انجمن ترقی اردو کا قیام اردو زبان کے تحفظ، فروغ اور اسے علمی و ادبی زبان بنانے کی ایک منظم تحریک کے طور پر عمل میں آیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے جب اپنی قومی شناخت اور جداگانہ تشخص کے تحفظ کی جدوجہد شروع کی تو سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کے ساتھ اپنی تہذیبی روایات اور زبان کا تحفظ بھی اس جدوجہد کا اہم حصہ تھا۔ اردو چونکہ مسلمانوں کی تہذیبی اور علمی شناخت کی ایک نمایاں علامت بن چکی تھی، اسلئے اسکا تحفظ بھی قومی تشخص کی حفاظت کا حصہ قرار پایا۔1857ء کے بعد برصغیر کے سیاسی اور تہذیبی حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور اردو ہندی تنازع شدت اختیار کرنے لگا۔ اردو کی سرکاری اور تعلیمی حیثیت کو لاحق خطرات سر سید احمد خان نے بہت پہلے محسوس کرلئے تھے۔ اردو کو سرکاری اور علمی زبان کی حیثیت سے برقرار رکھنے کیلئے مختلف تنظیمی کوششیں ہوئیں۔ 1873ء میں اردو کے تحفظ کیلئے ایک منظم کوشش سامنے آئی اور بعد میں اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن اور مجلسِ تحفظِ اردو جیسی تحریکوں نے اس جدوجہد کو آگے بڑھایا۔اسی تاریخی پس منظر میں 1903ء میں انجمن ترقی اردو باقاعدہ تنظیم کی صورت میں قائم ہوئی۔ اسکے پہلے صدر پروفیسر آرنلڈ اور سیکریٹری مولانا شبلی نعمانی منتخب ہوئے۔ انجمن نے جلد ہی اہلِ علم و ادب کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اردو زبان و ادب کے تحفظ اور ترقی کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن گئی۔انجمن کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ 1912ء میں آیا، جب مولوی عبدالحق کو انجمن کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس وقت انجمن محدود وسائل رکھنے والا ایک کمزور شعبہ تھی، لیکن مولوی عبدالحق نے اس میں نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے اردو کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا اور اسی بے مثال جدوجہد کی وجہ سے ہمیشہ کیلئےبابائے اردو کے نام سے پہچانے گئے۔بابائے اردو کے نزدیک اردو محض کسی ایک طبقے یا گروہ کی زبان نہیں تھی بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب، علمی ورثے اور قومی یکجہتی کی زبان تھی۔ انہوں نے انجمن کو ایک مضبوط علمی و ادبی ادارے کی شکل دی، اردو کتابوں اور علمی ذخیرے کے تحفظ و اشاعت کا اہتمام کیا اور اردو کو جدید علوم اور اعلیٰ تعلیم سے جوڑنے کی مسلسل کوشش کی۔قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دعوت پر مولوی عبدالحق 1948ء میں پاکستان تشریف لائے۔ پاکستان ایک نیا ملک تھا، وسائل محدود اور ادارے ابتدائی مراحل میں تھے، لیکن بابائے اردو کے عزائم بہت بلند تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو پاکستان کا دفتر قائم کیا اور اپنی تمام توانائیاں اسے ایک مضبوط علمی و ادبی ادارہ بنانے کے لیے وقف کردیں۔انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو کراچی تک محدود نہیں رکھا بلکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مختلف علاقوں تک انجمن کا پیغام پہنچایا اور متعدد مقامات پر اس کی شاخیں قائم کیں۔ ان کا بنیادی تصور یہ تھا کہ اردو صرف رابطے کی زبان نہ رہے بلکہ تعلیم، تحقیق، سائنس، فلسفے اور جدید علوم کی زبان بنے۔ اسی لیے انہوں نے سائنسی کتابوں، تحقیقی مضامین اور جدید علمی مواد کو اردو میں منتقل کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا یقین تھا کہ قوم حقیقی ترقی اسی وقت کرسکتی ہے جب اسے علم اپنی زبان میں میسر ہو۔بابائے اردو کا ایک عظیم خواب اردو کالج کا قیام تھا۔ ایک ایسا اعلیٰ تعلیمی ادارہ جہاں اردو ذریعۂ تعلیم ہو اور جو آگے چل کر ایک یونیورسٹی کی شکل اختیار کرے۔ مالی مسائل، انتظامی رکاوٹوں، اندرونی اختلافات اور مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنا مشن نہیں چھوڑا۔ 1948ء سے 1961ء تک پاکستان میں ان کی زندگی کے تقریباً تیرہ سال اردو کیلئے مسلسل جدوجہد سے عبارت رہے۔