• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہوش عروج

دُنیا کی ہر تہذیب میں اپنی نمایاں،اہم شخصیات اور اپنے محبوب کرداروں کی مدح میں شاعری کی گئی ہے۔ قدیم یونان کے رزمیے ہوں، فارس کے شاہ نامے یا عرب کے قصائد، انسان نے ہمیشہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو الفاظ کا تاج پہنایا، لیکن تاریخِ ادب میں صرف ایک صنف ایسی ہے، جس کی بنیاد زمین پر نہیں، آسمان پر رکھی گئی اور وہ ہے، نعت۔ وہ صنفِ سخن، جس کا سرچشمہ انسانی تخیّل نہیں، وحیِ الٰہی ہے۔

رسولِ اکرم حضرت محمّد ﷺ کی مدح و ثناء کا آغاز کسی شاعر نے نہیں بلکہ اِس کی ابتدا خُود ربِّ کائنات نے قرآنِ مجید میں اپنے محبوب ﷺ کے اوصاف بیان کر کے فرمائی۔ کہیں آپ ﷺ کے اخلاق کو پوری انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا، کہیں آپ کے ذکر کو رفعت عطا کرنےکا اعلان ہوااورکہیں آپ کوتمام جہانوں کےلیے رحمت قرار دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’اور بےشک آپ ﷺ بلند ترین اخلاق پرفائزہیں۔‘‘(سورۃ القلم، 68:4) ایک اور مقام پر فرمایا گیا۔ ’’اور ہم نے آپؐ کےذکر کو بلند کردیا۔‘‘ (سورۃ الشرح، 94:4)

اور پھر وہ آیت نازل ہوئی، جس نےرہتی دنیا تک محبتِ رسول ﷺ کا سب سےعظیم دستورعطا کردیا۔’’بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘(سورۃ الاحزاب، 33:56) یہ آیت صرف ایک حُکم نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کی ایک حسین و مستقل روایت کی بنیاد ہے۔ اسی آیت نےدرود و سلام، مدحِ رسول ﷺ اور نعت گوئی کو امتِ مسلمہ کی روحانی زندگی کا لازمی حصّہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی گئے، اپنے ساتھ محبتِ رسول ﷺ کا یہ سرمایہ بھی لےکر گئے۔

نعت کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ محض ایک ادبی صنف نہیں، عقیدت، محبّت، اتباع اور ادبِ رسالت ﷺ کا حسین امتزاج ہے۔ دُنیا کے بےشمارشعراء نے اپنی محبوب شخصیات کے لیے اشعار کہے، مگررسولِ اکرم ﷺ وہ واحد ہستی ہیں، جن کی مدح میں 1500سال سے مسلسل ہر نسل، زبان اور تہذیب میں شاعری کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی آب و تاب سے جاری ہے۔

عرب کے ریگ زاروں سے لے کر اُندلس کے باغات، بغداد کی علمی مجالس سے استنبول کی مساجد، شیراز کی خانقاہوں سے دہلی اور لاہور کے مشاعروں اوراب عالم گیرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک، نعت کا یہ سفرکبھی نہیں رُکا۔ زبانیں، اسالیب بدلتے، سلطنتیں عروج و زوال سے گزرتی رہیں، مگر رسول اللہ ﷺ سے محبّت کا اظہار ہر دَورمیں نئی نئی صُورتوں میں جاری رہا۔

جرمن مستشرق اور ممتازمحقّق این میری شمل (Anne marie Schimmel) نے اپنی معروف کتاب، ’’And Muhammad Is His Messenger‘‘ میں لکھا ہے کہ اسلامی تہذیب میں رسول اللہ ﷺ کی محبّت نے شاعری، خطاطی، موسیقی، فنِ تعمیر اور عوامی ثقافت سمیت زندگی کے تقریباً ہر شُعبے کو متاثرکیا۔

ان کے نزدیک نعتیہ ادب مسلمانوں کے اجتماعی احساسِ محبّت کا سب سے خُوب صُورت اظہار ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ مدینہ منوّرہ کی گلیوں سے بلند ہونے والی عشق ومحبّت کی یہ صدا آخر پندرہ صدیوں تک کیسے زندہ رہی؟ کس طرح حضرت حسان بن ثابتؓ کےقصائد سےشروع ہونے والا سفر امام بوصیریؒ، مولانا رومیؒ، عبدالرحمٰن جامیؒ، امیر خسروؒ، محسن کاکورویؒ، علاّمہ اقبالؒ اورعصرِ حاضر کے نعت گو شعراء تک پہنچا؟ اور بدلتے زمانوں میں بھی اس کی رُوح کیسے برقرار رہی؟

زیرِ نظر تحریر اِسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسا سفر، جو ہمیں عہدِ نبوی ﷺ سے اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل دُنیا تک لےجاتا ہے، جہاں ذرائع بدل چُکے ہیں، مگر محبّتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی آج بھی اُسی طرح دِلوں کو منوّر کر رہی ہے۔

عہدِ نبوی ﷺ: جب مدحِ رسول ﷺ نے شعری زبان اختیار کی 

اگر قرآنِ مجید نے نعت کو فکری و روحانی بنیاد فراہم کی، تو عہدِ نبوی ﷺ نے اسے عملی و ادبی اظہارعطا کیا۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب محبّتِ رسول ﷺ صرف ایک جذبہ نہ رہی، بلکہ الفاظ کا لباس پہن کرعرب کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں شاعری محض ایک فن نہیں،سماجی، سیاسی و ثقافتی قوّت سمجھی جاتی تھی۔ قبائل اپنی عزّت، شُجاعت، نسب اورفتوحات کا اظہار اشعار کے ذریعے کیا کرتے۔

مشہور شعراء کا کلام ’’بازارِعکاظ‘‘ جیسے سالانہ مَیلوں میں سُنایا جاتا اور بعض بہترین قصائد کعبے کی دیوار پر آویزاں کیے جانے کی روایت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ گرچہ جدید محقّقین اس روایت کے تاریخی ثبوت پر اختلاف کرتے ہیں، تاہم اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ عرب معاشرے میں شاعرکی آواز غیرمعمولی اثر رکھتی تھی۔

جب رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا، تو مخالفین نے شاعری ہی کو اپنے اعتراضات اور پراپیگنڈے کا ذریعہ بنایا اور ایسے ماحول میں مسلمانوں کی طرف سے بھی ایسے شعراء سامنے آئے کہ جنہوں نے اپنے کلام سے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا دفاع اور محبّت و عقیدت کا اظہار کیا۔

