سیاسی وعوامی حلقوں میں سپریم جوڈیشری کے اس فیصلے کی بھرپور تحسین کی جا رہی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہمارے سسٹم میں اس نوع کے فیصلے بالعموم کسی نہ کسی ڈیل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ چیف منسٹر کے پی اور دیگر ذمہ داران کی ہونیوالی ملاقاتوں کے ریفرنسز بھی دیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کے پی چیف منسٹر احتجاجی تحریک کے حوالے سے جو لچک یا ڈھیل دکھا رہے ہیں، جیسے کہ انہوں نے احتجاجی تحریک میں شتابی دکھانے کی بجائے اسے 27 ستمبر تک التوا میں ڈال دیا ہے، تو یہ بھی اندر خانے ہونے والی ایک نوع کی انڈراسٹینڈنگ کا نتیجہ ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے اندر شدت پسند اپروچ کے حاملین دبے لفظوں میں اس پر تنقید کرتے بھی سنائی دیئے ہیں۔ ان لوگوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ کسی بھی ریاست میںبغیر پلاننگ اندھا دھند احتجاجی تحریکیں بارہا بہتری کی بجائے بدتری کا باعث بن جاتی ہیں۔ حکومتی ذمہ داری پر فائز کسی بھی شخصیت کو معاملات کی حساسیت کا کچھ نہ کچھ احساس کرتے ہوئے ہی آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ ایسی باتوں پر ناک بھوں چڑھانا یا کمپرومائزڈ کا طعنہ دینا زمینی حقائق کا منہ چڑانے والی بات ہے۔ اسی مس انڈراسٹینڈنگ کا شکار ماقبل سابق چیف منسٹر علی امین گنڈاپوربھی ہو چکے ہیں،حالانکہ وہ آفریدی سے کہیں زیادہ حساس ایشوز کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے، بلکہ ان کی کارکردگی بھی نمایاں طور بہتر تھی۔ ہمارے جو احباب ہمسایہ ملک میں جین زی کی کاکروچ تحریک سے متاثر ہو کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ عمران کی رہائی کیلئے بس کال دینے کی دیر ہے۔ نوجوانوں کے جتھے ہی نہیں عوام کا احتجاجی سونامی سڑکوں پر اُمنڈ آئے گا۔ انہیں چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کے مائنڈسیٹ سے باہر آ کر پاکستان کے معروضی حالات کی روشنی میں اپنی سوچ پر نظر ثانی فرمائیں۔
کچھ کرم فرما اس نوع کی پیش گوئیاں بھی فرما رہے ہیں کہ سیم پیج اگر پھٹا نہیں ہے تو پھر بھی شاید اس میں کوئی نہ کوئی دراڑ ضرور آ چکی ہے جس کا فائدہ پی ٹی آئی یا اس کے بانی کو پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف النوع ہوائیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ کراچی کو فیڈرل کنٹرول میں دینے سے لے کر صوبوں کی نئی توڑ پھوڑ تک کوبطور حوالہ پیش کرتے ہوئے خوا ہ مخواہ زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں بالفرض اگر کراچی کے متعلق کوئی ایسا بڑا فیصلہ ہونے کی نوبت آ بھی گئی تب بھی یہ سمجھنا غلطی ہوگی کہ موجودہ سندھی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی ،اس قیادت کو اس امر کا مکمل ادراک ہے کہ اس نوع کی اٹھان ان کیلئے کیا مصائب لا سکتی ہے ان کے اندر تو کوئی ایسا سافٹ وئیر ہی نہیں ہے جسے بدلنے کی نوبت آئے، رہ گئے ہمارےبلند پروازتو انہیں لیگی قائد کے بالمقابل اوپر لایا ہی اس لیے گیا ہے کہ ان کی سرشت میںسرتابی یا انحراف سرے سے نہیں اور پھر قائد نے بھی اس نوع کا حکم صادر فرما دیا ہے کہ شاہ کا مصاحب کچھ بھی کہے آپ سمجھیں دیوار کو کہا ہے، گونگے ہو جانا ہے۔
اب اصل بات پر آتے ہیں یہ سوال جو لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا کھلاڑی کی رہائی ہو رہی ہے؟ کیا اسے لیگی قائد کی طرح بیرون ملک چلے جانے کی سہولت دی جانے والی ہے؟ درویش کی نظر میں فی الوقت تو دونوں آپشن خالی ہیں، اگرچہ کھلاڑی کےمداح اس نوع کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، بڑی بڑی پیشکشیں ہو چکی ہیں باہر جانے کی مگر انہیں پائے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا ہے۔ ایسی اپروچ غیر دانشمندانہ ہی نہیں بچگانہ بھی قرار دی جا سکتی ہے، دریں حالات طاقتور ایسا کوئی رسک آخر کیسے لے سکتے ہیں؟ بالفرض وہ اس نوع کی گنجائش نکالنے کا سوچیں بھی تو پی ٹی آئی کیلئے اس سے میٹھی کھیر کیا ہو سکتی ہے۔؟
اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ اس ملک میں اس وقت جو بھی سسٹم ہے چاہے وہ ہائبرڈ ہے یاکو لیپسڈ، ہیومن رائٹس کے حوالے سے درویش عرض گزار ہے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر یا عوامی سطح پر پسندیدہ شخصیت کیلئے کم از کم وہ سیاسی و انسانی حقوق ضرور ہونے چاہئیں جن کی توقع کوئی بھی شہری اپنی آئینی ریاست سے کر سکتا ہے۔ وہ اڈیالہ جیل میں ہو یا الشفاء ہاسپٹل میں یا اپنے گھربنی گالہ میں، اس کی فیملی یا اس کے بچوں کو اس سے ملاقات نہ کرنے دینا یا اس حوالے سے قدغنیں عائد کرنا ہیومن رائٹس کے منافی ہے۔ اسی طرح ایک سیاسی پارٹی قیادت کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے قائد سے ملاقات کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کر سکے اگر وہ تشدد یا توڑ پھوڑ کی بات کریں پھر تو قانون ضرور حرکت میں آئے بصورت دیگر قانون کو ان کے شہری حقوق کا پاسدار ہونا چاہیے۔ اس وقت سیاسی طور پر پاکستان میں جس نوع کی گھٹن محسوس کی جا رہی ہے اسے معتدل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سیاسی رہنما کو مسلسل جیل میں رکھنے کی بجائے اسے بنی گالہ میں منتقل کرتے ہوئے اس کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا جائے۔ آپ فوجداری و کرپشن کے مقدمات ہرگز واپس نہ لیں لیکن عدالتی پیشی کا اہتمام یہاں سے بھی تو کیا جا سکتا ہے۔