نائلہ روبی، واہ کینٹ
چچا میاں کو امریکا میں آباد ہوئے ایک طویل عرصہ بیت چُکا تھا، شاید میری پیدائش سے بھی بہت پہلے۔ دادو ماں بتایا کرتی تھیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے، مگر پھر وہیں کے ہوکررہ گئے۔ سُنا تھا کہ اُنہوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کرلی تھی۔ دادا ابّا کے دل میں ایک خلش ہمیشہ موجود رہی۔ اُنہیں خدشہ رہتا تھا کہ چچا میاں اپنی نئی زندگی میں اپنے مذہبی تشخّص کو کس حد تک برقرار رکھ سکے ہوں گے۔
یہی اندیشہ رفتہ رفتہ فاصلے کی ایک ایسی دیوار بن گیا، جسے وقت بھی نہ گرا سکا۔ چچا میاں پھر کبھی کسی خوشی یا غمی کے موقعے پر وطن واپس نہ آئے۔ البتہ دادو ماں نرم دل تھیں، بالکل چڑیا جیسا دل رکھنے والی۔ وہ بظاہر تو معمول کے مطابق نارمل زندگی گزارتی رہیں، مگر رات کے سناٹے میں اکثر اپنے دوپٹے کے پلّو سے آنکھیں پونچھتی رہتیں۔ جب کبھی مَیں اُن کے پاس سوتی تو اُن کی گرم آہیں مجھے دیر تک جاگنے پر مجبور رکھتیں۔
کبھی کبھی وہ آہستگی سے اُٹھتیں، دبے پاؤں کوٹھری میں جاتیں، ایک پرانا صندوق کھولتیں اور کپڑے کے کئی تہوں والے رومال میں لپٹا کوئی کاغذ نکالتیں۔ کبھی اُسے آنکھوں سے لگاتیں، کبھی دیوانہ وار چُومتیں۔ اور یہ سب تب ہوتا، جب دادا ابا کے بلند خراٹے گونجنے لگتے۔ شاید وہ چچا میاں کی تصویر تھی…یا کوئی خط، مگر اُس راز تک کسی کی رسائی نہ تھی۔ میرے بڑے ہونے تک وہ صندوق صرف دادو ماں کی ملکیت رہا۔
وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک دن دادا ابّا اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور کچھ عرصے بعد دادو ماں بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اُن کے جانے کے بعد امّاں، ابّا نے وہ صندوق اُسی کال کوٹھری میں یوں مقفّل کر دیا، جیسے کسی کو عُمر قید کی سزا دے دی گئی ہو۔
اچانک خبر ملی کہ چچا میاں اپنی بیٹی ’’پارس‘‘ کے ساتھ پاکستان آرہے ہیں۔ گھر میں پُراسرار سی گہما گہمی تھی۔ آنکھوں میں نمی بھی تھی، خوشی بھی، شکوے بھی اور تجسّس بھی اور برسوں کی جدائی کی چبھن بھی۔ مگر کچن میں ہریالی بوا، نسرین اور شکور چاچا کی پُھرتیاں صاف بتا رہی تھیں کہ آج کچھ خاص ہونے والا ہے۔ ہم بہنوں کو چچا میاں سے زیادہ اپنی کزن پارس سے ملنے کا اشتیاق تھا۔
پارس چچا میاں کی اکلوتی اولاد تھی۔ چچی کسی حادثے میں انتقال کر گئی تھیں اور چچا میاں نے دوبارہ شادی نہیں کی تھی۔ کبھی کبھار یہ بھی سُننے میں آتا کہ چچی نے زندگی کے آخری حصّے میں اسلام قبول کر لیا تھا، مگر یہ سب سُنی سنائی باتیں تھیں۔ اصل حقیقت تو اب سامنے آنی تھی۔ چچا میاں کو آئے ایک ہفتہ ہوچُکا تھا۔ پارس بے حد خُوب صُورت تھی۔ وہ ٹوٹی پھوٹی، مگر شیریں اُردو بولتی تھی، جو اُس کے انگریزی لہجے میں پیاری لگتی۔
سب کچھ اچھا تھا، بس اس کا لباس ہمارے ماحول سے مختلف تھا۔ وہ اپنے مغربی کلچر کے مطابق کپڑے پہنتی۔ کبھی پھٹی جینز، کبھی کپری اور مختصر ٹاپ۔ ہمارے گھرکا ماحول حدود و قیود کے ساتھ ایک مہذّب آزادی پر قائم تھا۔ ہم پر بے جا پابندیاں نہیں تھیں۔ تعلیم، مضمون، کیریئر… ہر معاملہ مشورے سے طے ہوتا۔ اسی لیے جدید دَور میں بھی ہم خُود کو خُوش قسمت سمجھتے تھے۔ پارس ہمارے خاندان میں ایک نیا اضافہ تھی۔ امّاں اُسے بہت محبّت دیتیں، بلکہ ہمیں بھی تاکید تھی کہ اُس کے جذبات اور ضروریات کا خاص خیال رکھا جائے۔ وہ گھومنے پِھرنے کی شوقین تھی اور ہروقت کہیں نہ کہیں جانے کے لیے تیار رہتی۔