حضرت حسّان بن ثابتؓ: شاعرِ رسول ﷺ

رسول اللہ ﷺ سے نسبت رکھنے والے شعراء میں سب سے نمایاں نام حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپؓ مدینہ کے معزّز شاعر تھے۔ آپؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی غیرمعمولی شاعرانہ صلاحیت کودفاعِ اسلام اور مدحِ رسول ﷺ کے لیے وقف کردیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجدِ نبویؐ میں حضرت حسّانؓ کے لیے منبر رکھوایا تاکہ وہ وہاں سے مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیں اور مسلمانوں کے حوصلے بلند کریں۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’اے اللہ! رُوح القدس (جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے حسّان کی مدد فرما۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم) یہ اعزاز اس بات کی دلیل ہے کہ جب شاعری حق، سچّائی اور دفاعِ دین کے لیے استعمال ہو، تو وہ محض فن نہیں رہتی، ایک مؤثر دعوتی ذریعہ بن جاتی ہے۔ حضرت حسّانؓ کے متعدد نعتیہ اشعار آج بھی عربی ادب کا سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا مشہور شعر ہے؎ وأحسنُ منک لم ترَ قطُّ عيني… وأجملُ منک لم تَلِدِ النساء (ترجمہ: میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا اور کسی ماں نے آپ ﷺ سے زیادہ خُوب صُورت ہستی کو جنم نہیں دیا۔) اس شعر کی خُوب صُورتی صرف الفاظ میں نہیں، اُس سچّی محبّت میں پوشیدہ ہے، جو ایک صحابیؓ کے دِل سے براہِ راست اپنے نبی ﷺ کے لیے پھوٹ رہی ہے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ

حضرت حسّانؓ کے ساتھ ساتھ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ بھی اُن ممتاز صحابۂ کرام میں شامل تھے، جنہوں نے اپنے اشعار سے اسلام کا دفاع کیا۔ سیرت کی کُتب میں ان تینوں کا ذکر بطورِخاص ملتا ہے کہ ان کا کلام محض مدح نہیں، ایمان، قربانی اور استقامت کا آئینہ دار بھی تھا۔

حضرت کعب بن زہیرؓ اور ’’قصیدہ بانت سعاد‘‘

عہدِ نبوی ﷺ کا ایک نہایت اہم واقعہ حضرت کعب بن زہیرؓ سے متعلق ہے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ رسول اللہ ﷺ کے مخالفین میں شمار ہوتے تھے، مگر بعد میں توبہ کرکے مدینہ منوّرہ حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا مشہور قصیدہ، ’’بانت سعاد‘‘ پیش کیا۔

قصیدہ ختم ہونے پر رسول اللہ ﷺ نے خوش ہوکراپنی چادرِمبارک اُنہیں عطا فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں یہ قصیدہ ’’قصیدۂ بُردہ شریف‘‘ کے نام سے بھی معروف ہوا۔ بعد کے ادوار میں امام بوصیریؒ کے مشہور قصیدے کو بھی ’’بُردہ‘‘ کہا گیا، مگر یہ دونوں الگ الگ تخلیقات ہیں اور یہ فرق واضح رکھنا ضروری ہے۔

اولین نعت گوشعراء میں حضرت ابوطالب کا شمار؟

قدیم عربی مآخذ میں حضرت ابوطالب کےایسےاشعارمحفوظ ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت، صداقت اوربلند مقام کا ذکر ملتا ہے۔ بہت سے ادبی محقّقین ان اشعار کو عربی مدحیہ شاعری کی قدیم ترین مثالوں میں شمار کرتے ہیں۔ تاہم اصطلاحی معنی میں ’’نعت‘‘ بعد کے زمانے میں ایک مستقل ادبی صنف کے طور پر متعین ہوئی۔ اس لیے علمی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ حضرت ابوطالب کو رسول اللہ ﷺ کے۔ اوّلین مادحین میں سے ایک کہا جائے، نہ کہ قطعی طور پر ’’پہلا نعت گو شاعر۔‘‘

’’طلع البدر علینا‘‘…محبّت کی اجتماعی آواز

دورِ نبویؐ میں رسول اللہ ﷺ کی مدح صرف شعراء تک محدود نہ تھی بلکہ مدینہ منوّرہ کی فضا میں عام مسلمان بھی اپنے محبوب نبی ﷺ سے والہانہ محبّت کا اظہار کرتے تھے۔ ’’طلع البدرعلینا‘‘ اسلامی روایت کا وہ معروف نعتیہ ترانہ ہے، جو صدیوں سے محبّتِ رسول ﷺ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرچہ اس کے تاریخی پس منظر سے متعلق اہلِ علم کی مختلف آراء ہیں کہ یہ ہجرت کے موقعے پر پڑھا گیا یا کسی اور موقعے پر، لیکن اس کی مقبولیت اور مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی سے انکار ممکن نہیں۔

عہدِ نبوی ﷺ نے نعت کوصرف ایک ادبی روایت نہیں بنایا، بلکہ اسے ایمان، محبّت اوروفاداری کی زبان عطا کی۔ اسی دَورمیں یہ اصول قائم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی مدح محض شعری مہارت کا نام نہیں، یہ ادب، عقیدت اور صداقت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ بعد کی تمام صدیوں میں نعت گوئی نے اِسی بنیاد پر اپنی عمارت استوار کی۔

خلافتِ راشدہ :جب نعت، محبّت سے بڑھ کر وفاداری کی علامت بن گئی

11ہجری میں رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے ساتھ ہی اُمّتِ مسلمہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی، جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ وہ ہستی، جس کی موجودگی ایمان والوں کے لیے سراپا رحمت تھی، اب ظاہری طور پر ان کے درمیان موجود نہ تھی۔

مدینہ منوّرہ کی گلیاں خاموش تھیں، مسجدِ نبویؐ کے ستون غم میں ڈوبے محسوس ہوتے تھے اور صحابۂ کرامؓ کی آنکھیں بار بار اُس دروازےکی طرف اُٹھتی تھیں، جہاں سے کبھی رحمتِ عالم ﷺ تشریف لاتے تھے۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ جب نعت کا مزاج بھی بدلنے لگا۔ اب یہ صرف حضور ﷺ کی موجودگی میں کہی جانے والی مدح نہ رہی بلکہ یادِ رسول ﷺ، درود وسلام، محبت، اتباع اور وفاداری کا دائمی اظہار بن گئی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وصالِ نبوی ﷺ کے موقعے پر قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ’’محمّد ﷺ تو صرف ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچُکے ہیں۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران، 3:144) اس آیت نے غم سے نڈھال صحابۂ کرامؓ کو یہ حقیقت یاد دِلائی کہ رسول اللہ ﷺ کی محبّت کا تقاضا صرف آنسو بہانا نہیں، اُن کی تعلیمات پر ثابت قدم رہنا بھی ہے۔

درود و سلام: نعت کی دائمی روح

خلافتِ راشدہ کے دَور میں گرچہ شعر و ادب کی سرگرمیاں عہدِ نبوی ﷺ کی نسبت کم دکھائی دیتی ہیں، لیکن ایک عمل پوری قوّت سے جاری رہا اور وہ تھا، درود و سلام کی روایت۔ صحابۂ کرامؓ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے، تو ادب ومحبّت کے ساتھ درود بھیجتے۔

یہی روایت بعد کی تمام اسلامی تہذیبوں میں نعتیہ ادب کی بنیاد بنتی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر نعت محبّت کا شعری اظہار ہے، تو درود و سلام اس محبّت کا عبادت پر مبنی اظہار۔

