گزشتہ دو نشستوں کا حاصل یہ کہ اب فیصلہ لکھا جا سکتا ہے۔ قائد کا خدشہ اُن پر حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا جو آئینے کے اُس پار رہ گئے، ہر پیمانے پر وہی فیصلہ جسکی خبر 1940ءمیں دی گئی تھی۔ اور تقسیم اُن کیلئےنجات ثابت ہوئی جو اِدھر آ گئے، اور اُن کیلئے آزمائش جو نہ آ سکے۔ اور تیسرے وکیل کا انجام تاریخ کا تلخ لطیفہ ہے:مولانا مودودی، جو اِس مطالبے کے ناقد تھے، خود ہجرت کر کے اُسی پاکستان آ بسےگویا دلیل جو بھی جیتی، پناہ سب نے اُسی چھت تلے ڈھونڈی۔ ہم جو اِس پار ہیں، ہمارے ذمے دونوں قرض ہیں اپنی نجات کا شکر، اور اُن کی آزمائش کا درد۔
مگر ایک تیکھا سوال باقی ہے، اور کوئی دیانت دار قلم اُس سے آنکھ نہیں چرا سکتا: محبوس پر سبقت کوئی کمال نہیں؛اصل مقابلہ آزاد مسلم قوموں کے درمیان ہے۔ سو دوسری کسوٹی جو پہلی سے کہیں کڑی ہے۔ خلیج کی بادشاہتیں موازنے سے باہر، اُن کی آمدنی تیل کا کرشمہ ہے؛ درست موازنہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، مصر، نائجیریا سے ہے۔بڑے مسلم ممالک میں کتنے ہیں جہاں اقتدار بار بار انتخاب سے حریف جماعتوں میں منتقل ہوا؟ انڈونیشیا 1998 ءسے اِس راہ پر ہے، بنگلہ دیش وقفوں اور دھچکوں سے، نائجیریا 1999ءسے؛ مصر کی واحد جمہوری منتقلی سال بھر میں بغاوت نے اُلٹ دی۔ پاکستان کا ریکارڈ مثالی نہ سہی چار مداخلتیں مگر بنیادی آئینی ڈھانچہ ضدی حد تک پایدار ہے: 2008ءسے 2024ءتک چار بار اقتدار واقعتاً متحارب جماعتوں کے بیچ ہاتھ بدلتا رہا۔
اور صرف انتخاب ہی نہیں تکثیریت کا پورا مزاج دیکھیے۔ بادشاہتوں میں سیاسی جماعت بنانا جرم ہے؛ ایک ہمسائے میں امیدوار کو مذہبی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے؛ ایک اور ہمسائے میں بچیوں پر مدرسے کا دروازہ بند ہے اُن کے مقابل یہ ملک کھڑا ہے: درجن بھر لڑتی جھگڑتی جماعتیں، ایک منہ زور بار، ایک آزاد عدلیہ، اور ایک بے باک میڈیا۔ ہم اپنی تکثیریت کی قدر اِس لیے نہیں کرتے کہ ہم نے کبھی اُس کے بغیر جی کر نہیں دیکھا۔ اور اِس تکثیریت کی چھت 1973 ءکا آئین ہے ہماری تاریخ کی واحد دستاویز جس پر ہر جماعت نے، مذہبی ہو یا سیکولر، قوم پرست ہو یا وفاق پسند، متفقہ مہر لگائی۔ اسے معطل کیا گیا، ادھیڑا گیا، مسخ کیا گیا مگر ختم کوئی نہ کر سکا؛ قوم ہر بار اُسی کی طرف لوٹ آئی۔ جو آئین تین آمریتیں جھیل کر زندہ رہے، وہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا، ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے۔
فوجی لحاظ سے ہم وہ واحد مسلمان ریاست ہیں کہ جس نے عالمی پابندیوں کے عالم میں ایٹمی صلاحیت بنائی اور محفوظ رکھی۔ اسی فوجی صلاحیت کا ایک تازہ امتحان مئی 2025ءکی چار روزہ جنگ تھی۔ پہلی ہی رات وہ فضائی معرکہ ہوا جسے مبصرین نے کئی دہائیوں کا سب سے بڑا ہوائی تصادم کہا خبروں کے مطابق دونوں طرف سے سو سے زائد طیارے فضا میں اور اُس رات ایک نسبتاً چھوٹی فضائیہ نے کہیں بڑی فضائیہ کے مقابل وہ کر دکھایا جو اب جنگی درسگاہوں میں پڑھایا جائیگا:
