• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ نے کبھی سوچا کہ اس ملک کا سب سے آسودہ کاروبار وہ ہے جس کا اصل کام برسوں سے نہیں چل رہا؟ بینک بنتے ہی اس لیے ہیں کہ بچت کو کاروبار تک پہنچائیں۔ رقم اُس کے پاس ہے جسے کاروبار نہیں آتا اور کاروبار جسے آتا ہے اُس کے پاس رقم نہیں، بینک اسی فاصلے کا پل ہے۔ ہمارے بینکوں نے پل بننے کا کام ذرا چھوڑ رکھا ہے اور منافع پھر بھی تاریخی، اشتہار پھر بھی مسکراتے ہوئے۔ یہ کیسا کاروبار ہے جو اپنے اصلی گاہک کے بغیر پھلتا پھولتا ہے؟

پہلے اس پہیلی کا ثبوت۔ امسال مارچ میں عوام کے ڈیپازِٹس 375کھرب روپے، نجی معیشت کو قرض ملا 146 کھرب، سرکاری بانڈ خریدے گئے 391 کھرب کے: ڈیپازِٹس سے بھی زیادہ۔ نجی قرض قومی پیداوار کا فقط 11 فیصد،سرکاری قرضے میں ہمارے بینک دنیا میں اول :اثاثوں کا 60 فیصد ،دنیا کے اوسط کا چار گنا۔ نجی قرض میں چھوٹے کاروبار کا حصہ فقط 5 فیصد، فصل کا اس سے بھی پتلا ۔ مشرقی ہمسائے اور بنگلہ دیش میں یہی شرح ہم سے تین چار گنا۔ باون لاکھ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں میں بینک کے قرض دار تین لاکھ کے لگ بھگ۔ اور گاؤں کا اصل بینک اب بھی آڑھتی ہے۔ بیج، کھاد، ادھار، اور فصل اسی کے ہاتھ بیچنے کی شرط سود بھاؤ میں چھپا ہوا ، جوڑیے تو سال کا 30 سے 60 فیصد۔

اب اس پہیلی کو سلجھانےکیلئے بینک کے دروازے تک چلتے ہیں۔ہر صبح دو گاہک آتے ہیں۔ پہلا سرکار: نہ جانچ کا خرچ، نہ کولیٹرل کا جھگڑا، نہ ڈوبنے کا خطرہ، نہ وصولی کا مقدمہ اور طلب مسلسل۔ دوسرا کارخانہ دار یا کاشتکار: ساکھ جانچئے، کولیٹرل پرکھئے، ڈوب جائے تو برسوں کے عدالتی چکر۔ دوسرے گاہک کے ساتھ بینکاری کے دو پرانے روگ بھی اندر آتے ہیں۔ پہلا روگ قرض ملنے سے پہلے لگتا ہے: سود بڑھائیے تو سب سے پہلے محتاط کاروباری اٹھ جاتا ہے کہ اس کے نپے تلے نفع میں مہنگے قرض کی گنجائش ہی نہیں ۔پیچھے وہی بچتا ہے جسے جیت اپنی رکھنی ہے اور ہار بینک کے کھاتے لکھنی ہے۔ معاشیات اسے کج انتخابی (Adverse Selection) کہتی ہے۔ دوسرا روگ قرض ملنے کے بعد لگتا ہے: پرائی رقم ہاتھ آ جائے تو بڑا داؤکھیلنےکا احتمال بڑھ جاتا ہے ۔ داؤ چل گیا تو نفع اپنا، ڈوب گیا تو نقصان بینک کا۔معاشیات کے ہاںیہ اخلاقی مخاطرہ (Moral Hazard) کہلاتا ہے۔ دونوں روگوں کا علاج شرح سودمیں نہیں، جانچ اور کولیٹرل میں ہےاور جہاں جانچ مہنگی ہو اورکولیٹرل موجود ہی نہ ہو، وہاں بینک دروازہ ہی بند کر دیتا ہے۔

چھوٹے کاروبار کے کولیٹرل کے اپنے مسائل الگ ہیں ۔ مشین و مال کی رجسٹری کا قانون آ گیا، عملداری نہیں آئی اور جو فرم کھاتہ دکھائے وہ ٹیکس اور معائنے کو دعوت دیتی ہے سو چھوٹی فرم اندھیرا خود اوڑھتی ہے۔اجالے میں ٹیکس ہے، اندھیرے میں قرض نہیں سو وہ شام کے دھندلکے میں گم رہتی ہے، جہاں نہ محصول کا سورج پہنچے نہ بینک کا چراغ۔ کسان کو قرض دینا آسان نہیں ۔ پٹواری کے کاغذ والی زمین گروی نہیں ہو سکتی۔سیلاب ایک کھاتہ نہیں، پوری تحصیل ڈبوتا ہےاور بیمے کے بغیر مون سون سیدھا بینک کی کتاب میں لکھا جاتا ہے۔ آڑھتی اسی منڈی کا کرایہ دار ہے جو بینکوں نے خالی چھوڑ دی ۔ کرایہ وہ سود میں وصول کرتا ہے ،نجات چاہیے تو حکم نہیں، مقابلہ درکار ہے۔