اُن دنوں ربیع الاوّل کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ ننّھی خالہ نے حسبِ معمول اپنے گھر میلاد کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ویسے تو وہ اکثر ایسی محافل منعقد کرتی رہتی تھیں، مگر ربیع الاوّل میں اُن کا ذوق وشوق دیدنی ہوتا تھا اور مقصد صرف محفل سجانا نہیں بلکہ محبّتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دِلوں کو تازہ کرنا بھی ہوتا۔
ہم سب اُن کے ہاں جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے کہ امّاں نے اچانک کہا۔ ’’پارس کو بھی ساتھ لے جاؤ۔‘‘ ہم چونک گئے۔ ’’امّاں! وہاں اِسے کوئی نہیں جانتا… پھر پتا نہیں وہ کیسا محسوس کرے!‘‘ مگر امّاں کے سامنے ہماری ایک نہ چلی۔ جب ہم نے پارس سے ذکر کیا تو وہ حیرت انگیز طور پر بہت خوش ہوئی۔ کہنے لگی۔ ’’امریکا میں ہماری مسلم کمیونٹی کی ایک آنٹی کبھی کبھی ایسے پروگرام رکھتی تھیں، جہاں مختلف ُملکوں سے اسکالرز آتے اور بہت اچھی باتیں بتاتے تھے۔‘‘
ویسے بھی اُس کی گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ وسیع مطالعہ رکھتی ہے۔ اکثر رات گئے تک ابّا سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتی رہتی تھی اور چچا میاں اُسے دیکھ کر بہت خُوش ہوتے۔ ہم گاڑی میں بیٹھ چُکے تھے کہ پارس تیار ہو کر نیچے آئی۔ وہ آج ہمیشہ سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ اُس نے ہلکے سبز رنگ کا لمبا کوٹ نُما پہناوا زیبِ تن کیا تھا۔ دوپٹا بے ترتیبی ہی سے سہی، مگر کندھوں پر موجود تھا۔
بال کُھلے تھے اور چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی، جو اُس کا حُسن دوبالا کر رہی تھی۔ ہم سب حیرت سے اُسے دیکھنے لگے، تو وہ مُسکرائی۔ ’’مَیں نے سوچا… آج کا پروگرام اسپیشل ہے ناں، تو مجھے بھی ریسپیکٹ فل ڈریس پہننا چاہیے۔‘‘ امّاں نے محبّت سے اُس کی پیشانی چوم لی۔ ننّھی خالہ کے گھر پہنچے تو پورا گھر گلاب، موتیے کی خوشبوؤں سے مہک رہا تھا۔ سفید چادروں سے سجا صحن، سبز جھنڈیاں، درود و سلام کی مدھم صدائیں… ماحول میں عجیب سا سُکون گھلا ہوا تھا۔ پارس خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
محفل شروع ہوئی تو ایک بزرگ عالمہ نے نہایت نرم لہجے میں گفتگو شروع کی۔ اُنہوں نے کہا۔ ’’محبّتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف نعروں یا چراغاں کا نام نہیں۔ اگر ہم واقعی نبی کریمﷺ سے محبّت کرتے ہیں تو پھر ہمیں اُن کی طرح نرم دل، سچّا، امانت دار اور رحم دل بھی بننا ہوگا۔‘‘ پارس پوری توجّہ سے سُن رہی تھی۔ پھر عالمہ نے وہ واقعہ سُنایا کہ کس طرح حضوراکرمﷺ نے طائف والوں کی سنگ باری کے باوجود اُن کے لیے بددُعا نہیں کی بلکہ ہدایت کی دُعا فرمائی۔
پارس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ دھیرے سے میرے قریب ہوئی اور سرگوشی کی۔ ’’اُنہوں نے اپنے دشمنوں کو بھی معاف کردیا تھا؟‘‘مَیں نے مُسکرا کر سر ہلا دیا۔ اس کے بعد نعت خوانی شروع ہوئی۔ ایک بوڑھی خاتون کپکپاتی آواز میں پڑھ رہی تھیں۔ ’’سلام اُس پرکہ جس نے گالیاں کھا کر دُعائیں دیں…‘‘ اس نعت پر محفل میں کئی آنکھیں نم ہوگئیں۔