الیکٹرانک جنگ، زمینی ریڈار، فضائی پلیٹ فارم اور میزائل سب ایک مربوط زنجیر میں پروئے ہوئے ایک کثیر جہتی (ملٹی ڈومین) کارروائی، جس نے دنیا بھر کے دفاعی حلقوں کو چونکا دیا۔ بھارت کے اپنے سپہ سالار نے طیاروں کے نقصان اور حکمتِ عملی کی اصلاح کا اعتراف کیا؛ کم از کم ایک رافیل یورپ کا فخر گرا دیا گیا: ہم تین کہتے ہیں، دلی خاموش ہے۔ اور اُس رات کے بعد تقریباً ایک د ن کیلئے بھارتی فضائیہ کی پروازیں تھم سی گئیں۔
مگر جو بات دعوے سے ماورا ہے وہ یہ کہ ایٹمی سایے میں لڑی جانے والی اِس محدود لڑائی میں ریاست سیسہ پلائی دیوار بن گئی؛ اور جنگ بندی کے بعد کا سفارتی میدان پاکستان کیلئے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ جو قوم اتنے بڑے حریف کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے، اُس کے اندر کوئی چنگاری تو ہے جسے ماتم کی راکھ میں دبا دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔
ڈٹ کر کھڑا ہونا صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ یہی ریاست حریفوں کے بیچ پُل بھی بنی رہی:1971 میںواشنگٹن اور بیجنگ کے بیچ پہلا خفیہ دروازہ راولپنڈی سے ہی کھلا تھا ؛ افغان امن مذاکرات کی میزبانی ہمیں نے کی ؛ اور مئی 2025 ءکے بعد سے مشرقِ وسطیٰ اور اُس سے آگے کی دنیا ایک بار پھر ثالثی کیلئے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ایک مضبوط، ثابت قدم ریاست جو لڑنا جانتی ہے مگر جوڑنا بھی، یہی وہ کردار ہے جو قائد نے چاہا تھا۔
رہا معیشت کا باب، تو اُس پر نہ ماتم درکار ہے نہ مغالطہ صرف دیانت، اور دیانت کا پہلا تقاضا یہ کہ پورا قصہ سنایا جائے، آدھا نہیں۔ 1960ءسے 2008 ء تک کے اڑتالیس برسوں میں پینتیس برس ہم فی کس آمدنی میں اپنے مشرقی ہمسائے سے آگے رہے؛ 1970ءمیں ڈیڑھ گنا، اور 1990ء میں بھی، قوتِ خرید پر، تین ہزار ڈالر بمقابلہ اٹھارہ سو۔ بھارت کی سبقت 2009ء سے شروع ہوتی ہے، عین اُس دہائی سے جب ہم اُس جنگ کا میدان بنےجو ہم نے نہیں چنی تھی: تیس ہزار جانیں، ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا خسارہ، اور مشرقی ہمسائے کی وہ درپردہ دست اندازی جس کا ایک زندہ ثبوت کلبھوشن یادیو آج بھی ہماری تحویل میں ہے۔
اور اِسی دیانت کا تقاضا ہے کہ 1971ءکا باب بھی کھلی آنکھ سے پڑھا جائے۔
مثنوی کا پہلا نالہ یاد کیجیے:
بشنوازِ نَے چون حکایت می کند
از جدایی ہا شکایت می کند
نَے سے سنو، جدائیوں کی کیا حکایت کرتی ہے۔ نیستاں سے کٹی ہوئی نَے روتی ہے۔ اور 1971 ہمارے نیستاں کا وہ زخم ہے جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں لگایا اور اپنے ہی بھائیوں کے مقدمے میں منصف بننے کے بجائے فریق بن گئے، یہ اعتراف جتنا کڑوا ہے اتنا ہی لازم۔ مگر اِس اعتراف کے ساتھ ایک وضاحت بھی تاریخ کا قرض ہے: بنگال نے مسلم تشخص کی الگ راہ سے بغاوت نہیں کی تھی؛ اُس نے 1947ءکی اُس مخصوص صورت سے بغاوت کی تھی جو ایک ہزار میل کے فاصلے پر بٹے دو بازوؤں کو ایک ہی مرکز سے باندھتی تھی۔ الگ ہو کر بھی اُس نے الگ ریاست ہی بننا چُنا اکھنڈ بھارت کا حصہ بننا نہیں۔ سو 1971نے قائد کی دلیل کو رد نہیں کیا، صرف اُسکی صورت بدل دی: آج برصغیر میں دو خودمختار مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں، صفر نہیں۔ اور دریائے آمو سے دریائے سالوین تک اکھنڈبھارت کے خواب دیکھنے والوں کے راستے میں ایک نہیںدو عدد سد سکندر کھڑی ہیں۔(جاری ہے)