(جامعہ اشرفیہ پر نئی تحقیق کی روشنی میں)
پاکستان میں مدارس سے وابستہ افراد کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم سے متنفر اور نابلد ہیں۔ یہی تاثر عوامی مباحث، پالیسی دستاویزات اور بین الاقوامی تجزیوں میں بارہا دہرایا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر مورخہ 10 اگست 2023ء کو پاکستان ٹوڈے میں شائع ہونیوالے ایک مضمون The role of madrassas in Pakistan میں دعویٰ کیا گیا کہ مدارس کے زیادہ تر طلبہ کسی بھی قسم کی عصری تعلیم حاصل نہیں کرتے۔
مدارس کے طلبہ کے عصری تعلیم سے منقطع ہونے کا یہی تاثر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے سرکاری پالیسیوں میں بھی کارفرمارہا ہے،شاید اسی لئے یہ پالیسیاں مدارس میں عصری تعلیم کی شمولیت پر بارہا زور دیتی رہی ہیں۔
مفروضات کسی بھی صورت شواہد کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ بدقسمتی سے ہم آزادی کی 79 ویں سالگرہ تو منارہے ہیں، لیکن آج تک ملک کے مدارس کے بارے میں قابل اعتماد تحقیقی شواہد نہایت محدود ہیں۔ اسی خلا کو پر کرنے کیلئے LUMS یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے ڈاکٹر بلال احسن ملک اور شعبہ معاشیات کے ڈاکٹر فاروق نصیر کی نگرانی میں پاکستان کے نامور اور مستند مدارس پر مرحلہ وار تحقیق کا سلسلہ جاری ہے جن میں لاہور کے جامعہ اشرافیہ، جامعہ نعیمیہ، جامعہ نظامیہ، جامعہ مدینہ جدید، جامعہ ہجویریہ کے ساتھ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ(بھیرہ) اور مرکز مصطفیٰ (گوجرانوالہ) شامل ہیں۔
اس تحقیق کی خاصیت یہ ہے کہ ہر ادارے میں آخری سال کے تمام طلبہ کا سروے کرکے پوری جماعت کی جامع رپورٹ مرتب کی جارہی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اسے ’’گریجویٹنگ کلاس پروفائل‘‘ کہا جاتا ہے اور کسی بھی تعلیمی ادارے کی نمائندگی کیلئے یہ ایک نہایت مستند طریقہ کار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسکے نتائج چند منتخب افراد نہیں بلکہ پوری جماعت پر مبنی ہوتے ہیں اور یوں ادارے کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پرتمام معیاری جامعات ہر سال اپنی فارغ التحصیل ہونیوالی جماعت کی یہ رپورٹ خود مرتب کرکے اسکے اعدادوشمار باقاعدگی سے شائع کرتی ہیں، جبکہ مدارس سے متعلق پورے برصغیر میں کسی دینی ادارے کی اس نوعیت کی رپورٹ اس سے قبل کبھی مرتب نہیں کی گئی۔
زیر نظر مضمون میں ہم اسی تحقیقی منصوبے کے ایک پہلو کو لیکر ملک کے معروف اور مستند ادارے جامعہ اشرفیہ کا مطالعہ پیش کررہے ہیں تاکہ اس عام تصور کوشواہد کی بنیاد پر پرکھا جاسکے کہ آیا مدارس سے وابستہ افراد واقعی عصری تعلیم سے متنفر اور نابلد ہیں؟ دینی، علمی اورتحقیقی حلقوں میں جامعہ اشرفیہ کا ایک مخصوص اور معتبر مقام ہے جسکے باعث ملک بھر کے مدارس سے طلبہ صرف آخری سال یعنی دورہ حدیث کیلئے یہاں آتے ہیں، لہٰذا ادارے کی نمائندگی کیلئے ہماری تحقیق میں صرف وہ260طلبہ شامل کیےگئے جو ایک سال سے زیادہ عرصہ جامعہ میں زیر تعلیم رہنے کے بعد2026ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔
جامعہ اشرفیہ کی انتظامیہ کے بھرپور تعاون، خصوصاً جامعہ کے رجسٹرار اور ناظم تعلیمات شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان صاحب، پروفیسر ڈاکٹر حافظ زاہد علی صاحب اور ڈاکٹر مفتی احمد علی بادات صاحب کی وساطت سے ہم ان260میں سے98.5فیصد طلبہ کا سروے کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہی طلبہ کے جوابات پر مبنی اعدادوشمار اس کالم میں پیش کیے جارہے ہیں۔
اسی اخبار کے مورخہ 01جون 2025ء کے کالم میں ہم نے اپنی سابقہ تحقیق کے نتائج پیش کیے تھے جسکے مطابق دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ اور جامعہ نظامیہ لاہور کے فضلا کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جن میں عصری تعلیم کی شرح قومی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ جامعہ اشرفیہ میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ ہم نے طلبہ سے انکے بہن بھائیوں کی عصری تعلیم کے متعلق معلومات حاصل کیں، اور پھر قابل موازنہ عمر کے گروہ کے قومی سطح پر تقابلی اعداد و شمار 25-2024 HIES سروے کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیے۔
