• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں خواتین کا حصہ تقریباً نصف بنتا ہے۔ یہ نصف آبادی محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ پاکستان کی سماجی، معاشی اور قومی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ ایک عورت ماں بھی ہے، استاد بھی، ڈاکٹر بھی، وکیل بھی، کسان بھی، مزدور بھی اور کاروباری شخصیت بھی۔ وہ نئی نسل کی تربیت کرتی ہے، معیشت کا پہیہ چلاتی ہے اور معاشرتی اقدار کو منتقل کرتی ہے۔ اگر یہی نصف آبادی خود کو غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کرے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ معاشی، سیاسی اور سماجی حالات نے عورت کو پہلے سے زیادہ کمزور اور غیر محفوظ بنا دیا ہے؟یہ سوال کسی جذباتی بحث کا نہیں بلکہ زمینی حقائق کا تقاضا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی غیر یقینی، کمزور ادارہ جاتی نظام، انصاف میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی نے ہر پاکستانی کو متاثر کیا ہے، مگر ان بحرانوں کا سب سے گہرا اثر خواتین پر پڑا ہے۔ کیونکہ عورت پہلے ہی ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہی ہے جہاں اسے اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ جب ریاستی اور سماجی ڈھانچے دباؤ کا شکار ہوں تو سب سے پہلے کمزور طبقے متاثر ہوتے ہیں، اور خواتین انہی میں سرفہرست ہیں۔

پاکستان میں عورت کو درپیش مسائل صرف چند انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، گھریلو تشدد، کم عمری کی شادیاں، ونی، وٹہ سٹہ، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، جائیداد میں حق سے محرومی، کام کی جگہ پر امتیازی سلوک، آن لائن ہراسانی اور نفسیاتی تشدد جیسے مسائل آج بھی ہزاروں خواتین کی زندگی کی تلخ حقیقت ہیں۔ دیہی علاقوں میں بے شمار بچیاں غربت، سماجی پابندیوں یا سہولیات کے فقدان کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں، جبکہ بہت سی بچیوں کو کم عمری میں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے، جس سے ان کی تعلیم، صحت اور مستقبل تینوں متاثر ہوتے ہیں۔ یہی بچیاں بعد ازاں غربت، انحصار اور تشدد کے ایک ایسے چکر میں داخل ہو جاتی ہیں جہاں سے نکلنا ان کے لیے انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

معاشی بحران نے ان مشکلات میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ جب گھر کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اکثر سب سے پہلے عورت اپنی ضروریات قربان کرتی ہے۔ وہ بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک کے لیے اپنی خواہشات ترک کر دیتی ہے۔ اگر وہ ملازمت کرتی ہے تو اسے محفوظ سفر، باوقار ماحول، مساوی مواقع اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، جبکہ گھریلو خواتین پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے نفسیاتی اثرات بھی کم نہیں ہوتے۔ یہی معاشی دباؤ اکثر گھریلو تنازعات اور تشدد کو بھی جنم دیتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان خواتین اور بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔خطرات کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ پہلے عورت صرف گھر، گلی یا دفتر میں عدم تحفظ محسوس کرتی تھی، آج ڈیجیٹل دنیا میں آن لائن ہراسانی، جعلی تصاویر، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور کردار کشی نے خواتین کیلئے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے جہاں ترقی کے دروازے کھولے ہیں، وہیں مجرموں کو بھی نئے ہتھیار فراہم کیے ہیں، جبکہ متاثرہ خواتین اب بھی انصاف کے حصول کیلئے طویل، پیچیدہ اور تھکا دینے والے قانونی مراحل سے گزرنے پر مجبور ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ کیلئے قوانین موجود ہیں، مگر اصل مسئلہ ان پر مؤثر اور بلاامتیاز عملدرآمد کا ہے۔ جب متاثرہ خاتون کو شکایت درج کرانے سے پہلے معاشرتی بدنامی، خاندانی دباؤ، پولیس کے رویے، عدالتی تاخیر یا بااثر افراد کے اثر و رسوخ کا خوف لاحق ہو تو قانون کی موجودگی بھی اسے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پاتی۔ انصاف میں تاخیر بعض اوقات انصاف سے محرومی کے مترادف بن جاتی ہے، اور یہی احساس خواتین کے اعتماد کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔اس تمام تاریکی کے باوجود پاکستانی عورت نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ آج بھی عدالتوں میں انصاف کی جنگ لڑ رہی ہے، اسپتالوں میں زندگی بچا رہی ہے، تعلیمی اداروں میں نئی نسل کی تربیت کر رہی ہے، کھیتوں میں محنت کر رہی ہے، کاروبار چلا رہی ہے، سائنسی تحقیق کر رہی ہے اور ریاستی اداروں میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ مسئلہ عورت کی صلاحیت کا نہیں بلکہ اس ماحول کا ہے جو اسے فراہم کیا جا رہا ہے۔

اگر پاکستان واقعی ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست بننا چاہتا ہے تو خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کو صرف سماجی نعرہ نہیں بلکہ قومی پالیسی کا بنیادی ستون بنانا ہوگا۔ معیاری تعلیم، معاشی خودمختاری، فوری اور منصفانہ انصاف، مؤثر قانون نافذ کرنے والے ادارے، محفوظ عوامی مقامات، باوقار ورک پلیس، سائبر تحفظ اور صنفی مساوات پر مبنی پالیسیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ کیونکہ جب ایک عورت محفوظ ہوتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان، ایک نسل اور بالآخر پوری قوم مضبوط ہوتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال عورت سے پوچھنا بند کریں کہ وہ کتنی مضبوط ہے، اور یہ سوال ریاست، معاشرے اور خود اپنے ضمیر سے کریں کہ کیا ہم نے اسے مضبوط رہنے کیلئے وہ ماحول فراہم کیا ہے جسکی وہ حق دار ہے؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کی ترقی کا سفر بھی ابھی ادھورا ہے۔

تازہ ترین