آج جب ہم بابائے اردو کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں تو ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم ان کے مشن کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں؟بحیثیت صدر انجمن ترقی اردو پاکستان، میں پورے یقین سے کہنا چاہتا ہوں کہ انجمن کی موجودہ انتظامیہ، مجلس نظما کے اراکین اور پوری ٹیم کی کوشش ہے کہ بابائے اردو کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ان کے خواب کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ ہمارا مقصد صرف اردو کے ماضی کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ اس کے مستقبل کو بھی مضبوط بنانا ہے۔آج دنیا ڈیجیٹل عہد میں داخل ہوچکی ہے۔ اگر اردو کو دنیا کی مؤثر اور ترقی یافتہ زبانوں میں مضبوط مقام دینا ہے تو اسے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تحقیق سے جوڑنا ہوگا۔ اسی مقصد کے تحت انجمن ترقی اردو پاکستان مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں، یعنی MOUs، کے ذریعے مشترکہ منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ ان میں لندن اردو اور اردو لغت بورڈ سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔
اردو مخطوطات، نادر کتب اور علمی و تاریخی ذخیرے کی ڈیجیٹائزیشن بھی ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہے تاکہ یہ قیمتی سرمایہ ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور محققین، طلبہ اور نئی نسل کے لیے قابلِ رسائی ہوسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اردو صرف ایک ادبی زبان کے طور پر نہ پہچانی جائے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تحقیق اور علمی پیداوار کے میدان میں بھی دنیا کی صفِ اول کی زبانوں میں شامل ہو۔ہمارے اہم منصوبوں میں OCR بھی شامل ہے، جس کے ذریعے اردو کے مطبوعہ اور تاریخی مواد کو ڈیجیٹل اور قابلِ تلاش شکل میں منتقل کیا جاسکے گا۔ یہ دراصل بابائے اردو کے اسی خواب کی جدید صورت ہے جس میں وہ اردو کو علم اور تحقیق کی زبان دیکھنا چاہتے تھے۔
آج ہم جس تاریخی مقام پر موجود ہیں، یہ ہمارے لیے محض ایک عمارت نہیں بلکہ بابائے اردو کی جدوجہد، ان کے علمی سفر اور انجمن کے ابتدائی دور کی ایک زندہ یادگار ہے۔اور اب بابائے اردو کے ایک اور عظیم خواب اردو یونیورسٹی کی طرف آتے ہیں۔وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس، گلشنِ اقبال کیمپس اور اسلام آباد کیمپس موجود ہیں۔ عبدالحق اور گلشنِ اقبال کیمپس کی زمین انجمن ترقی اردو پاکستان کی کوششوں سے حاصل ہوئی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے قیام میں انجمن کا بنیادی کردار رہا۔ اس ادارے کے پس منظر میں وہی تصور کارفرما تھا کہ اردو کو ذریعۂ تعلیم بناکر جدید علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم فراہم کی جائے۔یہ باعثِ افسوس ہے کہ آج اردو یونیورسٹی میں اردو بحیثیت ذریعۂ تعلیم وہ مقام حاصل نہیں کرسکی جس کا خواب بابائے اردو نے دیکھا تھا۔ انتظامی مسائل اور مسلسل اختلافات نے بھی اس عظیم ادارے کے بنیادی مقاصد کو متاثر کیا ہے۔لہٰذا ہمارا پُرزور مطالبہ ہے کہ بابائے اردو کے اصل مقصد اور اردو یونیورسٹی کے قیام کی روح کو بحال کرنے کیلئے وفاقی اردو یونیورسٹی کے تمام کیمپس انجمن ترقی اردو پاکستان کے حوالے کیے جائیں اور اس کا انتظام و انصرام انجمن کو سونپا جائے تاکہ اس قومی ادارے کو بہتر، منظم اور اس کے اصل مقاصد کے مطابق چلایا جاسکے۔بابائے اردو کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف انکی خدمات کو یاد کرنا نہیں بلکہ انکے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں اردو کو ماضی کے عظیم علمی و ادبی ورثے کی زبان ہونے کیساتھ مستقبل کی علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کی زبان بھی بنانا ہے۔یہی بابائے اردو کا خواب تھا، یہی انجمن ترقی اردو پاکستان کا مشن ہے اور یہی ہماری آنےوالی نسلوں کیلئے ذمہ داری ہے۔
(صاحب تحریرصدر نشین انجمن ترقی اردو پاکستان)