• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حاصلِ سہ نشست:بقا کی جنگ جیت لی گئی،آئینے نے قائد کو سچا کر دکھایا،آزاد قوموں کی کسوٹی پر بھی یہ ریاست ڈٹ کر کھڑی ہے۔مگر اس سب کے باوجود نظر جھکا کر ماننا چاہیے کہ بقا کی جنگ جیتنا ایک اثاثہ ہے، خوشحالی کی جنگ ایک بہاؤاور بہاؤ کا قرض ابھی ادا نہیں ہوا۔ محصول کا تناسب ایک نسل سے بارہ فیصد کے گرد جما کھڑا ہے، اور جو ریاست سو میں سے بارہ روپے نہ اکٹھے کر سکے وہ اپنے بچوں کی فلاح کہاں سے خریدے گی؟

تو ترازو کا آخری جھکاؤ کیا ٹھہرا؟ یہ اُفق پر منحصر ہے۔ بقا کے طویل اُفق پر کامیابی کا پلڑا فیصلہ کن حد تک بھاری ہےکیونکہ جو قومیں بقا کی بازی ہار جاتی ہیں، اُنہیں خوشحالی کی بازی کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اندلس اور اراکان کے مسلمان اِس پر گواہ ہیں۔ مگر خوشحالی کے اُفق پر ناکامی کا پلڑا بھاری ہے، بنگلہ دیش کی ترقی سے ہی موازنہ کرلیجئے کیونکہ یہ موازنہ ہر تہذیبی عذر کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔

ایک ملک بیک وقت سیاسی بقا کا معجزہ اور معاشی کارکردگی میں کمزور ہو سکتا ہے۔ پاکستان دونوں ہے، اور دونوں سچ ایک دوسرے کو نہیں کاٹتے۔

اور خوشحالی کی بازی گو ہم جیتے نہیں مگر ہم ہارے بھی نہیں۔ 1947ءمیں جس ریاست کے دفتروں میں اسٹیشنری تک نہ تھی، آج وہی ریاست لڑاکا طیارے برآمد کرتی ہےجے ایف-17میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کے بیڑوں میں شامل ہے اور عالم یہ ہے کہ میر ِعرب کو بھی ٹھنڈی ہوا یہیں سے آتی ہے، اِس اشارے کی شرح درکار نہیں۔ جس قوم کی پہلی مردم شماری میں بمشکل چھٹا آدمی پڑھ سکتا تھا، آج اُس کی شرحِ خواندگی ساٹھ سے اوپر ہے اور اوسط عمر بتیس برس سے بڑھ کر اڑسٹھ کو چھوتی ہے۔ آئی ٹی کی برآمدات چار ارب ڈالر کے قریب، فری لانسروں میں ہمارا شمار اول صفوں میں اور سیمنٹ سے ادویہ تک، موٹر سائیکل سے ٹریکٹر تک صنعت کاری ادھوری سہی، بانجھ نہیں۔ سو” سب کچھ لٹ گیا“ کا بین درست نہیں: دفتر میں سود کے اندراج موجود ہیں، بس پڑھنے والی آنکھ چاہیے۔

جس نسل نے یہ ملک بنایا، وہ رخصت ہوئی۔ جس نسل نے اِسے سنبھالاہماری نسل سےاُس سے بہت کچھ اچھی طرح نہیں سنبھالا گیا اور یہ اعتراف بھی اِسی دیانت کے کھاتے میں لکھا جائے۔ مگر جو نسل اب آ رہی ہے، وہ نہ ہماری اجازت کی منتظر ہے، نہ ہمارے عذر کی محتاج۔ کراچی کا ایک لڑکا صالح آصف ریاضی کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم اٹھائے ایم آئی ٹی پہنچا، اور چھبیس برس کی عمر میں امریکہ میں وہ کمپنی کھڑی کر دی جس کا سودا 60 ارب ڈالر میں ہوا۔ سوات کی ایک بچی نے گولی کھا کر بھی قلم نہ چھوڑا اور سترہ برس کی عمر میں نوبیل اٹھا لائی۔ ہنگو کے اعتزاز حسن نے اسکول کے دروازے پر خودکش حملہ آور کو دبوچا اور اپنی جان دے کر سینکڑوں ہم جماعتوں کی جانیں بچا لیں۔ فیصل آباد کی ارفع کریم نو برس کی عمر میں دنیا کی کم سن ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی اور سولہ برس میں رخصت ہو کر بھی چراغ جلا گئی۔ ایدھی نے کشکول اٹھا کر دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس کھڑی کر دی۔ اِن میں سے کوئی ورثے کی دولت یا سفارش کی سیڑھی سے اوپر نہیں گیا۔صرف ہنر، ہمت اور اِسی مٹی کی تربیت کا کمال ہے۔ اور وہ بے نام لوگ ،سیلاب میں کشتیاں کھینچتے، اجنبی کی حرمت پر جان وارتے ، ملبے سے بچے نکالتے جن کے نام اخبار میں ایک دن چھپتے ہیں اور جن کا قرض قوم پر ہمیشہ رہتا ہے۔ جس مٹی سے یہ فصل اٹھتی ہو، اُس پر بانجھ پن کا فتویٰ کون دے؟