حضرت علیؓ اور حبِّ رسول ﷺ

خلفائے راشدین میں حضرت علی بن ابی طالبؓ کی شخصیت علم، فصاحت اور محبّتِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج تھی۔ سیرت اور تاریخ کی متعدد کُتب میں آپؓ کے ایسے خطبات اور اقوال محفوظ ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت، حُسنِ اخلاق اور بلند مقام کا نہایت مؤثر انداز میں ذکر ملتا ہے۔

جب کسی نےحضرت علیؓ سے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا، تو آپؓ نے فرمایا۔’’رسول اللہ ﷺ نہ بہت لمبےتھے، نہ پست قامت، آپ کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن تھا۔‘‘ یہ تفصیلی بیان، جو مختلف حدیثی و سیرتی مصادر میں منقول ہے، صرف ظاہری حلیے کی تصویر نہیں بلکہ ایک صحابیؓ کی محبّت سے لب ریز گواہی بھی ہے۔

شاعری سے بڑھ کر کردار

خلافتِ راشدہ کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس دَور میں نعت صرف زبان پرنہیں، کردار میں نظر آتی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کی صداقت، حضرت عُمرؓ کا عدل، حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور حضرت علیؓ کا علم، یہ سب دراصل رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے عملی مظاہر تھے۔

اِسی لیے مؤرخین نے لکھا ہے کہ خلافتِ راشدہ، سیرتِ نبوی ﷺ کی اجتماعی تعبیر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس دَور میں رسول اللہ ﷺ سے محبّت کا سب سے بڑا اظہار آپؐ کی سنّت پر عمل سمجھا جاتا تھا۔ الفاظ کی مدح اپنی جگہ لیکن اصل نعت وہ زندگی تھی، جو آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتی تھی۔

مسجدِ نبویؐ: علم و ادب اور محبّت کا مرکز

خلافتِ راشدہ میں مسجدِ نبویؓ صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رہی، بلکہ تعلیم، قضا، مشاورت اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روایت کا سب سے بڑا مرکز بن گئی۔ یہاں صحابۂ کرامؓ نئی نسل کو قرآن و حدیث اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے واقعات سکھاتے تھے۔

یوں نعت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ اب یہ صرف شعراء کے کلام میں نہیں، محدّثین کی روایات، فقہاء کی گفتگو، مفسرین کی تفسیر اور عام مسلمانوں کی روزمرّہ زندگی میں بھی نمایاں ہونے لگی۔

خلافتِ راشدہ کی میراث

اگرعہدِ نبوی ﷺ نےنعت کو محبّت کی زبان عطا کی، تو خلافتِ راشدہ نے اسے عمل، وفاداری اور اتباع کی رُوح سے نوازا۔ اسی دَور نے یہ تصوّر مضبوط کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی مدح کا سب سے اعلیٰ درجہ صرف اشعار کہنا نہیں،آپ ﷺ کی سُنّت کو اپنی زندگی کاحصّہ بنانا ہے۔

یہی فکر بعد کے تمام ادوار میں نعتیہ ادب کی بنیاد بنتی رہی۔ اُموی اورعباسی دَور میں جب عربی ادب نے نئی جہت اختیارکی، تو نعت گوئی بھی اِسی مضبوط بنیاد پر ایک باقاعدہ ادبی صنف کے طور پر پروان چڑھی۔

اُموی و عباسی عہد : نعت ایک باقاعدہ ادبی صنف بن گئی

خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی دُنیا ایک نئے دَور میں داخل ہوئی۔ اموی خلافت (41-132ھ) اور پھر عباسی خلافت (132-656ھ) کے قیام نے اسلامی ریاست کی حدود کو عرب سے نکال کرایشیا، افریقا اور یورپ کے وسیع علاقوں تک پھیلا دیا۔ 

اس توسیع کے ساتھ صرف سیاسی نقشہ ہی نہیں بدلا،علم، ادب، فلسفہ، تاریخ اور زبان بھی نئی منزلوں سے آشنا ہوئی اور اِسی ماحول میں نعت بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اگر عہدِ نبوی ﷺ میں نعت محبّت کا فطری اظہار تھی اور خلافتِ راشدہ میں وفاداری اور اتباع کی علامت، تواموی وعباسی دَور میں یہ باقاعدہ ادبی صنف کے طور پر سامنے آئی۔

عربی قصیدہ نگاری کی نئی جہت

عربی شاعری میں قصیدہ پہلےہی ایک مضبوط روایت رکھتا تھا، مگراب اسی قصیدے کو رسول اللہ ﷺ کی مدح کے لیے زیادہ بہتر اندازمیں استعمال کیا جانے لگا۔ اُس دَور کے شعراء نے نعت میں صرف جذبات ہی نہیں، زبان کی لطافت، تشبیہات، استعارات اور فصاحت وبلاغت کے اعلیٰ نمونے بھی پیش کیے۔ یوں نعت، دینی عقیدت کے ساتھ عربی ادب کی ایک اہم صنف بھی بن گئی۔

سیرت نگاری اور نعت کا باہمی تعلق

اسی زمانے میں سیرتِ نبوی ﷺ پر باقاعدہ علمی کام شروع ہوا۔ محمّد بن اسحاق (متوفیٰ 150ھ) نےسیرت کو مرتّب کیا، جسے بعد میں ابنِ ہشام نے نہایت عُمدہ اندازمیں مدوّن کیا۔ ان کُتب میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے متعدد نعتیہ اشعار بھی محفوظ کیے گئے۔

اگر یہ مؤرخین اور محدثین ان اشعار کو محفوظ نہ کرتے، تو شاید آج حضرت حسّان بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ کے بہت سے نعتیہ اشعار ہم تک نہ پہنچ پاتے۔ اس اعتبار سے یہ دَور صرف نئے کلام کا نہیں، پرانے نعتیہ سرمائے کی حفاظت کا بھی عہد تھا۔

ادبی مراکز اور نعت کا فروغ

اُموی دَور میں دمشق اورعباسی دَور میں بغداد صرف سیاسی دار الحکومت نہیں، علمی وادبی مراکزبھی تھے۔بغداد کے علمی حلقوں میں قرآن، حدیث، فقہ، لُغت اور ادب کے ساتھ مدائحِ نبویہؐ بھی پڑھی اور لکھی جاتی تھیں۔ شاعروں کے درمیان یہ احساس عام تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی مدح عربی زبان کے بلند ترین اظہار کی مستحق ہے۔

اسی زمانے میں لُغت، نحو اور بلاغت کے علوم نے بھی ترقّی کی، جس کا اثر نعتیہ شاعری پر واضح نظر آتا ہے۔ الفاظ زیادہ نکھر گئے، اسلوب زیادہ پُختہ اورفکری گہرائی میں اضافہ ہوا۔