طلبہ کے بھائیوں اور بہنوں کی تعلیمی شمولیت میٹرک سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک ہر مرحلے پر قومی اوسط سے زیادہ رہی۔ مثال کے طور پر، طلبہ کے 57 فیصد سے زائد بھائی میٹرک مکمل کر چکے ہیں، جبکہ قومی سطح پر قابل موازنہ عمر کے مردوں میں صرف 33فیصد نے یہ تعلیمی درجہ حاصل کیا ہے۔
مزید برآں، طلبہ کے 16 فیصد بھائی بی اے کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، جبکہ قومی سطح پر اس تعلیمی درجے کی شرح 9فیصد ہے۔ بہنوں کی تعلیمی صورتحال بھی اسی تصویر کی عکاس ہے۔ طلبہ کی 35فیصد بہنیں میٹرک مکمل کر چکی ہیں، جبکہ قومی سطح پر قابل موازنہ عمر کی خواتین میں اس تعلیمی درجے کی شرح 23فیصد ہے۔
جامعہ اشرفیہ کے طلبہ کے نہ صرف بہن بھائیوں میں عصری تعلیم کا رجحان قومی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، بلکہ نہایت دلچسپی کی بات یہ ہے کہ خود مدرسہ جانیوالے ان طلبہ میں عصری تعلیم کا رجحان اپنے بہن بھائیوں سے بھی بڑھ کر پایا گیا۔ میٹرک کی تعلیم تو تقریباً تمام طلبہ (86) فیصد حاصل کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں جبکہ طلبہ کی واضح اکثریت (دو تہائی سے بھی زیادہ) انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کر چکی ہےیا زیر تعلیم ہے۔
مزید یہ کہ تقریباً ایک تہائی (32 فیصد) طلبہ گریجویشن یا اسکے مساوی تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا زیر تعلیم ہیں، جبکہ قابل موازنہ عمر کے مردوں میں اس تعلیمی درجے کی قومی اوسط صرف 10فیصد ہے، یعنی جامعہ اشرفیہ کے طلبہ میں گریجویشن تک عصری تعلیم حاصل کرنیکی شرح باقی معاشرے کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔طلبہ اور انکے خاندانوں کی تعلیمی صورتحال کیساتھ ہماری تحقیق نے طلبہ کی آئندہ نسل کیلئے تعلیمی خواہشات کا بھی جائزہ لیا۔
تقریباً 77 فیصد طلبہ نے اپنے بیٹوں کیلئے ایم اے، پی ایچ ڈی یا ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں تک اعلیٰ تعلیم کی خواہش ظاہر کی۔ اسی طرح اکثریت یعنی 56 فیصد طلبہ نے اپنی بیٹیوں کیلئے انہی اعلیٰ درجے کی ڈگریوں کی خواہش ظاہر کی۔
جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا، ان نتائج کی انفرادیت اور امتیاز یہ ہے کہ یہ کسی مخصوص نوعیت کے طلبہ کے بجائے فارغ التحصیل ہونیوالی پوری جماعت پر مبنی ہیں لہٰذا ادارے سے منسلک طلبہ کی جامع عکاسی کرتے ہیں۔ اسی مسلمہ تحقیقی طریقہ کار کی بنیاد پر ہم مکمل اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نتائج عام مفروضوں کی حتمی تردید ہیں۔
عصری تعلیم سے متنفر یا منقطع ہونا تو دور کی بات، طلبہ کے خاندانوں کا تعلیمی پس منظر، خود انکی عصری تعلیم میں نمایاں شمولیت اس امر کی واضح شہادت ہیں کہ جامعہ اشرفیہ جیسے ملک کے معروف اور مستند مدارس کے طلبہ عصری تعلیم سے غیر معمولی طور پر وابستہ ہیں۔
ہم اپنی جاری تحقیق کی تکمیل کیلئے مدارس کے انہی طلبہ سے انکی فراغت کے بعد دوبارہ رابطہ کریں گے۔ مثلاً، فراغت کے بعد ان طلبہ کا پیشہ ورانہ سفر کس سمت بڑھا، انکی تعلیم نے انکی ذاتی اور سماجی زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے، اور جن طلبہ نے مدر سے کی تعلیم کیساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کی، انہیں اسکے نتیجے میں معاشی میدان میں کس حد تک پذیرائی ملی ؟ خصوصاً، ملازمتوں اور تنخواہوں کے اعتبار سے انہیں ہمارے معاشرے نے اس تعلیم کا کیا صلہ دیا؟۔
یوم آزادی کے اس موقع پر ہم پر امید ہیں کہ یہ تحقیقی کاوش ملک کے مدارس، بالخصوص ہمارے معیاری اور معروف دینی اداروں، کے بارے میں عمومی تاثرات اور سرکاری پالیسیوں کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر استوار کرنے میں مدد دے گی۔