افشاں نوید
زمانہ بدل گیا، مگر انسان نہیں بدلا۔ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون ہر سال بدل جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) روز ایک نیا باب تحریر کررہی ہے۔ دُنیا کی رفتار پہلے سے کہیں تیز ہوچُکی، مگر اپنے دِل سے پوچھیے کہ کیا حسد کی جگہ کسی نئے جذبے نے لےلی، تکبّر رخصت ہوگیا، محبّت کی ضرورت ختم ہوگئی، کیا آج بچّے کو ماں کی آغوش اور بیوی کو شوہر کی توجّہ کی ضرورت نہیں رہی، کیا ایک بوڑھے باپ کے دِل میں اپنے بیٹے کی محبّت کی خواہش ختم ہوگئی؟
ہرگز نہیں… زمانہ بدل گیا، مگر انسان نہیں بدلا۔ اُس کی خوشیاں، خوف، آنسو، اُمیدیں، جذبات واحساسات اور دِل کی کیفیت آج بھی وہی ہے، جو صدیوں پہلے تھی۔ اِسی لیے سیرتِ محمدی ﷺ کبھی پُرانی نہیں ہو سکتی، چاہے مصنوعی ذہانت کتنی ہی ترقّی کیوں نہ کرلے، کیوں کہ سیرتِ رسول ﷺ مشینوں سے نہیں، انسانی قلب سےخطاب کرتی ہے۔ یاد رہے، آج کے ڈیجیٹل دَور کا سب سے بڑا بُحران معلومات کی کمی نہیں، معنی کا فقدان ہے۔
ہم نے معلومات کو علم سمجھ لیااورعلم کو حکمت، حالاں کہ قرآنِ مجید کی پہلی وحی نےعلم کو اپنےخالق سے جوڑا تھا۔ ترجمہ:’’پڑھیے اپنے ربّ کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو وہ کچھ سکھایا، جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (سورۃ العلق) گویا علم صرف معلومات نہیں، بلکہ وہ روشنی ہے، جو انسان کو اپنے ربّ سے جوڑ دے۔
اگر علم انسان کو اپنے خالق سے دُور کر دے، تو وہ معلومات تو ہوسکتا ہے، مگر ہدایت کا ذریعہ نہیں ۔ اِسی لیے رسول اللہ ﷺ نےصرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھایا، یہ بھی سکھایا کہ علم انسان کوعاجز بنائے، متکبّر نہیں۔ دِل میں نرمی و گداز پیدا کرے، سختی نہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد خُود ان الفاظ میں بیان فرمایا۔’’مُجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘(مسندِ احمد، حدیث 8952:) یہی وجہ ہے کہ اسلام کی دعوت صرف عبادات تک محدود نہیں، اخلاق، معاملات، تعلقات اور انسانی وقار تک پھیلی ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا نےہمیں چہروں سےمتعارف کروایاہے، مگر سیرتِ رسول ﷺ نےہمیں کردار کی پہچان عطا کی۔ آج ایک تصویر کچھ ہی دیر میں ہزاروں لائیکس حاصل کر لیتی ہے۔ ایک ویڈیو لمحوں میں لاکھوں صارفین تک پہنچ جاتی ہے، مگر رسول اللہ ﷺ نے کبھی انسان کی قدراس کی شُہرت سے نہیں ناپی، بلکہ وہ تقویٰ اور کردار سے ناپی گئی۔ قرآن علانیہ کہتا ہے۔ ’’بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزّت والا وہ ہے، جو سب سے زیادہ متقّی ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات، 49:13)
یہی وہ معیار تھا، جس نے ایک چھوٹے سے گروہ کو دُنیا کی عظیم ترین اخلاقی تہذیب میں بدل دیا۔ اور آج ہماری سب سے بڑی آزمائش ہی یہ ہے کہ ہم خُود کو لوگوں کی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں، جب کہ سیرتِ مطہرہ ہمیں اپنے ربّ کی نگاہ میں کھڑا کرتی ہے۔
وہ ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کی شُہرت، دولت یا اثر و رسوخ نہیں، اُس کا کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ سے متعلق جو گواہی دی، وہ رہتی دُنیا تک ہرانسان کے لیے اخلاق کا معیار ہے۔ ترجمہ:’’اور بےشک آپ ﷺ بلند ترین اخلاق پر فائز ہیں۔‘‘ (سورۃ القلم، 68:4) یہ وہ اخلاقی اصول ہیں، جن کی ضرورت پندرہ سو برس پہلے بھی تھی اور آج مصنوعی ذہانت کے دَور میں بھی اُتنی ہی ہے، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔
