• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم السحر

مفکّرِ اسلام، معروف محقّق، مقرّر اور ’’تنظیمِ اسلامی‘‘ کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کو مَیں نے شاذ ہی کبھی روتے دیکھا، مگرایک واقعہ ایسا تھا، جو سُناتے ہوئے ان کی آواز رندھ گئی اور آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ وہ واقعہ سیرت النّبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ’’تسبیحِ فاطمہؓ‘‘ کے تحفے کا تھا۔

تسبیحِ فاطمہؓ کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اُنہیں بتایا کہ ’’بابا جان! گھر کے کام تھکا دیتے ہیں۔ چکّی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بہت تکلیف ہوجاتی ہے۔ پانی سے بھرے مشکیزے کمر پر لادنے سے کمر میں درد ہوگیا ہے۔ اب تو تمام مسلمانوں کے حالات بہت اچھے ہیں۔ سب ہی کے پاس غلام ہیں۔ آپ مجھے بھی کوئی خدمت گار دے دیں۔‘‘ ذرا سوچیں! ایک معصوم بیٹی اپنے باپ کو روزانہ کےکٹھن کاموں کےسبب ہونے والی تکالیف بتا رہی ہے۔

بالکل ایسے ہی جیسے ہم اور آپ اپنے ماں باپ سے باتیں کرتے ہیں۔ ’’امّی! میرا جوڑ جوڑ دُکھنے لگا ہے، کوئی ماسی لگوا لیتی ہوں۔‘‘، ’’ابّو! مَیں تھک کے چُور ہوجاتی ہوں، مگر گھر کے کام ختم ہی نہیں ہوتے۔‘‘ اور ہمارے والدین ہماری تکلیف پر کیسا تڑپ اُٹھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح ہمارے آرام وسُکون کا انتظام کردیں۔ جب کہ یہاں باپ کون تھا؟

وہ محبّت بھری پیاری ہستی، جو اپنی جان کے دشمنوں کی تکلیف پر بھی تڑپ اُٹھتے تھے۔ اور سوال کرنے والی فاطمہؓ تھیں!!جگر کا ٹکڑا، آنکھوں کی ٹھنڈک کہ جب وہ نُورِ نظر تشریف لاتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسرت سے کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کرتے۔ صحابہ کرامؓ کو بھی ذاتی نوعیت کا کوئی کام رسول اللہﷺ سے درپیش ہوتا، تو وہ بی بی فاطمتہ الزہراؓ ہی سے عرض کرتے کہ اُن کو یقین ہوتا کہ رسول اللہﷺ اُن کی بات کبھی رد نہیں کریں گے۔

ذرا تصور کیجیے، اُن فاطمہؓ کی تکالیف سُننے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر کیا گزری ہوگی۔ مگر اُن کا جواب کیا تھا؟ ’’نہیں بیٹی! یہ چیزیں ہمارے لیے نہیں ہیں۔‘‘ ضبط، برداشت اور تحمّل کے کن مراحل سے گزر کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کو انکار کیا ہوگا کہ تمام طاقت و اختیار رکھتے ہوئے بھی اپنے اور اپنے خاندان کے لیے دنیا کے آرام کے بجائے، آخرت کے سُکون کو ترجیح دی۔

اُس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ ہمارے یہاں رات کے وقت تشریف لائے۔ ہم اُس وقت اپنے بستروں پر لیٹ چُکے تھے۔ ہم نے اُٹھنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ تم دونوں جس طرح تھے، اُسی طرح رہو۔ پھر نبی کریمﷺ میرے اور فاطمہؓ کے درمیان بیٹھ گئے۔ مَیں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی۔

پھر آپﷺ نے حضرت فاطمہؓ سےفرمایا۔’’تم نے جو چیز مجھ سے مانگی ہے، کیا مَیں تمہیں اُس سے بہتر ایک بات نہ بتادوں؟ جب تم (رات کے وقت) اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو 33 مرتبہ ’’سبحان الله‘‘، 33 مرتبہ ’’الحمدُلله‘‘ اور 34 مرتبہ ’’اللہُ اکبر‘‘ پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے لونڈی، غلام سے بہتر ہے۔‘‘

سو، یہ وہ بہترین تحفہ ہے، جو ایک مہربان، شفیق باپ نے اپنی بیٹی کی تکلیف دُور کرنے کے لیے اُس کو دیا۔اور یہ تحفہ صرف حضرت فاطمتہ الزہراؓ ہی کو نہیں ملا بلکہ قیامت تک کے لیے اُمّت کی ہر بیٹی کو مِلا ہے۔ دُعا ہے کہ اس تسبیح کی برکت سے اللہ رحمٰن الرحیم تمام ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ہمّت، طاقت اور قوت عطا فرمائے تاکہ ہم سب اپنی اپنی ذمّے داریاں بخوبی ادا کرسکیں۔