پچھلی نشست چار سو صفحوں کے اُس محضر پر رکی تھی جس پر پڑھنے والوں کے ہاتھ کانپ گئے۔ سچر رپورٹ کے بعدجو رپورٹیں آئیں، اُنہوں نے سچر کی کھینچی لکیر کو مٹایا نہیں، گہرا کیا۔ سرکاری سطح پر کنڈو کمیٹی (2014) نے آٹھ برس بعد جائزہ لیا تو لکھا کہ کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئی۔ علمی سطح پر امریکن اکنامک جرنل (2024ء) میں ایشر، نووساد اور رفکن (Asher, Novosad and Rafkin) کی تحقیق نے چونکا دینے والا نتیجہ نکالا:بھارت میں دلتوں کی نسل در نسل ترقی بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی گھٹ رہی ہے، مسلمان اب وہ واحد بڑا طبقہ ہے جسکے بیٹے اپنے باپ سے آگے نکلنے کی امید کھوتے جا رہے ہیں۔
نمائندگی کا مجموعی نقشہ بھی ایسا ہی ہے۔ 2024 کے انتخابات میں 543کے ایوان میں صرف 24 مسلمان، تقریباً 14فیصد آبادی کیلئے 4.4فیصد نمائندگی، اِس کے برعکس پاکستان کا مسلمان خواہ اُسے ریاست سے کتنے ہی گلے کیوں نہ ہو،اپنی مملکت کے ہر منصب کا حق دار ہے: وزیرِاعظم، سپہ سالار، منصفِ اعلیٰ، گورنرِ اسٹیٹ بینک۔ بھارت کے مسلمان کیلئے موجودہ بندوبست میں وہ راستہ بند ہے۔ یہی 1947ءکا اصل منافع ہے، اور یہ متاع حقیر مت جانیو۔
اب نمائندگی کے مسئلے کو ایک جغرافیے میں سمیٹ کر دیکھیے،عین اُس خطے میں جہاں قائد کی دلیل پہلی بار گونجی تھی۔ مغربی اتر پردیش اور روہیل کھنڈ کے پندرہ اضلا ع رام پور، مراد آباد، سنبھل، بجنور ، سہارن پور، شاملی، مظفر نگر اور امروہہ، جہاں مسلم آبادی چالیس فیصد سے اوپر ہے؛ اور بریلی، میرٹھ، ہاپوڑ، باغپت، غازی آباد، پیلی بھیت اور بدایوں ، جہاں یہ تناسب پانچویں حصے سے زائد ہے،میں 2011 ءکی مردم شماری کے مطابق تقریباً 2 کروڑ مسلمان اور کوئی 3 کروڑ ہندو بستے ہیں ؛ یعنی آبادی کا 40 فیصد، اور اگر الگ ملک بنا لیتے تو سری لنکا جتنا بڑا ملک ہوتا ۔ اب نمائندگی دیکھیے۔ 2024ءمیں اِس پٹی کی تقریباً 15 لوک سبھا نشستوں میں سے مسلمانوں کے حصے میں 4آئیں سہارن پور، کیرانہ، رام پور، سنبھل،باقی گیارہ ہندو ارکان کے پاس: 40 فیصد آبادی کو چوتھائی سے کم، 60فیصد کو تین چوتھائی سے زائد۔ اور صوبائی اسمبلی کا عالم یہ کہ پورے اتر پردیش کے 403کے ایوان میں 34 مسلمان اور 369 غیر مسلم بیٹھے ہیں،19 فیصد آبادی کو 8 فیصد نشستیں،حکمران جماعت سے ایک مسلمان بھی نہیں، کیونکہ اُس نے 2017ءاور 2022ءمیں ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا تک نہیں کیا۔