دُنیا نے کبھی اتنی تیزی سےسفر نہیں کیا، جتنی تیزی سے آج کر رہی ہے۔ ایک صدی قبل انسان خط و کتابت پر انحصار کرتا تھا، پھرٹیلی فون آیا، اس کےبعد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت ہمارے سوالات کے جوابات دینے لگی ہے۔ یہ پیش رفت نہایت حیرت انگیز ہے مگر اسلام ہمیں ترقّی سے خوف زدہ ہونے کی بجائےاُسےخیروبھلائی کے لیےاستعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام نے ہمیشہ علم کی حوصلہ افزائی کی، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اگر علم اخلاق سےخالی ہوجائے، تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بلاشبہ، ہرنئی ایجاد اپنے ساتھ نئے امکانات بھی لاتی ہے اور نئے امتحانات بھی، لیکن کیا اگر مشینیں پہلے سے زیادہ ذہین ہوجائیں، تو انسان بھی پہلے سے زیادہ صالح ہوسکے گا؟
یہ وہ سوال ہے، جس کا جواب نہ کوئی سرچ انجن دے سکتا ہے اور نہ کوئی الگورتھم، کیوں کہ معلومات اور ہدایت میں بنیادی فرق ہے۔ معلومات راستہ دکھا سکتی ہیں، مگر ہدایت منزل کا شعورعطا کرتی ہے اور یہی وہ مقام ہے، جہاں سیرتِ محمّدی ﷺ ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ سیرتؐ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ کس دَور میں کون سی سواری استعمال، یا ٹیکنالوجی کی کون سی صُورت اختیار کی جائے بلکہ وہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب طاقت واقتدارحاصل ہو، تو انصاف کیسےقائم کیا جائے۔
اختلاف کی صُورت میں وقار کیسے برقرار رکھا جائے۔ دِل کو حسد، کینے سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ حقوق العباد کیسے ادا کیےجائیں اور خلوت و جلوت میں اپنے ربّ سےتعلق کیسےزندہ رکھاجائے۔ اس لیےسیرتِ طیبہ محض تاریخی کتاب کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک ہمہ گیر،دائمی منشور ہے۔
ہماری اسکرینز بدل گئیں، ہمارے گھر، سفر کے ذرائع، زبان، رفتار اور ترجیحات بھی تبدیل ہوگئیں لیکن ایک چیز آج بھی ویسی ہی ہے، جیسی پندرہ سوسال پہلے تھی اور وہ ہے انسان کا دل۔ اسے آج بھی محبّت وعزّت اور سچائی پر اعتماد درکار ہے۔ دِل آج بھی ظُلم سے نفرت کرتا ہے۔
آج بھی ایک ماں اپنے بچّے کے لیے وہی دُعائیں کرتی ہے، جو مدینہ منورہ کی مائیں کیا کرتی تھیں۔ آج بھی دُنیا کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کام یابی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جائے۔ اور اس سوال کا جواب سیرتِ رسول ﷺ فراہم کرتی ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام یاب انسان تیار کیے کہ جن کے کردار نے سلطنتوں کے ساتھ دِل بھی فتح کیے۔
حضرت انس بن مالکؓ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف دس سال تک حاصل رہا۔ یہ ایک بچّے کی زندگی کا نہایت حسّاس دَور تھا، مگر اس پورےعرصے میں انہوں نے اپنے آقا ﷺ کا جو حُسنِ سلوک دیکھا، وہ قیامت تک کے لیے تربیت کا معیار بن گیا۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔ آپ نےکبھی مُجھےاُف تک نہیں کہا،نہ کبھی یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا یا یہ کام کیوں نہیں کیا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
سوچیے! ہم کسی کام میں چند لمحوں کی تاخیر پر صبرکادامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، گھروں میں آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں لیکن ایک عظیم معلّم، ایک سربراہِ مملکت اور پوری اُمّت کا قائد اپنےکم عُمرخادم کےساتھ ایسا حُسنِ سلوک فرماتا ہے کہ دس سال بعد بھی اُس کی زبان پر شکایت کا ایک لفظ نہیں آتا۔ اسی حُسنِ معاشرت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نےفرمایا۔ ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور مَیں اپنےگھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔‘‘ (جامع ترمذی، حدیث 3895:)
یہ محض حُسنِ اخلاق نہیں بلکہ انسان سازی کا وہ عملی نمونہ ہے، جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہی وہ دولت ہے، جو مصنوعی ذہانت فراہم کر سکتی ہے اور نہ کوئی جدید ٹیکنالوجی۔ آج بھی ہر ماں چاہتی ہے کہ اس کا بچّہ کام یاب ہو۔ یہ خواہش فطری بھی ہے اور قابلِ تحسین بھی، لیکن اگر ہمارا بچّہ ذہین تو ہو مگر سچّا نہ ہو، کام یاب ہو مگر رحم دل نہ ہو، بااثر ہو مگر انصاف پسند نہ ہو، تو کیا اُسے واقعی کام یاب قراردیاجاسکتا ہے؟