بینکار کی دلیل سنیے :محفوظ اور بڑا قرض دار سامنے کھڑا ہو تو چھوٹے کی باری کیسے آئے؟ پچیس برس کا حساب جوڑیے: سرکاری قرض جتنا بڑھا، چھوٹے کاروبار کا حصہ اتنا گھٹا۔ 2002 ءسے 2008 ء تک، جب سرکاری کاغذ ڈیپازِٹس کا 40 فیصد بھی نہ تھا ، چھوٹے کاروبار کا حصہ آج کا تین گنا تھا ۔سو بینکار کی صفائی حیلہ نہیں، حساب ہے۔ مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ کھاتے کا دوسرا ورق بھی پڑھا جائے: موجودہ حکومت نے اس گرہ پر انگلیاں رکھ دی ہیں۔ بیس مہینوں میں 47 کھرب سے زائد کا قرض میعاد سے پہلے لوٹایا جا چکا۔ ہماری مالیاتی تاریخ میں پہلی بار قرض دار نے تقاضے سے پہلے دستک دی ہے۔ قومی پیداوار کے تناسب سے قرض تین برس میں 75 سے کم ہوکر 68 فیصد ہو گیا۔ مگر جو گرہ پون صدی میں پڑی ہو وہ ایک دو برس میں نہیں کھلا کرتی۔ تو کیا گرہ کھلنے تک مریض کو لاعلاج چھوڑ دیا جائے؟

مگر علاج سے پہلے بینکوں کے ہنر کا نوحہ۔ ان حالات میں بینکاری کے پیشے کا ہنر ہاتھ سے جا رہا ہے۔ جس بینک کی کمائی کوپن ہو وہ بینک نہیں برانچوں والا بانڈ فنڈ ہوتا ہے۔ قرض دینا پیشہ تھا اب قرض سے پرہیز پیشہ ہے۔ بینک منیجرز کی جو نسل صرف خزانے کے کاغذ پر پلے ، وہ کارخانے کا کھاتہ پڑھنا بھول جا تی ہے۔ کل مرض کی جڑاکھاڑ بھی دیں تو کھاتہ پرکھنے والا کریڈٹ افسر کہاں سے آئے گا؟

علاج : سرکاری قرض کی طلب تھمی رہے ، رجسٹر صاف ہو، وصولی تیز، فیصلے سریع۔ کلاسیکی مکتب کہتا ہے:بنیاد درست کرو، بازار خود چل پڑے گا۔ مصیبت یہ کہ جس رجسٹر کو صاف ہونا ہے، اس کا دھندلا پن بہت سے مفادات کو راس ہے، سو صفائی کو مزاحمت کا سامنا ہے اور عدالتی فیصلے کی رفتار بڑھانے کو بھی ایک نسل چاہیے۔ کلاسیکی مکتب کےستون کھڑے ہونے میں ایک عمر لگ جائے گی۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک ترغیب و تلقین میں کسر نہیں چھوڑ رہے ۔حکومت چھوٹے کاروبار، زراعت اور کم لاگت مکانات کو ترجیح ٹھہرا چکی۔ سمت درست ہے اور نیت پر کلام نہیں۔ مگر تنہا تلقین سے بانڈ فنڈ بینک نہیں بنا کرتے۔ ترغیب کو ترازو میں اترنا ہو گا۔ سو علاجِ کامل کی سعی اپنی جگہ جو سر دست ”ممکن“ ہے اس میں دیر نہ ہو اور ”ممکن“سٹیٹ بینک کے قلم کی مار ہے: پانچ ضابطے۔ اول: ہر بینک کا سالانہ اسکور کارڈ شائع ہو۔نجی قرض کا حصہ، چھوٹے کاروبار اور فصل کا حصہ،اور نئے قرض داروں کا حصہ ۔ جو ناپا نہ جاسکے وہ کبھی نہیں بدلتا۔ دوم: بینک انتظامیہ کے بونس کا 30 فیصد حصہ اسی اسکور کارڈ سے طے ہو۔ سالانہ رپورٹ بتائے کہ تنخواہ بینکاری کی ملی یا گودام بانی کی۔ سوم: سرکار اور سرکاری اداروں کے ڈیپازِٹس جو کھربوں میں ہیں، اسی اسکور کارڈ کے مطابق بٹیں ۔ چہارم: چھوٹے کاروبار اور فصل کے قرض کا سالانہ ہدف ۔جو بینک ہدف سے جتنا پیچھے رہے، اتنی رقم اسے ترقیاتی فنڈ میں جمع کرانی پڑے جس کا منافع جان بوجھ کر پالیسی ریٹ سے کم ہویعنی قرض نہ دینے کی قیمت مقرر ہو جائے۔ پنجم: گودام کی ڈیجیٹل رسید اور کھڑی فصل کو ضابطے میں کولیٹرل کا پورا درجہ، اور فصل کے اجتماعی بیمے کی قومی گارنٹی، تاکہ بارش بینک کے بجائے بیمے کے کھاتے میں لکھی جائے۔

یہ علاج ممکنات میں سے ہے، علاجِ کامل نہیں۔ مگر مریض کو ”کامل“ کے انتظار میں ”ممکن“ سے محروم رکھنا طبابت نہیں، غفلت ہے۔ پانی کو نشیب دکھانا نہیں پڑتا بند کھولنا پڑتا ہے۔ جب تک اصلی اور بڑا بند نہ کھلے، چھوٹی نہریں کاٹنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ پیاسا کھیت کل کے وعدے سے نہیں، آج کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے۔

تازہ ترین