راشد لنگڑیال 1995ء میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا حصہ بنے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم پائی۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ آپ کے نیازمند کی دیرینہ رائے ہے کہ اجتماعی زندگی کے تمام بنیادی شعبوں میں انسانی سرمائے کا کم تر معیار وطن عزیز کا بنیادی مسئلہ ہے۔ تمام شعبوں میں کل ملا کے معیاری انفرادی صلاحیت کی شرح دوہرے ہندسے میں داخل نہیں ہوتی۔ حسن اتفاق سے راشد لنگڑیال زمین کے اسی نمک کا قابل قدر حصہ ہیں۔ اگست 2024 ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ مقرر ہوئے ۔ ان کی رہنمائی میں ایف بی آر نے نامساعد حالات میں محصولات کا گراف 32ارب ڈالر سے 46ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ بہت اچھے شاعر ہیں۔حالیہ کچھ عرصے سے اسی ادارتی صفحے پر کالم بھی لکھتے ہیں۔یہ کالم اردو میں معاشیات کے موضوع پر ایک قومی خدمت کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج کے اخبار میں لیکن ہمارے ممدوح نے تاریخ کے معدن میں تیشہ آزمائی کی ہے۔ اس میں اختلاف کے چند د ر چند پہلو برآمد ہوئے ہیں۔ آئینے سے زنگ اتارنا تاریخ کا قرض ہے۔ راشد لنگڑیال نے ایک صدی قبل کا سیاسی منظر بیان کیا ہے جب متحدہ ہندوستان میں آزادی کی لڑائی مختلف اور باہم متضاد بیانیوں میں بٹ گئی تھی۔ راشد صاحب کہتے ہیں’جس نظام میں اکثریت مستقل ہو اور اقلیت مستقل، وہاں ووٹ کی مساوات ایک فریب ہے‘۔یہاں ہمارے ممدوح نے ٹھوکر کھائی ہے۔ انسانی اجتماع میں شناخت کی بیک وقت کئی صورتیں موجود ہوتی ہیں۔ جمہوریت تمام شہریوں کی مساوات کا نام ہے اور اس میں سیاسی عمل کی بنیاد کسی ناقابل مبدل شناخت پر نہیں رکھی جاتی مثلاً عقیدہ، زبان یا نسل۔ جمہوری سیاست میں عقیدے ، زبان ، نسل یا ثقافت کے دخل سے مستقل تفرقے، اعتماد کے بحران اور تقسیم در تقسیم کا دروازہ کھلتا ہے۔ راشد صاحب نے مولانا حسین احمد مدنی کا استدلال بیان کیا ہے اور پھر مسلم لیگ کے مؤقف کو بنیادی طور پر معاشی تحفظ کا مقدمہ قرار دیا ہے۔ صاحب موصوف نے تیسری دلیل مولانا مودودی سے اخذ کی ہے اور تمام تر عذر خواہی کے علی الرغم یہ بھی لکھ دیا کہ ’1947 میں مقدمہ جیتنا ایک بات ہے اور 79 برس بعد اس فیصلے کا درست ثابت ہونا بالکل دوسری بات‘۔ تاریخ کا بے خبر طالب علم سمجھتا ہے کہ عقائد کی موشگافیاں قدیم مخطوطوں اور قانونی نکات سے طے نہیں پاتیں۔ عقائد کا حقیقی رنگ سادھارن عوام کے فہم سے طے پاتا ہے ۔ اس کی بنیاد علمی کی بجائے جذباتی اور نفسیاتی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان میں قائداعظم کا قانونی اور سیاسی فہم کام نہیں آیا بلکہ مودودی صاحب کی ’حکومت الٰہیہ‘ کا سکہ چلا۔ مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور میں ’اسلامی نظام حکومت‘ یا’ قرآن و سنت‘ کی ترکیب کہیں استعمال ہوئی؟مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1941ء منعقدہ مدراس میں لیاقت علی خان کی پیش کردہ قرارداد دیکھئے۔ مطالبہ پاکستان کو مسلم لیگ کا Credoقرار دیتے ہوئے لیاقت علی خان نے اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ تقسیم ہند کا مطالبہ بنیادی طور پر اقلیتوں کے تحفظ سے تعلق رکھتا تھا۔ بعد ازاں ہم نے پاکستان میں اقلیت کی اصطلاح کو ایک شماریاتی مظہر سے شہریت کے درجے میں بدل دیا۔ آزادی کے بعد مختلف گروہوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شروع ہوا تو اس کے پس پشت یہ ذہنیت کارفرما تھی کہ اقلیت میں ہونا گویا کسی درجہ عقوبت سے تعلق رکھتا ہے۔
