• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو کے پہلے باقاعدہ شاعر امیر خسرو مانے جاتے ہیں۔ لیکن بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ امیر خسرو سے تقریباً دو سو سال پہلے مسعود سعد سلمان پیدا ہوئے ۔ وہ عربی فارسی اور قدیم اردو کے صاحب دیوان شاعرتھے۔ ان کا اردو دیوان دستاب نہیں ہوسکا مگر ان کا فارسی دیوان آج بھی موجود ہے۔خود امیر خسرو نے اپنے دیوان غراۃالکمال کے دیباچے میں مسعود سعد سلمان کا ذکر کیا ہے۔

مسعود سعد سلمان نے چھ بادشاہوں کا دور دیکھا تھا۔ وہ لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انکے والد ایران کے رہنے والے تھے۔ انکی مادری زبان فارسی تھی۔ بد قسمتی سے اتنے بادشاہوں کا دور دیکھنے کے باوجود وہ سازشوں کا شکار رہے اور زندگی کے قیمتی انیس سال انہوں نے قید میں گزارے۔ اس دوران انھیں نےلاہور کے درودیوار ،اس کے موسموں، اس کے باغات اپنے دوستوں اور وہاں کی محفلوں کو شدت سے یاد کیا۔ انھوں نے فارسی میں مشہور قصیدہ لاہور بھی لکھا۔ ان کے پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوتیں اور وہ رو رو کر لاہور کی محبت میں شعر کہتے۔

اے لاھور وائے چہ گونہ بستی بے من ؟

اے بے تو فسردہ مہرو ماہ روشن

تو با دگر ے ومن بہ زندان بلا

تو شاد بہ چہرہ ومن زاد بہ تن

(اے لاہور تو میرے بغیر کیسا ہو گیا ہوگا؟ تیرے بغیر تو روشن سورج اور چاند بھی افسردہ ہو گئے ہوں گے۔تو اب دوسروں کے ساتھ آباد ہے اور میں یہاں مصیبت کے قید خانے میں ہوں،تو چہرے سے شاداب ہے اور میرا جسم جدائی میں نحیف و نزار ہو چکا ہے۔)۔ اس بات میں تو واقعی کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور ہی ایک ایسا شہر ہے جس سے آدمی کو محبت نہیں بلکہ عشق ہوجاتا ہے۔ مجھے بھی لاہور سے بہت محبت ہے یا عشق سمجھ لیں ،یہ الگ بات ہے کہ میں اپنی زندگی میں صرف چار مرتبہ ہی لاہور گیا ہوں۔ کہتے ہیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا الحمد اللہ کہ میں پیدا ہوچکا ہوں۔

بچپن میں ہم لاہور کو پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں میں دیکھا کرتے تھے یونس جاوید کے اندھیرا اجالا، عطاء الحق قاسمی کے ڈرامے خواجہ اینڈ سن اور امجد اسلام امجد کے ڈرامے دن میں لاہور کی گلیاں اور محلے نظر آتےتو بہت اچھا لگتا۔ مجھے پرانا لاہور بہت اپیل کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہے۔ پرانا لاہور جس کے محلوں میں ،گھروں کےصحن سے صحن ملے ہوئے ہوتے اور گھومتی ہوئی سیڑھیاں نظر آتیں جوبڑا رومانٹک منظر پیش کرتیں۔

لاہور شہرمیں ایک ایسا جادو ہے جو مقناطیس کی طرح آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ لاہور کو جو ایک مرتبہ دیکھ لے وہ اس کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے اور پھر وہ لاہور کا اور لاہور اس کا ہوجاتا ہے۔

لاہور کی محبت میں شاعروں اور ادیبوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اس موضوع پر بے تحاشہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور لکھی جائیں گی فخر عباس نےکہا ہے کہ

یہ جو لاہور سے محبت ہے

یہ کسی اور سے محبت ہے

مگر ہمیں تو لاہور کے سوا کسی سے محبت نہیں ہے۔

داتا کی نگری محبت کی نگری ہے۔ مجھے تو شہر لاہور ،حیدرآباد سے بھی ملتا جلتا لگتا ہے۔ ہر شے ایک مرکز پر ہے ۔ شہر کا پھیلاؤ کم ہے۔ ہاں محبت کا پھیلاؤ بہت ہے۔ بقول امجد اسلام امجد

جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

لاہور میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ آپ کو اپنا بنالیتا ہے۔لوگ دوسرے شہروں سے یہاں آتے ہیں اور پھر واپس نہیں جاتے بلکہ لاہور کے رہنے والے کہیں بھی ہوں وہ لوٹ کرواپس لاہور آجاتے ہیں۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض ملکہ ترنم نورجہاں اور سعادت حسن منٹوجیسی شخصیات جب لاہور آئیں تویہیں کی ہوگئیں۔ بٹوارے کے بعد جو بھی لکھاری یا فنکار لاہور سے گیا وہ لاہور کو بھلا نہ سکا ۔کس کس کا نام لیں کرشن چندر ہوں، گوپال متل ہوں یا پھر جمنا داس ! لاہور سے چلےتو گئے مگر لاہور کو یاد کرتے رہے۔

سنا ہے کہ پینسٹھ کی جنگ میں جب لاہور پر گولہ باری ہوتی تو کرشن چندر غم سے نڈھال ہو جاتے اور اپنا دل پکڑ لیتے۔ لاہور کو یاد کرتے اور سارا دن نہ کچھ کھاتے پیتے۔محسن لاہوری کے نام سے اپنا کیرئیر شروع کرنے والے معروف لکھاری راجندر سنگھ بیدی بھی لاہور سے عشق کرتے تھے۔بلکہ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ

’’عشق کیلئے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں ہے‘‘

اداکاروں میں اوم پرکاش، پران، دیوآنند، پریم چوپڑا اور ہدایت کار یش چوپڑا نےلاہور سے بچھڑنے کے بعد اسکو ہمیشہ یاد کیا۔دیوآنندنے اپنی جوانی کے کچھ سال لاہور میں گزارے۔ جہاں انھوں نے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا اور پھر بعد ازاں بمبئی چلے گئے۔ قسمت نے انھیں ایک بار پھر پچپن سال بعد لاہور سے ملوایا اور وہ سابق انڈین وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ لاہور آئے تو اپنے کالج کی درودیوار سے لپٹ کرخوب روئے۔

لاہور کی خوش نصیبی ہے کہ اس کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہتر حکمران ملے۔ لاہور کو ترقی کرنی چاہیےاورپرانے لاہور کو بھی زندہ رہنا چاہیے۔ جو ہمارا قومی ورثہ ہے۔جی تو چاہتا ہے کہ مجھے پر لگ جائیں اور میں لاہور پہنچ جاؤں۔

مجھےبھی علامہ اقبال ،فیض نور جہاں، منٹو، بیدی ،کرشن چندر، گوپال متل، اوم پرکاش، پران، دیوآنند اور پریم چوپڑا کی طرح لاہور سے عشق ہے مگر صاحب لاہور کو چاہنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے اور تاریخ گواہ ہےکہ آج سے تقریباً نو سو سال پہلے اردو کا پہلا شاعرمسعود سعد سلمان ہوا کرتا تھا جو لاہور کا سب سے بڑا عاشق تھا۔

تازہ ترین