نعت اور سیرتِ نبویؐ: ایک دوسرے کی تکمیل

عباسی دَور کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی تھا کہ نعت کو سیرتِ نبوی ﷺ سے الگ نہیں دیکھا گیا۔ محدثین نے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف و شمائل پرمستقل کتابیں لکھیں۔ امام ترمذی کی’’الشمائل المحمدیہ‘‘ اور قاضی عیاض کی بعد کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘اسی علمی روایت کاتسلسل ہیں۔ یوں نعت صرف شاعری نہ رہی، حدیث، سیرت اور شمائل کے علوم سے گہرا تعلق اختیار کرگئی۔

ادبی معیار کی بلندی

اُس دَورکے ناقدین کاخیال تھا کہ نعت میں مبالغہ آرائی سے زیادہ وقار، شائستگی اور ادب ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے، بہترین نعتیہ شاعری میں رسول اللہ ﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بنیاد بنایا گیا اور یہ روایت بعد کے تمام ادوار میں برقرار رہی۔ بڑے نعت گو شعرا نے اِسی اصول کی پیروی کرتے ہوئے مدحِ رسول ﷺ میں محبّت کے ساتھ علمی احتیاط کا بھی مظاہرہ کیا۔

اُموی و عباسی ادوار کی سب سے بڑی میراث

اُموی اورعباسی عہد کی سب سے نمایاں خدمت یہ تھی کہ ان ادوار نے نعت کو وقتی جذبات کےاظہار سے نکال کر ایک مستقل ادبی وعلمی روایت میں تبدیل کردیا۔ اب نعت صرف مشاعروں کی زینت نہیں، سیرت کی کُتب، حدیث کے ابواب، علمی مجالس اور ادبی تنقید کا بھی حصّہ بن چُکی تھی۔

اسی مضبوط بنیاد پر آگے چل کر مصر میں امام بوصیریؒ کا قصیدۂ بردہ، ایران میں جامیؒ کی نعتیہ روایت، اُندلس کی قصیدہ نگاری اور برِعظیم کا عظیم نعتیہ ادب پروان چڑھا۔

مصر و شام: قصیدۂ بُردہ نے نعت کو عالمِ اسلام کی مشترکہ آواز بنا دیا

ساتویں صدی ہجری (تیرہویں صدی عیسوی) تک اسلامی دُنیا ایک نئے دَور میں داخل ہو چُکی تھی۔ بغداد پر منگولوں کےحملے نے عباسی خلافت کی سیاسی قوّت کو شدید دھچکا پہنچایا، مگر علم وادب کاچراغ بُجھا نہیں۔ مصر، شام اور حجاز نئے علمی مراکز بن کر اُبھرے، جہاں تفسیر، حدیث، فقہ اورعربی ادب کے ساتھ نعتیہ شاعری نے بھی غیرمعمولی ترقّی کی۔

اسی دَور میں ایک ایسا شاعر پیدا ہوا، جس کے ایک قصیدے نے نعت کو عرب دُنیا کی حدود سے نکال کر پوری اُمّتِ مسلمہ کا مشترکہ رُوحانی سرمایہ بنا دیا اوروہ تھے، امام شرف الدّین محمّد بن سعید بوصیریؒ (608ھ-696ھ /1212ء-1297ء)، جن کا نام آتے ہی ذہن میں قصیدۂ بردہ گونج اُٹھتا ہے۔

امام بوصیریؒ: عشقِ رسول ﷺ سے لب ریزشاعر

امام بوصیریؒ مصر میں پیدا ہوئے۔ عربی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے اورحدیث وفقہ سے بھی گہری واقفیت رکھتے۔ ان کی شاعری کا مرکزی موضوع رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبّت، آپؐ کی سیرت، اخلاق اوراُمّت کے لیےآپؐ کی محبت تھی۔

ان کی سب سے مشہور تصنیف، ’’الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ‘‘ ہے، جو عام طور پر قصیدۂ بُردہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ قصیدہ صرف عربی شاعری کا شاہ کار نہیں، صدیوں سے اسلامی دُنیا کی روحانی روایت کا حصّہ چلا آ رہا ہے۔

قصیدۂ بُردہ شریف کی مقبولیت کا راز

قصیدۂ بُردہ شریف کی مقبولیت صرف اس کے شعری جمال و خیال کی بدولت نہیں، بلکہ اس کےاخلاص، عقیدت اورسیرتِ نبوی ﷺ کے جامع بیان میں پوشیدہ ہے۔ امام بوصیریؒ نے اس میں رسول اللہ ﷺ کے نسب، ولادت، معجزات، اخلاق، شفاعت اور اُمّت کےساتھ آپؐ کی محبت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔

قصیدے کا مطلع ملاحظہ فرمائیں۔ ؎ أمِن تذکُّرِ جيرانٍ بذي سلمِ… مزجتَ دمعاً جرَی من مُقلۃٍ بدمِ (کیا اُن ہم سایوں کی یاد میں جو ذی سلم کے مقام پر رہتے ہیں، تُونے اپنی آنکھ سے بہنے والے آنسوؤں کو خون میں ملایا ہے؟) محمدٌ سيدُ الکونينِ والثقلينِ…والفريقينِ من عُربٍ ومن عجمِ (محمد ﷺ دونوں جہانوں کے سردار، جِن و انس کے پیشوا اور عرب و عجم سب کے آقا ہیں) یہ شعر آج بھی دُنیا بَھر کی نعتیہ محافل میں عقیدت و محبّت سے پڑھا جاتا ہے۔

چادرِ مبارک کا خواب: روایت اور احتیاط

قصیدۂ بُردہ شریف سے ایک مشہور روایت منسلک ہے کہ امام بوصیریؒ شدید بیماری (بعض روایات میں فالج) میں مبتلا تھے۔ انہوں نے یہ قصیدہ لکھا اور پھر خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔

روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اُن پر اپنی چادر (بُردہ) ڈال دی، جس کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے۔ یہ واقعہ صدیوں سے عوامی اور صوفیانہ روایت میں بڑی عقیدت سے بیان کیا جاتا ہے، تاہم اس کی تاریخی سند قطعی نہیں۔

اسی لیے علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے ’’مشہور روایت‘‘ کے طور پر ذکر کیا جائے، نہ کہ ایک ثابت شدہ تاریخی واقعے کے طور پر۔ لیکن اس روایت سے قطعِ نظر، ایک حقیقت غیر متنازع ہے کہ قصیدۂ بُردہ نے اسلامی دُنیا میں جو مقام حاصل کیا، وہ کسی اور نعتیہ قصیدے کو نصیب نہیں ہوا۔

ایک قصیدہ، بے شمار زبانیں

قصیدۂ بردہ شریف کی شرحیں عربی، فارسی، تُرکی، اُردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں لکھی گئیں اور اس کے سیکڑوں مخطوطات آج بھی دُنیاکی بڑی لائبریریز میں محفوظ ہیں۔