سیاسیات کے اہلِ نظر نے اِس گتھی کو بہت پہلے سلجھا دیا تھا، ٹاک وِل (Tocqueville) اور جان اسٹورٹ مِل (John Stuart Mill) نے اِسے” اکثریت کا استبداد “کہا تھا ، اور بعد کے صاحبانِ بصیرت نے اس کا میکانزم بھی بیان کر دیا: انتخابی سیاست میں جماعتیں اُس ووٹر کے تعاقب میں رہتی ہیں جو عین درمیان میں کھڑا (Median Voter) ہو ، کہ فتح کا راستہ اُسی کے دروازے سے گزرتا ہے۔ جہاں رائے دہندگان رائے کی لکیر پر بٹے ہوں، یہ دوڑ اعتدال کی طرف لے جاتی ہے؛ مگر جہاں بٹوارہ ایسی شناخت پر ہو جو بدلی نہیں جا سکتی، وہاں درمیانی ووٹر اعتدال کا سرچشمہ نہیں بن پاتا ، وہ ہمیشہ اکثریت کا فرد ہوتا ہے، اور کوئی منشور اُسے بدل نہیں سکتا۔ سو جب انتخاب گنتی بن جائے تو مقابلہ الٹا چلتا ہے: اقلیت کے ووٹ بازار میں ہیں ہی نہیں، سو جماعتیں اُسے رِجھانے کے بجائے اُس سے دُوری میں بازی لے جاتی ہیں، ہر جماعت کی وفاداری کا پیمانہ یہ کہ مسجد سے کتنے فاصلے پر کھڑی ہے۔ ہوروِٹز (Donald Horowitz) نے اس عمل کا سری لنکا سے نائجیریا تک مشاہدہ کیا؛ اتر پردیش اِس عمل کا ایک جیتا جاگتا تھیٹر ہے، ہر” سیکولر “جماعت چپکے سے مسلم امیدوار سے پرے بھاگتی ہے اور ہر انتخاب کے موقع پر مندروں سے پرانی محبت از سر نو دریافت کرتی ہے۔
گویا آزاد کا سارا حساب جس مفروضے پر تھا کہ اکثریت کو سودے بازی کی حاجت رہے گی،وہ مفروضہ ہی درست نہ تھا۔ مراد آباد کا چالیس فیصدی مسلمان درمیانی ووٹر (Median Voter) نہیں، انتخابی مہم کا خام مال ہے۔ آزاد کی ریاضی امان کیا خریدتی؛ فریقِ مخالف کی صف بندی کا ذریعہ بنتی رہی۔
سیاسی حیثیت کے بعد روٹی کا حساب ،اور یہاں پہلا کام اُس پردے کو سرکانا ہے جسکے پیچھے” اوسط “کا بت کھڑا کیا جاتا ہے۔ قوتِ خرید کے پیمانے پر بھارت کی فی کس قومی آمدنی تقریباً 900 ڈالر ماہانہ بنتی ہے مگر بھارت میں کوئی”اوسط انسان “بستاہی نہیں؛ وہاں طبقے بستے ہیں، اور طبقوں کے بیچ کھائیاں۔ 2021-22 کے سرکاری جائزوں کا تناسب بتاتا ہے: اونچی ذات کا ہندو،آبادی کا بمشکل 12 فیصد،خرچ میں سب سے اوپر؛ دلت آبادی کا کوئی 20 فیصد، سب سے نیچے؛ اور مسلمان؟ اجلاف کا تو ذکر ہی کیا؛ اشراف مسلمان کا خرچ بھی دلت کے برابر ہے، اور ہندو اشرافیہ اُس سے 52 فیصد اوپر ، خالص مذہبی تاوان کا صاف ترین پیمانہ، کہ ذات کا درجہ دونوں پلڑوں میں برابر دھرا ہے۔ پورا طبقہ نیچے کی پٹی میں سمٹا، سہما اور سکڑا ہوا۔ اہرام کی چوٹی پتلی اور تابندہ، دامن وسیع اور تاریک ،اور مسلمان سارے کے سارے تاریک دامن میں کہیں گم ہیں۔
اور جیسے طبقے، ویسے خطے،بھارت میں کوئی ” اوسط ریاست“بھی نہیں بستی۔ کرناٹک اور تلنگانہ جیسی بڑی ریاستوں کی فی کس آمدنی 3600ڈالر سے اوپر ہے، جبکہ بہار کی صرف 650 ڈالر صومالیہ سے بھی کم؛ اور یہ فاصلہ 30برس میں سکڑنے کے بجائے اور بڑھا ہے۔ اِس کے مقابل پاکستان کے صوبے:سندھ 1748ڈالر، پنجاب 1714، خیبر پختونخوا 1388، بلوچستان 1106کُل تفاوت ڈیڑھ گنا کے اندر۔ ہمارا غریب ترین صوبہ امیر ترین کے 63فیصد پر کھڑا ہے؛ بھارت کا بہار کرناٹک کے 18فیصد پر۔ بلوچستان کی محرومی حقیقی ہے اور اُس کا مداوا فرض؛ مگر جس وفاق میں معاشی فاصلے اِس قدر کم ہوں، وہ کم از کم ایک ملک تو ہے۔ (جاری ہے)