بقا خود ایک آغاز ہے، انجام نہیں۔ جو بیج برف کے نیچے سلامت رہ جائے، وہ موسمِ بہار کا منتظر ہوتا ہے۔ حافظِ شیراز کی بشارت سنیے:

یوسفِ گم گشتہ باز آید بہ کنعان، غم مخور

کلبۂ احزاں شود روزی گلستاں، غم مخور

کھویا ہوا یوسف کنعان لوٹ آئے گا، غم نہ کر، غموں کی جھونپڑی اک دن گلستاں بنے گی، غم نہ کر۔ ماتم کی رِیت کا جواب فارس کے اُس رِند نے صدیوں پہلے دے دیا تھا۔ اور سعدی شیرازی سے منسوب ہے: ” صبر تلخ است، ولیکن بر شیریں دارد “ صبر کڑوا ہے، مگر اُس کا پھل میٹھا۔ ہم نے وہ تلخ صبر کر لیا، ہم نے وہ رات کاٹ لی جس میں کئی قومیں صبح دیکھے بغیر بکھر گئیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ ہم زندہ کیوں ہیں۔سوال یہ ہے کہ اِس زندگی کا کریں گے کیا۔ اور اِس سوال کا جواب لکھے جانے کے قابل ہے۔

محصول بارہ فیصد سے اٹھارہ فیصد، برآمدات تیس ارب کے جمود سے کم از کم دگنی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، پانی اور موسمیاتی تبدیلی کی اگلی نسل کی جنگ اور سب سے بڑھ کر بچیوں کی تعلیم کہ قوم کی آدھی صلاحیت ابھی میدان سے باہر کھڑی ہے۔ اقبال کا شاہین اِسی لیے بلند ہوتا ہے کہ وہ آشیانے کو منزل نہیں سمجھتا۔ ہمارا آشیانہ بن چکا ٹیڑھا ہی سہی مگر اپنا تو ہے۔ اب دیواریں سیدھی کرنا، چھت پاٹنا، اور اُن کمروں کو آباد کرنا باقی ہے جو ابھی خالی پڑے ہیں۔ جو قوم اتنے بڑے طوفان میں کشتی نہ ڈوبنے دے، اُس کے ملاحوں میں وہ ہنر ضرور ہو گا جو ساحل تک لے جائےبشرطیکہ وہ ماتم کی رِیت چھوڑ کر چپو تھام لیں۔

فیض نے جس صبح کو”شب گزیدہ سحر “ کہا تھا، وہ بے داغ نہ سہی، مگر ہے تو سحر ہی۔ ہمارے دفتر میں زیاں کے صفحے بہت ہیں، مگر اُنہی کے بیچ سود کے کچھ سنہری اوراق بھی ہیں،بقا کے اوراق، جن پر اگلی نسلوں کا حساب لکھا جانا ابھی باقی ہے اور وہ نئی نسل اپنے طریقے سے لکھنا شروع کر چکی، کراچی سے سوات تک، ہنگو سے ہر اُس گھر تک جہاں کوئی ماں اپنے بچے کو ایدھی کا قصہ سناتی ہے۔

سو پختہ قومی رویّہ نہ بے جا ماتم ہے، نہ کھوکھلی خودفریبی بلکہ ایک تشکر بھرا عزم: شکر اُس بقا پر جس کی کوئی ضمانت نہ تھی، عزم اُس تعمیر کا جس کیلئے یہ بقا حاصل کی گئی۔ اناسی برس پہلے تین دلیلیں آمنے سامنے تھیں۔ایک درست ثابت ہوئی۔ آج کا پاکستانی اس مشکل فیصلے کا وارث ہے جو ہمارے بزرگوں نے اپنے ووٹ سے لکھا تھا ہم وجود کی جنگ جیت چکے، اب تعمیر کی گھڑی ہے۔ اور جو قوم ایک بار مٹنے سے انکار کر چکی ہو، اُس کے لیے تعمیر سے انکار کیونکر ممکن ہے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

تازہ ترین