مصر، شام، مراکش، تُرکی، برِاعظم افریقا اورجنوب مشرقی ایشیا تک شاید ہی کوئی خطّہ ہو، جہاں یہ نہ پڑھاجاتاہو۔ قصیدہ بردۂ شریف کی یہ عالم گیریت اس بات کا ثبوت ہےکہ محبتِ رسول ﷺ زبانوں اور سرحدوں کی محتاج نہیں۔

قاضی عیاضؒ اور حقوقِ مصطفیٰ ﷺ

عشقِ رسولؐ کی اسی فضا میں قاضی عیاضؒ (476ھ-544ھ) کی شہرۂ آفاق کتاب، ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘ بھی اسلامی دُنیا میں غیرمعمولی مقبول ہوئی۔ گرچہ یہ کتاب نعتیہ شاعری پر مشتمل نہیں، لیکن اس میں رسول اللہ ﷺ کے حقوق، فضائل اور ادب کو علمی بنیادوں پر بیان کیا گیا ہے۔ صدیوں تک مدارس، خانقاہوں اور علمی حلقوں میں اس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا رہا اور اس نے نعت گو شعراء کے فکری ذوق پر بھی گہرا اثر ڈالا۔

نعت کی نئی جہت

اگرحضرت حسّان بن ثابتؓ نےنعت کو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آواز عطا کی اور اُموی وعباسی ادوار نے اسے ادبی وقار بخشا، تو امام بوصیریؒ نے اسے پوری اُمّت کی مشترکہ روحانی میراث بنادیا۔ یہی وجہ ہے، آج بھی جب دُنیا کے مختلف ممالک میں میلاد النبی ﷺ یا نعتیہ محافل منعقد ہوتی ہیں، تو قصیدۂ بُردہ شریف کی صدائیں عرب وعجم، افریقا، ایشیا اور یورپ کے مسلمانوں کو محبتِ رسولؐ کے رشتے میں جوڑ دیتی ہیں۔

اس دَور کی نمایاں خدمات

٭امام بوصیریؒ نےنعت کوعالمی سطح پرمقبول ترین ادبی روایت عطا کی۔٭ قصیدۂ بُردہ اسلامی دُنیا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے نعتیہ قصائد میں شامل ہوا۔٭ نعت کی شرح، تدریس اور ترجمے کی ایک مستقل علمی روایت وجود میں آئی۔٭ قاضی عیاضؒ اور دیگر علماء نے ادبِ رسول ﷺ کو علمی اور فقہی بنیادیں فراہم کیں۔٭عربی نعت نے پہلی مرتبہ پوری اُمّت کی مشترکہ روحانی زبان کی صُورت اختیار کی۔

اُندلس: نعت تہذیب، جمالیات اور علم کا استعارہ بنی

آٹھویں صدی عیسوی میں جب اسلامی تہذیب آبنائے جبرالٹر عبور کرکے اُندلس پہنچی، تو اس نے صرف ایک نئی سلطنت کی بنیاد نہیں رکھی، ایک ایسی تہذیب کو بھی جنم دیا، جس کی روشنی نے صدیوں تک یورپ کو منوّر رکھا اور قرطبہ، غرناطہ، اشبیلیہ، طلیطلہ اور مالقہ جیسے شہر علم، فن، طب، فلسفے، ریاضی اور ادب کے عالمی مراکز بن گئے۔

اسی تہذیبی فضا میں نعت نے بھی ایک نیا رنگ اختیار کیا۔ اگر مشرق میں نعت کا تعلق زیادہ تر خانقاہوں، مدارس اورعلمی حلقوں سےتھا، تواُندلس میں اس کے ساتھ شہری تہذیب، علمی مجالس اور ادبی ذوق بھی شامل ہوگیا۔ یہاں رسول اللہ ﷺ سے محبّت صرف شاعری میں نہیں بلکہ روزمرّہ تہذیب، تعلیم اور علمی تصانیف میں بھی نمایاں تھی۔

قرطبہ: علم و محبّت کا شہر

قرطبہ کی جامع مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں تھی، علم و ادب کا ایک عظیم مرکز بھی تھی۔ یہاں محدثین، مفسّرین، فقہاء اورادباء کی مجالس منعقد ہوتی رہتیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت، شمائل اور فضائل پر گفتگو علمی روایات کا حصّہ تھی اور یہی ماحول نعتیہ ادب کی آب یاری کرتا تھا۔

اُندلس کےعلماء کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ اُنہوں نےمحبتِ رسول ﷺ کو محض جذباتی کیفیت نہیں رہنے دیا، اُسے علم، اخلاق اور تہذیب کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے، اُندلس میں نعت کا اسلوب شائستہ، متوازن اور علمی رنگ لیے نظر آتا ہے۔

قاضی عیاضؒ: ادبِ رسول ﷺ کی علمی بنیاد

اُندلس کا ذکر قاضی عیاضؒ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ گرچہ اُن کی شُہرت ایک محدّث، فقیہ اور قاضی کی حیثیت سے ہے، لیکن اُن کی شہرۂ آفاق کتاب، ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘ نے محبتِ رسول ﷺ کو ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کی۔

یہ کتاب صرف سیرت کا بیان نہیں، اس میں رسول اللہ ﷺ کے حقوق، آپؐ کے معجزات، خصائص، اخلاق، اسمائے مبارکہ اور اُمّت پر آپؐ کے حقوق کو نہایت تحقیق سےجمع کیا گیا ہے۔ صدیوں تک مغربِ اسلامی (اندلس اور مراکش) سے لےکر برعظیم تک اس کتاب کا درس دیا جاتا رہا۔ بہت سے نعت گو شعراء نے بھی اسی کتاب سے فکری رہنمائی حاصل کی۔

لسان الدّین ابنِ خطیب اور نعتیہ روایت

اُندلس کے ممتاز ادیب، مؤرخ اور شاعر، لسان الدّین ابنِ خطیب (713-776ھ) نے بھی رسول اللہ ﷺ کی مدح میں عُمدہ قصائد لکھے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عربی زبان کی فصاحت کے ساتھ اُندلسی تہذیب کا جمال بھی جھلکتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں؎ لله مولدُہ الذي بأنوارہ… انشقَّ ليلُ الضلالِ وانجابَ الظلام ُ(رسول اللہ ﷺ کی ولادت ایسی نورانی صُبح تھی، جس کے انوار نے گُم راہی کی تاریکی کو چیرکر رکھ دیا)گرچہ مختلف مخطوطات میں الفاظ میں معمولی اختلاف ملتا ہے لیکن مفہوم یہی ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کی۔

اُندلس کی محافل اور میلاد کی روایت

اُندلس میں ربیع الاول کے مہینے میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت، شمائل اور فضائل پر علمی مجالس منعقد ہوتی تھیں۔ ان محافل میں قرآنِ کریم کی تلاوت، احادیثِ نبویہ کا بیان، سیرت کے واقعات اور نعتیہ قصائد پڑھے جاتے تھے۔

تاہم، یہ کہنا دُرست نہیں ہوگا کہ پورے اُندلس میں ایک ہی طرز کی محافلِ میلاد یا نعت خوانی کی روایت تھی، کیوں کہ مختلف شہروں اور ادوار میں طریقے مختلف تھے۔ البتہ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ محبتِ رسول ﷺ اُندلس کی مذہبی اور ادبی زندگی کا نمایاں حصّہ تھی۔

