• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی قومی تاریخ میں بعض دن صرف تقریبات کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کے تعین کے لیے بھی اہم ہوتے ہیں۔ گیارہ اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جسے ہر سال ’’یومِ اقلیت‘‘کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس دن کا مقصد پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم برادریوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے آئینی و شہری حقوق کے عزم کی تجدید کرنا ہے، لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا ایک ایسے ملک میں، جہاں ہر شہری برابر کے حقوق کا حامل ہے، یومِ اقلیت کی اصطلاح قومی وحدت کے تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ ہے؟ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ اس دن کو یومِ مساوات کا نام دیا جائے تاکہ ہر پاکستانی اپنے آپ کو برابر کا شہری محسوس کرے، نہ کہ کسی الگ شناخت کے ساتھ؟

پاکستان میں بسنے والے مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی، کیلاش اور دیگر غیر مسلم برادریوں نے صرف پاکستان میں رہنے کا انتخاب ہی نہیں کیا بلکہ اس وطن کی تعمیر، استحکام اور ترقی میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔ تحریکِ پاکستان سے لے کر دفاعِ وطن، تعلیم، صحت، عدلیہ، صنعت، تجارت، کھیل، فنونِ لطیفہ اور سماجی خدمت تک ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے ہر آزمائش میں اپنے وطن سے وفاداری کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو کسی الگ شناخت سے نہیں بلکہ سب سے پہلے پاکستانی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر مکمل آزادی حاصل ہو، ریاست تمام شہریوں کے ساتھ بلاامتیاز مساوی سلوک کرے اور کسی کیساتھ اس کے عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے۔ قائداعظمؒ کا وژن ایک ایسے پاکستان کا تھا جہاں شہریت ہی سب سے بڑی شناخت ہو اور قانون کی نظر میں ہر پاکستانی برابر ہو۔ یہی وہ نظریہ ہے جسے آج مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

لفظ صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی رویوں اور اجتماعی شعور کی تشکیل بھی کرتے ہیں۔ اقلیت ایک آئینی اور عددی حقیقت ضرور ہے، لیکن جب یہی لفظ قومی شناخت کا مستقل حوالہ بن جائے تو غیر محسوس انداز میں تفریق کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس یومِ مساوات ایک ایسا عنوان ہے جو کسی تقسیم کی نہیں بلکہ برابری، احترام، شمولیت اور قومی یکجہتی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ نام نہ صرف غیر مسلم پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرے گا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان میں ہر شہری کی عزت، وقار اور حیثیت برابر ہے۔

ہماری حکومتِ وقت، پارلیمان، ریاستی اداروں اور قومی قیادت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ یومِ اقلیت کو یومِ مساوات کا نام دینا محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مثبت قومی سوچ کا اظہار ہوگا۔ یہ اقدام قائداعظمؒ کے وژن، آئینِ پاکستان کی روح اور مساوی شہریت کے اصول کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس سے پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر بھی تقویت ملے گی اور نئی نسل میں یہ شعور پیدا ہوگا کہ اس ملک میں کسی کی پہچان اس کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کی پاکستانی شہریت سے ہے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں نے کبھی خود کو اس وطن سے الگ نہیں سمجھا۔ انہوں نے اس سرزمین کے لیے قربانیاں دی ہیں، اپنی صلاحیتیں وقف کی ہیں، قومی پرچم کی حرمت کو اپنی عزت سمجھا ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ یہی جذبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ قومی بیانیہ بھی ایسا ہو جو فاصلے پیدا نہ کرے بلکہ دلوں کو قریب لائے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ، ہر نوجوان اور ہر بزرگ یہ محسوس کرے کہ اس کی شناخت، اس کے حقوق اور اس کا مستقبل برابر کی بنیاد پر محفوظ ہیں۔ مساوات ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط قومیں تعمیر ہوتی ہیں، اور یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں قائداعظمؒ کے افکار، آئینِ پاکستان اور ہمارے قومی پرچم سے ملتا ہے۔

پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہری اپنے پورے خلوص، محبت اور وفاداری کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم اقلیت نہیں، ہم ہی پاکستان ہیں۔ اور ہم دل کی گہرائیوں سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

تازہ ترین