مَیں نے پارس کے چہرے پر وہ کیفیت دیکھی، جو لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی تھی، جیسے صدیوں سے بھٹکتی رُوح کو قرار مل گیا ہو۔ محفل کے اختتام پر سب خواتین نم آنکھوں سے درود و سلام پڑھنے لگیں۔ پارس خاموش کھڑی تھی۔ اُس کی نظریں جُھکی ہوئی تھیں۔ لب ہل رہے تھے، مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔ دُعا کے بعد شیرینی تقسیم ہوئی اور ہم گھر واپس آگئے، مگر پارس غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔
رات کافی گزر چُکی تھی، مگر نیند کا نام و نشان نہ تھا کہ مجھے پیاس نے ستایا۔ جب مَیں پانی لینے اُٹھی تو کوریڈور سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ کوٹھری کا دروازہ کُھلا تھا۔ میرے قدم وہیں رُک گئے۔ اندر مدھم روشنی میں پارس بیٹھی تھی۔ اُس کے سامنے وہی پرانا صندوق کُھلا پڑا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی… دادو ماں کی اور ایک چھوٹے سے لڑکے کی۔ شاید چچا میاں کے بچپن کی۔ پارس تصویر کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
پھر اُس نے صندوق سے ایک پرانا خط نکالا۔ کاغذ زرد ہوچُکا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ مَیں خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑی رہی۔ شاید اُسے میری موجودگی کا احساس ہوچُکا تھا۔ اچانک وہ بولی۔ ’’تمہیں پتا ہے… ڈیڈ یہ خط ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔‘‘ مَیں آہستہ سے اُس کے قریب جا بیٹھی۔ وہ خط سینے سے لگاتے ہوئے بولی۔’’یہ ہماری دادو ماں نے لکھا تھا…‘‘ پھر اس نے خط میری طرف بڑھایا۔ اُس میں لکھا تھا۔ ’’بیٹا! ماں ناراض ہوسکتی ہے، مگر دُعا دینا کبھی نہیں چھوڑتی۔‘‘
پارس کی آواز بھرّا گئی۔ ’’مَیں ہمیشہ سوچتی تھی… آخر ایسی کیا بات تھی، محمّدﷺ میں کہ لوگ اُن سے اتنی محبّت کرتے ہیں؟‘‘ اُس نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ ’’آج سمجھ آئی… کیوں کہ اُنہوں نے لوگوں کو جوڑا تھا… توڑا نہیں تھا۔‘‘ کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ اُسی لمحے فجر کی اذان بلند ہوئی۔ ’’الصّلاۃ خیر من النوم…‘‘ پارس نے چونک کر سُنا۔ پھر دھیرے سے بولی۔ ’’یہ آواز… دل کے بہت اندر اُترتی ہے۔‘‘ اُس نے آہستگی سے صندوق بند کیا، دادوماں کی تصویر کو احترام سے چوما، سر پر دوپٹا درست کیا اور نمازِ فجر کے لیے وضو کرنے چلی گئی۔
صُبح ناشتے کی میز پر سب خوش دکھائی دے رہے تھے۔ پارس آہستگی سے اُٹھی، چچا میاں کے پاس گئی اور اُن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ’’ڈیڈ… آج مجھے دادوماں کی قبر پر جانا ہے۔‘‘ چچا میاں چونک گئے۔ برسوں کی سختی ایک لمحے میں آنکھوں میں پگھلنے لگی۔ قبرستان کی فضا عجیب پُرسکون تھی۔ پارس خاموشی سے قبر کے قریب بیٹھی، پھر اپنے پرس سے ایک ٹوٹی ہوئی تسبیح نکالی۔ ’’یہ دادو کی چیزوں میں ملی…‘‘ موتی بکھر گئے تھے۔
اُس نے ایک ایک موتی چچا میاں کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ ’’تائی امّاں کہتی ہیں… رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں، ٹوٹتے نہیں… بس بکھر جاتے ہیں۔‘‘ چچا میاں کی سِسکی نکل گئی۔ پارس نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور مُسکرا کر بولی۔ ’’شاید محبّتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسان کو صرف اللہ سے نہیں…اپنوں سے بھی دوبارہ مِلا دیتی ہے۔‘‘ ہوا کا نرم جھونکا آیا اور یوں لگا، جیسے دادو ماں کے بکھرے موتی آخر کار پھر ایک ڈور میں پرو دیے گئے ہوں۔ محبّت، معافی اور اپنائیت کی ڈور میں…