اُندلس کی سب سے بڑی خدمت

اُندلس نے نعت کو ایک نئی جمالیاتی حِس عطا کی۔ یہاں مدحِ رسول ﷺ میں زبان کی لطافت، بیان کی نفاست اور تہذیبی وقار نمایاں نظر آتا ہے۔ اگر عرب کی نعت میں صحرائی سادگی تھی، تو اُندلس کی نعت میں لطافت، علم کی گہرائی اور تہذیب کی شائستگی شامل ہوگئی۔ یہی وہ اندازتھا، جس نے بعد میں مراکش، الجزائر، تیونس اور مغربی اسلامی دُنیا کی نعتیہ روایت کو بھی متاثر کیا۔

اُندلس کی نمایاں خدمات

٭نعت کوعلمی وتہذیبی روایت کے ساتھ مضبوط تعلق مِلا۔٭قاضی عیاضؒ کی الشفا نےادبِ رسول ﷺ کی مستندعلمی بنیاد فراہم کی۔٭ لسان الدین ابنِ خطیب اور دیگر اُندلسی شعراء نے عربی نعت کو فنی پختگی عطا کی۔٭سیرت، شمائل اور نعت کو علمی مجالس کا مستقل موضوع بنایا گیا۔٭اُندلس کی ادبی روایت نے مغربی اسلامی دُنیا کے نعتیہ ادب پر گہرے اثرات مرتّب کیے۔

فارسی ادب :نعت عشق سے عرفان تک پہنچی

اگرعربی زبان نے نعت کو بنیاد فراہم کی، تو فارسی نے گہرائی، تصوّف کی لطافت اورفکرکی وُسعت عطاکی۔ چوتھی صدی ہجری سے لے کر دسویں صدی ہجری تک فارسی ادب صرف ایران ہی نہیں بلکہ وسط ایشیا، افغانستان، برِعظیم اور سلطنتِ عثمانیہ تک علم و ادب کی مشترکہ زبان بن چُکا تھا۔ انہی صدیوں میں نعت نے ایک نئی فکری جہت اختیار کی، جہاں مدحِ رسول ﷺ صرف عقیدت کا اظہار نہیں رہی، معرفت، اخلاق اور روحانی تربیت کا سرچشمہ بن گئی۔

سنائی اور عطار: تصوّف کی بنیاد

فارسی نعتیہ روایت کا آغاز صرف سعدی یا رومی سے نہیں ہوتا۔ اُن سے پہلے حکیم سنائی غزنوی (متوفیٰ 525ھ) اورشیخ فرید الدین عطار نیشاپوری (متوفیٰ تقریباً 618ھ) نے اپنی مثنویوں اور قصائد میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو نہایت اعلیٰ اسلوب میں بیان کیا۔

سنائی نے اپنی مشہور تصنیف، ’’حدیقۃ الحقیقہ‘‘ میں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے ہوکر گزرتا ہے، جب کہ عطارکی تحریروں میں عشقِ رسول ﷺ روحانی سفرکی بنیاد کےطور پر سامنے آتا ہے۔ یہی فکر آگے چل کر مولانا رومی کے ہاں اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ :عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے آفاقی پیغام بر

مولانا جلال الدین رومیؒ (604-672ھ) کو دُنیا ایک عظیم صوفی شاعر کے طور پرجانتی ہے، مگر ان کی مثنوی اور دیوانِ شمس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی پوری فکری عمارت محبتِ رسول ﷺ کی بنیاد پر استوار ہے۔ رومی لکھتے ہیں۔ ؎ مصطفیٰ را وعدہ کرد الطافِ حق… گر بمیری تو، نمیرد این سبق(مفہوم :’’اللہ تعالیٰ نے مصطفیٰﷺ سے وعدہ فرمایا، اگر آپ دُنیا سے پردہ بھی فرما جائیں، تب بھی آپ کی لائی ہوئی ہدایت کبھی ختم نہیں ہوگی۔‘‘ رومی کے نزدیک رسول اللہ ﷺ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، انسانیت کے روحانی معلّم ہیں، جن کی تعلیم ہر دَور میں دِلوں کو زندہ کرتی ہے۔

شیخ سعدیؒ: اخلاق اور محبت کا امتزاج

شیخ سعدی شیرازیؒ (متوفیٰ 691ھ) نے بوستان، گلستان اور اپنے قصائد میں بارہا رسول اللہ ﷺ کی مدح بیان کی۔ ان سے منسوب مشہور نعتیہ اشعار میں یہ شعر پوری دنیا میں زبان زدِ عام ہے۔ ؎ بلغ العُلیٰ بکمالہ… کشف الدجیٰ بجمالہ… حسنت جميع خصالہ… صلوعلیہ وآلہ۔ گرچہ اس کلام کی نسبت سعدیؒ سے مشہور ہے، لیکن جدید محقّقین اس نسبت پر اختلاف بھی کرتے ہیں۔

اس لیے علمی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اسے ’’منسوب‘‘ کہا جائے، نہ کہ قطعی طور پر سعدیؒ کا کلام قرار دیا جائے۔ البتہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سعدیؒ کے مستند دیوان میں رسول اللہ ﷺ کی مدح پر متعدد قصائد موجود ہیں، جن میں آپؐ کی رحمت، اخلاق اور شفاعت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

جامیؒ: نعتیہ ادب کا نقطۂ کمال

پندرھویں صدی عیسوی کےعظیم شاعر، نورالدّین عبدالرحمٰن جامیؒ (898-817ھ) نے فارسی نعت کو ایک نئی رفعت عطا کی۔ ان کی مشہور کتاب، ’’نفحات الانس‘‘ ہو یا ’’یوسف و زلیخا‘‘ ہر جگہ رسول اللہ ﷺ کی محبّت جھلکتی ہے۔ جامیؒ کے نزدیک تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا کمال رسول اللہ ﷺ کی ذات پر آکر مکمل ہوتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں۔ ؎ اوّل و آخر، پدید و نہاں… ختمِ رسل، فخرِ انس و جاں (مفہوم: آپ ﷺ ہی ابتدا وانتہا کی عظمت ہیں، آپ ہی خاتم النبّیین اور انسانیت کی عزت وافتخار ہیں) جامیؒ کی نعت میں تصوّف اور شریعت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا گہرا اثر بعد میں برِعظیم کے نعتیہ ادب پر بھی پڑا۔

فارسی نعت کی انفرادیت

فارسی نعت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہےکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی مدح کو صرف جذباتی اظہار تک محدود نہیں رکھا، اسے اخلاق، معرفت، تزکیۂ نفس اور عشقِ الٰہی سے جوڑ دیا۔

