ماہرینِ ارضیات کے مطابق فالٹ لائنز زمین کی تہوں میں موجود وہ خاموش دراڑیں ہوتی ہیں جو برسوں تک دکھائی نہیں دیتیں۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے، مگر اندرونی دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ایک دن اچانک آنے والا زلزلہ مضبوط عمارتوں کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔ ریاستوں کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
آئینی، سیاسی، ادارہ جاتی اور سماجی کمزوریاں ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہی خاموش دراڑیں قومی بحرانوں کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں کی تاریخ اسی حقیقت کی آئینہ دار ہے۔قیامِ پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناح، جواہر لال نہرو کی طرح وزیراعظم بن سکتے تھے، مگر نوزائیدہ ریاست کے مسائل کے پیشِ نظر انہوں نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالا۔
انہی ابتدائی دنوں میں زبان کا اہم مسئلہ بھی سامنے آیا۔ مارچ 1948ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ بنگالی بولنے والی اکثریتی آبادی میں اس اعلان سے بے چینی پیدا ہوئی، جو 1952ء کی زبان تحریک میں تبدیل ہوگئی اور پولیس فائرنگ سے متعدد طلبہ جاں بحق ہوئے۔ تاہم یہ تصور درست نہیں کہ قائداعظم کا فیصلہ کسی تاریخی یا سیاسی پس منظر کے بغیر تھا۔ اس موضوع کی مکمل تفہیم ایک الگ تحریر کی متقاضی ہے۔ اگرچہ 1971ء کے سانحے کو صرف زبان کے مسئلے سے منسلک نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ وفاق اور مشرقی پاکستان کے درمیان اعتماد میں دراڑ ڈالنے والے اولین عوامل میں ضرور شامل تھا۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد مضبوط قومی قیادت کا خلا پیدا ہوا۔ گورنر جنرل کے اختیارات منتخب حکومتوں پر بالادستی کیلئے استعمال ہونے لگے اور 1954ء میں دستور ساز اسمبلی کی تحلیل نے پارلیمانی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں ون یونٹ، سیاسی نمائندگی، معاشی تفاوت، آئینی بحران اور مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت کیساتھ تنازعات نے ان دراڑوں کو مزید گہرا کردیا۔1958ء میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا تو سیاسی بحرانوں کا حل آئینی عمل کے بجائے غیر معمولی انتظامات میں تلاش کرنے کی روایت قائم ہوئی۔
1970ء کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے۔ عوام نے واضح مینڈیٹ دیا، مگر اقتدار بروقت منتقل نہ ہوسکا۔ سیاسی قیادت اور ریاستی ادارے اتفاقِ رائے پیدا نہ کرسکے مذاکرات کی جگہ تصادم، فوجی کارروائی اور بھارتی مداخلت نے لے لی، یہاں تک کہ 16دسمبر 1971ء کو ملک دولخت ہوگیا۔سقوطِ ڈھاکہ کسی ایک شخصیت یا فیصلے کی ناکامی نہیں تھا بلکہ برسوں سے جمع ہونیوالی آئینی، سیاسی، لسانی، معاشی اور ادارہ جاتی فالٹ لائنز کا منطقی نتیجہ تھا۔ ریاستیں ایک دن میں نہیں ٹوٹتیں،وہ پہلے اندر سے کمزور ہوتی ہیں۔ یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔
1973ء کا متفقہ آئین قومی اتفاقِ رائے کی تاریخی مثال تھا۔ اس نے پارلیمانی جمہوریت، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کی، مگر یہ استحکام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ 1977ء کے سیاسی بحران اور بعد کی فوجی مداخلت نے آئینی ارتقا کا تسلسل پھر منقطع کردیا۔ ”نظریۂ ضرورت“ کے ذریعے غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز ملتا رہا، جس سے آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی۔بعد کے عشروں میں منتخب حکومتیں اکثر اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکیں، جبکہ سیاسی تنازعات کا حل بارہا غیر سیاسی مراکز سے تلاش کیا گیا۔ اقتدار کی کشمکش میں وقتی سیاسی فائدے کو قومی اور آئینی مفاد پر ترجیح دی گئی، جس سے ریاست کی بنیادی فالٹ لائنز گہری ہوتی چلی گئیں۔
1999ء کی فوجی مداخلت نے پھر ثابت کیا کہ اقتدار کی آئینی منتقلی کا اصول پوری طرح مستحکم نہیں ہوسکا تھا۔ بعد ازاں 2006ء کے چارٹر آف ڈیموکریسی اور 2010ء کی اٹھارھویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی نظام، وفاقی توازن اور صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانے کی سنجیدہ کوشش کی۔ یہ مثبت آئینی سنگِ میل تھے، مگر اصلاحات اسی وقت پائیدار ہوتی ہیں جب سیاسی قوتیں اور ریاستی ادارے ان کی روح کے مطابق عمل کریں۔گزشتہ آٹھ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے مختلف سیاسی، صدارتی، فوجی اور ہائبرڈ انتظامات آزمائے، مگر تاریخ نے بارہا ثابت کیا کہ آئین سے ہٹ کر تشکیل پانے والا کوئی نظام مستقل اور پائیدار سیاسی استحکام پیدا نہیں کرسکا۔آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت، بے پناہ قدرتی وسائل اور نوجوان آبادی رکھنے والا اہم ملک ہے، مگر ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں سے زیادہ آئینی نظم، مضبوط اداروں اور عوام کے اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ اقتدار کا آئینی توازن، پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ کی غیر جانب داری، وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد، آزاد و منصفانہ انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی مستحکم ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔ پاکستان کو کسی نئے آئین یا سیاسی تجربے کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ آئین پر غیر متزلزل یقین اور عمل کی ضرورت ہے۔ تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینا ہوں گے۔ پارلیمنٹ کو حقیقی قانون ساز ادارہ، عدلیہ کو غیر جانب دار منصف، انتظامیہ کو آئین کا پابند اور سیاسی جماعتوں کو جمہوری روایات کا امین بننا ہوگا۔
آئین صرف دستاویز نہیں، ریاست اور شہریوں کے درمیان وہ عہد ہے جو طاقت کو حدود، عوام کو حقوق اور وفاق کو وحدت عطا کرتا ہے۔ جب اس عہد کو وقتی مصلحت کی نذر کیا جاتا ہے تو اداروں کیساتھ عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑتا ہے۔قائداعظم نے ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں قانون کی حکمرانی، شہریوں کی مساوات اور قومی یکجہتی ریاست کی بنیاد ہوں۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی بنیادی سوال وہی ہے: کیا ہم نئی فالٹ لائنز پیدا کرتے رہیں گے یا ماضی کی دراڑوں کو بھرنے کا قومی فیصلہ کریں گے؟