• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی پنجاب: سیکریٹریٹ ناکام یا اختیار کا بحران؟

جنوبی پنجاب کے عوام کو برسوں سے ایک ہی خواب دکھایا جاتا رہا ہے۔ لاہور کی دوری ختم ہوگی، اختیار ان کے قریب آئے گا، فائلیں لاہور کے بجائے ملتان اور بہاولپور میں نمٹیں گی اور اس خطے کی محرومیاں کم ہوں گی۔کبھی اس خواب کا نام ’’جنوبی پنجاب‘‘ صوبہ رکھا گیا، کبھی اسے ’’سرائیکی وسیب‘‘ کے حقوق کا عنوان ملا اور کبھی ’’صوبہ نہیں تو سیکریٹریٹ سہی‘‘ کے فارمولے کے تحت جنوبی پنجاب سول سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا۔مگر آج چھ برس بعد سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عوام کے مسائل کم ہوئےیا ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ وجود میں آیا جس نے لاہور جانے کے بجائے فائلوں کے سفر میں ملتان اور بہاولپور کے دو نئے پڑاؤ شامل کر دیئے؟ یہ سوال اسلئے بھی اہم ہے کہ جولائی 2026ء میں پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی ڈپٹی سیکریٹریز کی نو اسامیاں ختم کردی ہیں۔

ختم ہونے والی اسامیوں میں لوکل گورنمنٹ، فنانس، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور قانون کے شعبے شامل ہیں۔ یہ اسامیاں مالی سال 2026-27 میں فوری طور پر ختم کی گئی ہیں۔یہ محض چند سرکاری اسامیوں کا خاتمہ نہیں، اسے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے مستقبل کے بارے میں ایک بڑے سوال کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔2020ءمیں تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی پنجاب سول سیکریٹریٹ قائم کیا۔ ملتان اور بہاولپور میں دفاتر بنائے گئے اور ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور ڈویژنوں کو اس انتظامی بندوبست کا حصہ بنایا گیا۔ مقصد واضح تھاکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنے مسائل کیلئے لاہور کے چکر نہ لگانے پڑیں۔اس مقصد کیلئے ابتدا ہی میں385نئی اسامیوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سمیت مختلف انتظامی عہدے شامل تھے۔ستمبر 2020ءمیں جنوبی پنجاب کیلئے 15مکمل انتظامی محکمے بنائے گئے اور مزید درجنوں اسامیاں تخلیق کی گئیں۔ حکومت اسے جنوبی پنجاب کو انتظامی خودمختاری دینے کی طرف بڑا قدم قرار دے رہی تھی۔

یوں محسوس ہوتا تھا کہ لاہور کی مرکزیت کا ایک نیا متبادل تیار ہورہا ہے۔مگر اصل سوال عمارتوں کا نہیںتھا۔اصل سوال اختیار کا تھا۔دفتر جنوبی پنجاب میں، اختیار لاہور میں۔جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے تجربے کا سب سے بڑا تضاد یہی تھا۔دفتر ملتان اور بہاولپور میں بن گیا، افسر وہاں بیٹھ گئے، فائلیں وہاں پہنچنے لگیں، مگر فیصلہ سازی کے کئی اہم اختیارات لاہور سے جڑے رہے۔ مارچ2021ء میں پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے 15محکموں کے انتظامی اور مالی اختیارات محدود کردیئے اور ان محکموں کو دوبارہ لاہور کے پنجاب سول سیکریٹریٹ کے ماتحت قرار دیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے پورے تجربے کی روح پر سوال کھڑا کردیا۔اگر جنوبی پنجاب کا سیکریٹری لاہور کے انتظامی سیکریٹری کے ماتحت ہوتو پھر یہ خودمختاری کس چیز کا نام ہے؟کرسی جنوبی پنجاب میں، اختیار لاہور میں۔

جنوبی پنجاب کے عام شہری کیلئے اصل مسئلہ آئینی اصطلاحات یا سرکاری تنظیم نو نہیں، اس کی فائل ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اس کا انتقال، زمین، ملازمت، ترقیاتی منصوبہ، محکمہ صحت، تعلیم، آبپاشی یا بلدیاتی مسئلہ جلد حل ہو۔اسے اس بات سے غرض نہیں کہ دفتر کا نام ’’سیکریٹریٹ‘‘ ہے یا ’’ریجنل آفس‘‘۔اسے بس نتیجہ چاہیے۔اگر پہلے فائل لاہور جاتی تھی اور اب پہلے ملتان یا بہاولپور جائے اور پھر حتمی اختیار کیلئے لاہور کا رخ کرے تو انتظامی فاصلہ کہاں کم ہوا؟۔