فارسی ادب کی نمایاں خدمات

٭نعت کو تصوّف، اخلاق اور روحانی تربیت سے جوڑا۔٭سنائی، عطار، رومی، سعدی اور جامیؒ نے نعت کو فکری گہرائی عطا کی۔٭فارسی نعت نے وسط ایشیا، ایران، افغانستان، برِعظیم اور عثمانی سلطنت پر گہرے اثرات مرتّب کیے۔٭عشقِ رسول ﷺ کو معرفتِ الٰہی کے سفر کی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔٭مستقبل کے اردو نعتیہ ادب کے لیے فکری اور فنی بنیاد فراہم کی۔

برِعظیم: جہاں نعت عوام کی زبان بن گئی

اگر عرب نے نعت کو جنم دیا، فارس نے اِسے عرفان بخشا اور مصر و شام نے عالمِ اسلام کی مشترکہ آواز بنایا، تو برِعظیم پاک و ہند نےاسے عوام کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ یہاں نعت صرف علمی حلقوں یا صوفی خانقاہوں تک محدود نہ رہی، بلکہ گھروں، مساجد، مکاتب، میلاد کی محافل، مشاعروں اور عام مسلمانوں کی روزمرّہ زندگی کا حصّہ بن گئی۔

برِعظیم کی نعتیہ روایت کی جڑیں اُن صوفیائے کرام کی دعوت میں ملتی ہیں، جنہوں نے اسلام کے ساتھ محبّتِ رسول ﷺ کا پیغام بھی عام کیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت بابا فریدؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒ اور ان کے حلقۂ ارادت سے وابستہ اہلِ علم نے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو عوامی مزاج کا حصّہ بنا دیا۔

امیر خسروؒ: روایت کی بنیاد

حضرت نظام الدین اولیاؒ کے محبوب مرید، امیر خسرو دہلویؒ (651-725ھ) فارسی کے عظیم شاعر تھے۔ اُن کے دیوان میں رسول اللہ ﷺ کی مدح پر متعدد قصائد اور مناقب ملتے ہیں۔ خسروؒ کی خصوصیت یہ ہے کہ اُنہوں نے فارسی کی کلاسیکی روایت کو ہندوستانی ذوق سے ہم آہنگ کیا اور محبتِ رسول ﷺ کو عام فہم اسلوب میں پیش کیا۔

ان کا مشہور شعر ملاحظہ کیجیے ؎ ہر قبیلہ را زبانے دیگر است… عاشقاں را جز زبانِ دل نیست۔ گرچہ یہ شعرعمومی صوفیانہ مفہوم رکھتا ہے، مگر خسروؒ کے مجموعی کلام میں رسول اللہ ﷺ کی محبّت دِل کی اصل زبان بن کر سامنے آتی ہے۔

اُردو نعت کا ارتقاء

سترھویں اور اٹھارویں صدی میں جب اُردو ایک مکمل ادبی زبان کے طور پر اُبھرنے لگی، تو نعت بھی اس کا مستقل حصّہ بنتی گئی۔ حیدرآباد دکن، دہلی اور لکھنؤ کے ادبی مراکز نے اُردو نعت کو فروغ دیا۔ اس دَور میں نعت کا انداز نسبتاً سادہ تھا، لیکن اس میں خلوص، محبّت اور سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی نمایاں تھی۔ رفتہ رفتہ قصیدہ، مثنوی، غزل اور مسدّس سمیت مختلف شعری اصناف میں بھی نعت کہی جانے لگی۔

محسن کاکوروی: ایک منفرد اسلوب

انیسویں صدی میں محسن کاکورویؒ نے اُردو نعت کو ایک نئی ادبی رفعت عطا کی۔ ان کی مشہور نعت، ’’مدیحِ خیرالمرسلین‘‘ اُردو ادب کا کلاسیکی سرمایہ سمجھی جاتی ہے، جب کہ محسن کاکوروی کا یہ شعر محبّتِ رسول ﷺ کی علامت بن چُکا ہے ؎ سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل… برسا کعبے پہ تو زم زم کا کنواں یاد آیا۔ محسن کا کوروی نے ہندوستانی تہذیب کی علامات کو اسلامی عقیدت کے ساتھ اس مہارت سے جوڑا کہ اُردو نعت میں ایک منفرد جمالیاتی رنگ پیدا ہوگیا۔

امام احمد رضا خان بریلویؒ: عقیدت کی زبان

امام احمد رضا خان بریلویؒ (1272-1340ھ) کا شمار اُردو کے بڑے نعت گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کا مجموعۂ نعت، ’’حدائقِ بخشش‘‘ اُردو نعت کا ایک اہم سرمایہ ہے۔ ان کی نعت میں عشق، ادب اور عقیدہ ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

ان کا مشہور شعر ہے ؎ وہ سوئےلالہ زار پھرتے ہیں… تیرے دِن اے بہار پِھرتے ہیں۔ ان کے ہاں رسول اللہ ﷺ کی محبّت صرف شعری موضوع نہیں بلکہ پوری فکری زندگی کا محور ہے۔

علامہ اقبالؒ: نعت اور فکری بےداری

اگر اُردو نعت کو فکری اور فلسفیانہ وسعت عطا کرنے والے کسی ایک شاعر کا نام لیا جائے، تو وہ شاعرِ مشرق ڈاکٹر علاّمہ محمد اقبالؒ ہیں۔ اقبالؒ نے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کو صرف محبّت کا مرکز نہیں، امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد قرار دیا۔ اُن کا یہ شعر محبّتِ رسول اللہﷺ کی بھرپور غمّازی کرتا ہے۔ ؎ کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں… یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔ 

گرچہ یہ شعر عوام میں بے حد مقبول ہے، تاہم اس کی نسبت سے متعلق اہلِ تحقیق کی مختلف آراء ہیں۔ اس لیے علمی تحریر میں بہتر ہے کہ اقبالؒ کے مستند کلام، خصوصاً ’’بالِ جبریل‘‘، ’’ضربِ کلیم‘‘ اور ’ارمغانِ حجاز‘‘ ہی سےحوالہ دیا جائے۔ اقبالؒ کی نعتیہ فکر کا خلاصہ اُن کے اس تصوّر میں ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبّت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی اور اخلاقی قوّت ہے، جو قوموں کو عروج عطا کرتی ہے۔

عصرِ حاضر کی اُردو نعت

بیسویں اور اکیسویں صدی میں اُردو نعت نے نئی جہتیں اختیار کیں۔ حفیظ تائب، احمد ندیم قاسمی، صہبا اختر، مظفّر وارثی، ریاض مجید اور متعدد معاصر شعراء نے نعت کو جدید اسلوب اور نئی فکری وسعت عطا کی، مگر اس کی بنیادی ادبِ مصطفیٰ ﷺ ہی رہی۔

آج پاکستان اور بھارت میں نعتیہ مشاعرے، تحقیقی جرائد، جامعات میں ایم فِل اور پی ایچ ڈی کے مقالے اور نعتیہ ادارے اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یوں برِعظیم آج بھی نعت کے سب سے زرخیز مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

