٭ اللہ سے محبّت، دل کی عبادت ہے۔
٭ رُوح کا فاقہ، ذکرِ الہیٰ سے ختم ہوتا ہے۔
٭ انسانوں کا خیرخواہ ہی کوئی بھاری ذمّے داری نبھا سکتا ہے۔
٭ معاشرے میں لوگ لفظ سیکھتے ہیں، عمل نہیں۔
٭ ہم مال کا وارث چاہتے ہیں، انبیاء دین کا وارث چاہتے تھے۔
٭ملامت سے اطمینان کا سفر اللہ کی یاد ہی سے طے ہوتا ہے۔
٭ ذات کی دلدل میں پھنسا انسان گھبراہٹ ہی کا شکار رہتا ہے۔
٭ تقدیر ہمیں اپنے خوابوں کے درمیان حائل ہوتی محسوس ہوتی ہے، مگر حکمت اِسی میں ہے کہ سب کچھ رب کے حوالے کردیں۔
٭ اطاعت گزار انسان ہی شکرگزار ہوتا ہے۔
٭ فرشتوں سے دوستی کے لیے باوضو رہنا ضروری ہے۔
٭ اللہ کے حُکم کو تاکیدی سمجھیں۔
٭ اللہ کی رحمت اُس کے لیےجوش نہیں مارتی، جو یقین نہ رکھے۔ جتنا یقین، اُتنی رحمت، یہ درجات کا میدان ہے۔
٭ شیطان رب کی رحمت کا پتا کاٹ کر آپ کو تنہا کردیتا ہے۔
٭ خُودترسی کے شکار وہ ہیں، جن کو یقین نہیں کہ رب مہربان ہے۔
٭انسان کے آگے تکلیف کا ذکر، انسانوں کے آگے ذلیل و رسوا کرواتا ہے۔ جوکہنا سُننا ہے، رب کے سامنے بیان کریں۔
(نام نہیں لکھا)