیدہ، وہی تہذیب جو 1947 سے پہلے ہم سے سیاسی طور پر الگ نہ تھا بس قسمت کا بٹوارہ الگ ہوا۔ وہ ہمارا آئینہ ہے۔اُسکے آج میں ہم اپنا وہ کل پڑھ سکتے ہیں جو تقسیم نہ ہوتی تو ہمارا مقدر ہوتا۔ گویا قائد کی دلیل کی پرکھ اُسی سرزمین پر ہو رہی ہے جسکے جلسوں میں وہ دلیل پہلی بار گونجی تھی۔ مگر آئینہ اٹھانے کی ایک شرط ہے اور وہ مولانا روم نے مثنوی کے پہلے ہی دفتر میں بتا دی تھی
آینہ ات دانی چرا غماز نیست
زانکہ زنگار از رخش ممتاز نیست
جانتے ہو تمہارا آئینہ سچ کیوں نہیں بولتا؟ کہ اُسکے چہرے سے زنگ نہیں اترا۔ سو پہلا فرض آئینے سے زنگ اتارنا ہےاور زنگ اتارنے کا دوسرا نام دیانت ہے۔مگر آئینہ اٹھانے سے پہلے ایک لمحہ اُس کامیابی کا ذکر جو سب سے کم قابلِ تردید ہےخود پاکستان کا وجود۔ جو قوم تقسیم سے پہلے برصغیر کی ایک چوتھائی آبادی تھی، اُس نے الگ مملکت تراش لی اور اُنّاسی برس اُس ہمسائے کے مقابل قائم رکھی جو آج حجم میں سات گنا بڑا ہےایک ایسا ہمسایہ جسکی بنیادی فکری تحریکوں نے نئی مملکت کے حقِ وجود ہی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ساورکر سے گولوالکر تک، اور اکھنڈ بھارت کے اُس نقشے تک جو دریائے آمو سے دریائے سالوین تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ کسی متروک کاغذ کا ذکر نہیں، اُس جماعت کا علانیہ ورثہ ہے جو 2014ءسے دلّی پر حکمران ہے۔ ریاست نہ ملے تو کیا ہوتا ہے، اس کی گواہی اندلس کی سرزمین ہے ۔ قرطبہ و غرناطہ کے وارث بحیثیتِ قوم صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے؛ اُنکی یادگار الحمرا کی دیواروں پر کندہ ’’و لا غالب الا اللہ‘‘ ہے، جسے سیاح تصویروں میں قید کرتے ہیں۔ اور ہاں برما کے صوبے اراکان کے روہنگیا جو شہریت سے محروم کر کے دھکیل دیے گئے۔ اِس ترازو پر پاکستان نوحہ نہیں، سیاسی بقا کی نادر مثال ہے۔ ابنِ خلدون نے ’’مقدمہ‘‘ میں لکھا تھا کہ ریاستیں عصبیت سے قائم ہوتی ہیں ۔اُس اجتماعی ولولے سے جو بکھرے افراد کو ایک قالب میں ڈھال دے۔ 1947 میں برصغیر کے مسلمانوں کی عصبیت نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا اور 79 برس اُسی عصبیت نے سرحدیں سنبھالے رکھیں۔ مگر ابن خلدون کی دوسری تنبیہ بھی پلے باندھئے،عصبیت فتح دلاتی ہے اور تعیش اُسے گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ سو بقا کے بعد اصل امتحان یہ ہے کہ اِس عصبیت کو تلوار سے اینٹ گارے کی طرف کیسے موڑا جائے۔
اب وہ آئینہ کھلتا ہے جسے کسی مخالف نے نہیںخود بھارتی ریاست نے صیقل کیا۔سرحد کے اُس پار کے حال کی امّ الکتاب وہ دستاویز ہے جو کسی مخالف نے نہیںخود بھارتی ریاست نے اپنے ہاتھوں مرتب کی۔ 2005ءمیں وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بٹھائی کہ آزادی کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر پوچھا جائے:بھارت کے مسلمان کس حال میں ہیں؟ 2006ءمیں چار سو صفحوں کا جواب آیا اور پڑھنے والوں کے ہاتھ کانپ گئے۔سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ محض 6.4فیصد،باقاعدہ ملازمت میں 8 فیصد سے کم، جبکہ قومی اوسط 21فیصداور کئی پیمانوں پر مسلمان دلتوں سے بھی نیچے۔ یہ کسی دشمن کا الزام نہ تھا یہ ریاست کا اپنا اقبالِ جرم تھا، مہر بند، دستخط شدہ۔ (جاری ہے)