قائداعظم نے 11 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کا ریاستی تشخص بیان کیا تھا۔ بابائے قوم کا یہ جملہ سونے کے حرفوں میں لکھے جانے کے قابل ہے ’آپ کے عقیدے کا کاروبار ریاست سے کوئی تعلق نہیں‘۔ لیکن ہندوستان تقسیم ہو چکا تھا اور پاکستان میں شامل ہونے والے منطقوں سے غیر مسلم آبادی کو زبردستی خارج البلد کیا جا چکا تھا۔ یہ گویا راشد لنگڑیال صاحب کے ’’نوکری، تجارت، نمائندگی اور عزت ‘ والے مطالبے کی عملی صورت تھی۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ 16اگست 1946 ء کو کلکتہ فسادات ہوئے تو بنگال میں مسلم لیگی حکومت تھی۔ نواکھلی میں غیر مسلم اقلیت میں تھے ۔ 4مارچ 1947 ء کو راولپنڈی فسادات مسلم اکثریتی علاقے میں رونما ہوئے ۔ 6جنوری 1948 ء کے کراچی فسادات میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے چھنگلی ہلانے کی زحمت نہیں کی۔ بابائے قوم کی وفات کے ٹھیک چھ ماہ بعد قرارداد مقاصد تمام قواعد و ضوابط روندتے ہوئے منظور کی گئی۔ یہ قرارداد ابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر پیشوائوں کی تالیف قلب کا سامان تھی۔ اس قرارداد سے ٹھیک ایک برس بعد لیاقت علی خان نے 8اپریل 1950 ء کو دہلی میں نہرو لیاقت معاہدے پر دستخط کیے ۔ اس معاہدے میں اقلیتوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی ۔ مہاجرین کی جائیداد اور لوٹی ہوئی املاک کی واپسی کا اعلان کیا گیا۔دونوں ریاستوں نے مذہب کی جبری تبدیلی مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جوگندر ناتھ منڈل کے استعفیٰ کا متن قابل توجہ ہے۔ بالآخر 1971 ء میں ہم نے ریاستی قوت سے عوام کو کچلنے کی اس روایت کو منطقی انجام تک پہنچایا جسے چیف سیکرٹری عزیز احمد نے فروری 1950 ء میں اینڈرسن پل کے قتل عام سے شروع کیا تھا۔ 1985ء میں میاں طفیل احمد نے قرارداد مقاصد کو دستور کے متن کا حصہ بنانے کے عوض جنرل ضیاالحق کو آٹھویں آئینی ترمیم بخش دی۔ ایم پی بھنڈارا نے2004 ء اور پھر 2007ء میں بابائے قوم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کو آئین کا حصہ بنانے کی آئینی ترمیم پیش کی تھی لیکن تاریخ کے آئینے کا زنگ قائم رہا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2009 ء میں 11اگست کو اقلیتوں کا قومی دن قرار دیا تو وہ تعبیر کی غلطی کر رہے تھے۔ بابائے قوم کی تقریر اقلیتوں سے متعلق نہیں تھی ۔ قائداعظم نے تو پاکستان میں مساوی شہریت کا اصول بیان کیا تھا جس میں ریاست کو شہریوں کے عقیدے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ریاست عقائد میں عمل داری قائم کرتی ہے تو سود و زیاں کی میزان میں خسارہ ہی باقی بچتا ہے۔