سیرتِ نبوی ﷺ یہ تعلیم دیتی ہےکہ بچّوں کوصرف مہارتیں نہیں، کردار بھی دیا جائے۔ محض الفاظ نہیں، عملی تربیت بھی فراہم جائے۔ صرف نصیحت نہ کی جائے، خُود عملی نمونہ بن کر دکھایا جائے، کیوں کہ بچّے باتوں سے کم ،طرزِ عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اور قرآنِ مجید بھی اِسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ترجمہ: ’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب، 33:21)
بے شک، رسول اللہ ﷺ کی سیرت اسوۂ حسنہ کی کامل، جامع ترین عملی مثال ہے،اِسی لیے جب ہم سیرتِ محمدی ﷺ کا مطالعہ کرتےہیں، تو محسوس ہوتا ہے، یہ اکیسویں صدی کے انسان سے بھی اُسی طرح مخاطب ہے، جیسے پندرہ سو برس پہلے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے تھی۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے علم، دولت یا شُہرت میں نہیں، اُس کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ یہی کردار تھا، جس نے دشمنوں کو دوست بنایا، غلاموں کوعزّت دی، عورت کو وقار عطا کیا، بچّوں کو محبت دی اور ایک منتشر جاہلانہ معاشرے کو ایک اُمّت میں تبدیل کردیا۔
قرآنِ مجید رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ ترجمہ: ’’تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہاری تکلیف اُن پرگراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بےحدخواہش مند ہیں اور اہلِ ایمان پرنہایت شفقت اور رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ التوبہ، 9:128)
یہی وہ رحمت ہے، جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت پہلے سےکہیں زیادہ طاقت وَر ہو جائے گی۔ وہ ہمارے فیصلوں میں مدد دے گی، زندگی کو پہلے سے زیادہ آسان بنا دےگی، مگر رحمت کی صفت کسی سافٹ ویئر سے ڈاؤن لوڈ نہیں کی جا سکتی۔ یہ دِل میں موجزن ہوتی ہے اور دِلوں کو زندگی دینے والے معلّم کا نام محمّد رسول اللہ ﷺ ہے۔
اِسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (سورۃ الانبیاء، 21:107)سیرتِ نبوی ﷺ ماضی کا کوئی قصّہ نہیں، بلکہ مستقبل کی امید ہے۔ یہ محبّت صرف مسلمانوں کی مذہبی روایت نہیں، انسانیت کا اخلاقی سرمایہ ہے۔ اگر’’جین زی‘‘ اپنی شناخت کے سوال سے نبردآزما ہے، کوئی نوجوان کام یابی کے باوجود اندرونی بےسکونی کا شکار ہے، کوئی خاتون پیشہ ورانہ زندگی اور خاندانی ذمّے داریوں کے درمیان توازن تلاش کر رہی ہے، والدین اپنے بچّوں کے لیے علم کے ساتھ کردار بھی چاہتے ہیں، تو سیرتِ محمدی ﷺ اُنہیں وقتی حل نہیں ، بلکہ ایسا دائمی راستہ عطا کرتی ہے کہ جس پر چلتے ہوئے چاہے زمانہ بدلتا رہے، انسان اپنے ربّ سے جُڑا رہے گا، اپنی حقیقت نہیں بھولے گا۔ جب دُنیا معلومات کے سمندر میں اپنی سمت کھونےلگتی ہے، توسیرتِ محمدی ﷺ ہی یاد دِلاتی ہےکہ منزل تک پہنچانے والےصرف نقشے نہیں، بلکہ کردار ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس اَمرکی نہیں کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو صرف میلاد کی محافل، سیرت کانفرنسز یا نصابی ابواب تک محدود رکھیں بلکہ اسے اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، بازاروں، دفاتر، عدالتوں اورڈیجیٹل دُنیامیں بھی زندہ کریں، کیوں کہ سیرت صرف پڑھنے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہے۔ آج شرق و غرب میں، جہاں ایک ماں اپنے بچّوں کے لیے صرف دنیاوی کام یابی نہیں صالحیت مانگتی ہے، وہاں سیرتِ محمدی ﷺ ہی سب سے روشن چراغ ہے۔
انسان کے دِل کو ہمیشہ اسی روشنی کی ضرورت رہے گی، جو پندرہ سو برس پہلے غارِ حرا سے طلوع ہوئی تھی اور جس نے پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی کام یابی علم، طاقت یا شُہرت میں نہیں، اللہ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی میں ہے۔ یہ تہذیبِ انسانی کا وہ مکمل منشور ہے، جس کی روشنی سے ہردَور کا انسان اپنی زندگی، معاشرہ اور مستقبل سنوار سکتا ہے۔