رشوت کے حوالے سے بھی عوام میں ایسی شکایات اور تاثر موجود ہے کہ جہاں پہلے ایک سطح پر غیر قانونی ادائیگی کی شکایت ہوتی تھی، اب فائل کے متعدد مراحل کی وجہ سے ’’دو جگہ خرچ‘‘ کا تصور پیدا ہوگیا ہے۔ اس دعوے کو کسی جامع سرکاری سروے سے ثابت کیے بغیر اسے حتمی حقیقت کہنا درست نہیں، لیکن اگر عوامی تاثر ہی یہ بن جائے کہ نیا نظام سہولت کے بجائے اضافی خرچ اور اضافی رابطوں کا ذریعہ ہے تو یہ خود نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔2024 میں پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کیلئے 10 اسپیشل سیکریٹریوں کی اسامیاں بنانے کا فیصلہ کیا۔ جسے جنوبی پنجاب میں اختیارات کی سابقہ Decentralisation کو واپس مرکز کی طرف لے جانے کی کوشش کہا گیا۔اور اب جولائی 2026ءمیں مزید نو ڈپٹی سیکریٹری کی اسامیاں ختم کردی گئیں۔یہاں حکومت کا مؤقف اپنی جگہ ہوسکتا ہے کہ یہ Rightsizing، اخراجات میں کمی یا انتظامی اصلاحات کا حصہ ہے۔لیکن عوام کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ اگر جنوبی پنجاب کو واقعی بااختیار بنانا مقصود تھا تو اختیارات کیساتھ بنائے گئے انتظامی ڈھانچے کو مسلسل سکیڑنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟اور اگر وہ ڈھانچہ غیر مؤثر تھا تو پھر اسے بنانے، اسامیاں پیدا کرنے، دفاتر تعمیر کرنے اور پورا انتظامی نظام کھڑا کرنے کا تجربہ کیوں کیا گیا؟

جنوبی پنجاب سول سیکریٹریٹ کیلئے ملتان میں وسیع عمارت تعمیر کی گئی۔ ملتان کے منصوبے میں تین سیکریٹریٹ کمپلیکس شامل ہیں، جبکہ افسران کیلئے رہائش گاہیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ ضروری ہوسکتا ہے۔لیکن دنیا بھر میں انتظامی اصلاحات کی کامیابی عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ شہری کا کام کتنے دن میں ہوا؟فائل کتنے دفاتر سے گزری؟ فیصلہ کس نے کیا؟اختیار کہاں تھا؟جنوبی پنجاب کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے Decentralisation کو Infrastructure سمجھ لیا، Governance نہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جنوبی پنجاب محض سیاسی نعرہ نہیں۔ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنوں پر مشتمل یہ خطہ کروڑوں انسانوں کا مسکن ہے۔ اتنی بڑی آبادی کیلئے اگر انتظامی نظام مؤثر نہیں تو یہ صرف ایک دفتر کی ناکامی نہیں بلکہ Governance Model کی ناکامی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ’’صوبہ‘‘ اور ’’سیکریٹریٹ‘‘ کی بحث کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔ضروری نہیں کہ سیکریٹریٹ کی ناکامی خود بخود نئے صوبے کو واحد حل ثابت کردے۔

نیا صوبہ بنانا ایک بڑا آئینی، سیاسی، مالی اور انتظامی فیصلہ ہوگا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر موجودہ صوبائی انتظامی ڈھانچہ جنوبی پنجاب کی شکایات دور نہیں کرسکتا تو پھر صوبے کے مطالبے کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر مسترد کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔جنوبی پنجاب کے تجربے نے کم از کم ایک بات ثابت کردی ہےکہ آدھا اختیار کسی خطے کی محرومی ختم نہیں کرسکتا۔اب حکومت کے پاس دو ہی دیانت دار راستے ہیں۔

پہلا:جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو واقعی بااختیار بنایا جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف نئے افسر تعینات کردیئے جائیں۔ اسے واضح انتظامی، مالی اور ترقیاتی اختیارات دیئے جائیں۔ افسران کی تعیناتی اور تبادلے کے اصول واضح ہوں۔ فائلوں کی مکمل Digital Tracking ہو۔ شہری کو معلوم ہو کہ اسکی درخواست کس میز پر ہے اور فیصلہ کتنے دن میں ہونا ہے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ حکومت تسلیم کرے کہ موجودہ انتظامی تجربہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا اور پھر جنوبی پنجاب کیلئے نئے انتظامی یونٹ یا صوبے کے سوال پر سنجیدہ، غیر جماعتی اور آئینی مذاکرات شروع کیے جائیں۔مگر اب مزید ایک عبوری تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔

جنوبی پنجاب کے عوام کو ایک اور دفتر، ایک اور بورڈ، ایک اور سیکریٹری یا ایک اور نوٹیفکیشن نہیں چاہیے۔انہیں اختیار چاہیے۔اب سوال عمارت کا نہیں، اختیار کا ہے۔اور اگر حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ سیکریٹریٹ بہترین حل ہے تو اسے پوری طاقت، واضح اختیارات اور حقیقی خودمختاری کے ساتھ چلانا ہوگا۔کیونکہ ایک خطے کے لوگوں کو ہمیشہ ’’انتظار‘‘ میں نہیں رکھا جاسکتا۔کبھی صوبے کا وعدہ،پھر سیکریٹریٹ کا وعدہ۔پھر اختیارات کا وعدہ۔پھر اختیارات میں کمی۔پھر نئی اسامیاں۔پھر اسامیوں کا خاتمہ۔یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔سرائیکی وسیب کو تجربہ گاہ نہیں، پائیدار انتظامی حل چاہیے۔اور اگر ایک سیکریٹریٹ اس خطے کے مسائل حل نہیں کرسکا تو اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی قیادت، بیوروکریسی اور پارلیمنٹ مل کر یہ فیصلہ کریں کہ آگے کا راستہ کیا ہے۔جنوبی پنجاب کو ایک اور سیکریٹریٹ چاہیے یا اپنا اختیار؟یہ سوال اب کسی ایک جماعت کا نہیں رہا۔یہ کروڑوں لوگوں کا سوال ہے۔

تازہ ترین