برِعظیم کی نمایاں خدمات

٭نعت کوعوامی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت ملی۔٭اُردو زبان میں نعت ایک مستقل اور مضبوط ادبی صنف بن گئی۔٭صوفیائے کرام نے محبّتِ رسول ﷺ کو عوامی ثقافت کا حصّہ بنایا۔٭محسن کاکوروی، امام احمد رضا خانؒ اور علامہ اقبالؒ نے اُردو نعت کو نئے فکری اور فنی آفاق عطا کیے۔٭برِعظیم نے نعت خوانی، میلاد، مشاعروں اورتحقیقی کام کے ذریعے اس روایت کو مسلسل زندہ رکھا۔

اکیسویں صدی: نعت نے ڈیجیٹل دُنیا میں نئی منازل طے کیں

پندرہ صدیوں پر محیط نعت کا سفر آج ایک ایسے عہد میں داخل ہوچُکا ہے، جس کا تصوّر شاید ماضی کے کسی شاعر نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ کبھی نعت مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن میں پڑھی جاتی تھی، پھر خانقاہوں، مدارس، درباروں اور ادبی محافل تک پہنچی اور آج یہی نعت انٹرنیٹ، سیٹلائٹ نشریات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دُنیا کے تقریباً ہر کونے میں سُنی اور پڑھی جا رہی ہے۔ اکیسویں صدی نے نعت کو صرف ایک نئی رفتار نہیں دی بلکہ اس کی رسائی کو بھی عالمی بنا دیا ہے۔

ڈیجیٹل انقلاب اور نعت

انٹرنیٹ نے دُنیا کو ایک ’’عالمی گاؤں‘‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ یوٹیوب سمیت دیگراسٹریمنگ پلیٹ فارمز، پوڈکاسٹس، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل لائبریریز نے نعتیہ ادب اور نعت خوانی کو نئی زندگی بخشی ہے۔ آج ایک نعت خواں کی آواز چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح کلاسیکی نعتیہ دیوان، قدیم مخطوطات، تحقیقی مقالات اور نعتیہ مجموعے بھی ڈیجیٹل صُورت میں دست یاب ہیں، جن سے طلبہ، محقّقین اور عام قارئین یک ساں استفادہ کر رہے ہیں۔

نعت کی عالمی زبان

گرچہ عربی، فارسی اور اُردو نعت کی بنیادی زبانیں رہی ہیں لیکن اب نعت کا دائرہ ان زبانوں سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ آج انگریزی، فرانسیسی، تُرکی، سواہلی، ملیشیائی، انڈونیشی، ہاؤسا اور دیگر زبانوں میں بھی رسول اللہ ﷺ کی مدح میں نظمیں اور نعتیں لکھی جا رہی ہیں۔ یورپ، امریکا، افریقا اورآسٹریلیا میں آباد مسلم کمیونٹیز نے بھی اپنی مقامی زبانوں میں نعتیہ ادب تخلیق کیا ہے، جس سے نئی نسل کو اپنی زبان میں سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کا موقع ملا۔

تحقیق کا نیا دَور

ڈیجیٹل عہد نےنعت کےتحقیقی مطالعےکو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔ دُنیا کی مختلف جامعات میں نعتیہ ادب پر ایم فِل اور پی ایچ ڈی سطح کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ قدیم عربی، فارسی اور اُردو مخطوطات کو ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے، جس سے ایسے نادر متون بھی محفوظ ہورہے ہیں، جوکبھی صرف چند کُتب خانوں تک محدود تھے۔ پاکستان، ترکیے، مصر، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں نعتیہ ادب پربین الاقوامی کانفرنسز، سیمینارز اور علمی جرائد بھی اس روایت کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

ایک نئی ذمّے داری

جدید ذرائع ابلاغ نے جہاں نعت کی اشاعت کو آسان بنایا ہے، وہیں ایک اہم ذمّےداری بھی عائد کی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دَور میں بعض اوقات غیر مستند اشعار، غلط نسبتیں اور ضعیف روایات تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اس لیے نعت لکھنے والوں، نعت خوانوں اور سامعین پر لازم ہے کہ وہ ہر روایت، ہر شعر اور ہر تاریخی واقعے کی تحقیق کرکے مستند مصادر سے رجوع کریں۔ یاد رہے، رسول اللہ ﷺ کی مدح و ثنا محبّت کا اظہار ضرور ہے، مگر اس محبّت کی بنیاد علم، دیانت اور ادب پر ہونی چاہیے۔

رُوح وہی، ذرائع نئے

اگرماضی میں حضرت حسّان بن ثابتؓ مسجدِ نبویؐ میں کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی مدح بیان کرتے تھے، اگر امام بوصیریؒ نے مصر میں قصیدۂ بُردہ شریف لکھا، اگر رومیؒ نے قونیہ میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو معرفت کی زبان دی، اگر اقبالؒ نے برِعظیم میں اُمّت کو حضور ﷺ کی سیرت سے وابستگی کا پیغام دیا، تو آج کا دَور اسی روایت کو ڈیجیٹل دُنیا میں آگے بڑھا رہا ہے۔

ذرائع بدل گئے، زبانیں بدل گئیں، لیکن ایک چیز نہیں بدلی اور وہ ہے، رسول اللہ ﷺ سے محبّت و عقیدت۔ پندرہ سو برس گزرنے کے باوجود آج بھی دُنیا کے ہر خطّے میں کروڑوں زبانیں اُسی عقیدت کے ساتھ درود و سلام پڑھتی ہیں، جس عقیدت کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں پہلی بار یہ صدائیں بلند ہوئی تھیں۔

المختصر، نعت کاپندرہ سوسالہ سفردراصل اُمّتِ مسلمہ کے عشق، عقیدت اور تہذیبی ارتقاء کی داستان ہے۔ یہ وہ صنفِ سُخن ہے، جس کی بنیاد خود قرآنِ مجید نے رکھی، جسے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں حضرت حسّان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن زہیرؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور دیگر صحابۂ کرامؓ نے جِلابخشی، جسے عرب، عجم، اُندلس، مصر، شام، ایران، تُرکیے اور برِعظیم کے اہلِ قلم نے اپنے اپنے عہد کی زبان عطا کی اور جسے آج ڈیجیٹل دُنیا نے عالمی وسعت بخش دی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مدح کا یہ چراغ کبھی مدھم ہوا اور نہ ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی انسان کی ایجاد نہیں، بلکہ اُس محبّت کا تسلسل ہے، جس کی طرف خُود ربِّ کائنات نے اشارہ فرمایا۔’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘(سورۃ الاحزاب 56:)

شاید یہی آیت نعت کے پندرہ سو سالہ سفر کا سب سے جامع خلاصہ بھی ہے۔ نعت دراصل اسی قرآنی حکم کی ادبی، تہذیبی اور روحانی تعبیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک دُنیا میں ایک بھی عاشقِ رسول ﷺ موجود ہے، مدحِ مصطفیٰ ﷺ کی یہ صدا زندہ رہے گی اور آنے والی صدیاں بھی اس نورانی سفرکی نئی منازل طے اور رقم کرتی رہیں گی۔