• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیرہ اگست کی صبح اسلام آباد کے ائیرپورٹ پر ناروے کے وزیر خارجہ کی پاکستان کے سرکاری دورے پر آمد کی تصاویر اسوقت پورے پاکستانی میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ ان تصاویر نے اس دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان خیر سگالی اور تعاون کے باضابطہ ہونے والے مذاکرات اور طے پانے والے معاہدوں کو بھی پس پشت ڈال رکھاہے اور ہر تبصرہ نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ نارویجن وزیر خارجہ ایسپن بارتھ آیدے Espen Barth Eide کی اپنے ہاتھ میں اُٹھائے دستی سامان کی تصویر کو ہی موضوع سخن بنائے ہوئے ہے ۔ ہر تبصرہ نارویجن وزیر خارجہ کے اس سادہ انداز کو تحسین و تعریف کے ساتھ خواہش اور مزاحمت کا مظہر ہے۔خواہش کا اظہار یہ ہے کہ پاکستان کے وزرا اور اشرافیہ کو بھی ایسا ہونا چاہیے اور مزاحمت یہ ہو رہی ہے کہ پاکستان کے صاحب اقتدار ایسی سادگی سے اجتناب کرتے ہوئے قومی وسائل کےضیاع کے مرتکب کیوں ہو رہے ہیں۔ گو یہ امتیاز کرنا مشکل ہے کہ اس میں خواہش کا دخل زیادہ ہے یا پھر مزاحمت کالیکن ایک بات تو حقیقت نظر آتی ہے کہ اکثریت ایک غیر پاکستانی کے انداز کے معترف ہونے کے ساتھ ساتھ اسکو قابل تعریف اور سود مند تصور کرتی ہے۔ نارویجن وزیر خارجہ کے اندازکی پاکستانی عوام میں پذیرائی اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کے وزرا کا انداز بھی یہی ہونا چاہیے اور پاکستان کے اندر وزرا کی نقل و حرکت اور بیرون ملک دوروںکے ٹھاٹھ میں سادگی اور کفایت شعاری کو متعارف کروا کر قومی خزانہ پر اس مد کے بوجھ کو کم کیا جائے۔یہ فیصلہ پاکستانی عوام نے خود ہی کرنا ہے لیکن یہاں پر کچھ گزارشات پیش کرنے کی وجہ پچھلی چند دہائیوں سے ناروے میں مقیم ہونے کے ناطے نارویجن نظام کے کچھ گوشوں پہ روشنی ڈالنا ہے جس سے آگاہی پر ہمیں وزیرخارجہ کے اپنائے ہوئے اس کفایت شعاری اور سادگی کے انداز کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔ اس تصویر کو سامنے رکھ کر پاکستانی تبصرہ نگار یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ناروے جیسے امیر ملک کے وزیرخارجہ کی یہ خصوصیت پاکستان کے وزرا میں کیوں نہیں۔ ایسے امیر ملک کا وزیر ملکی وسائل ہونے کے باوجود ایک کمرشل فلائٹ کے ساتھ کیوں آیا ہے اور پاکستان کے وزرا کی طرح بیرون ملک دورہ پہ خصوصی طیارے پہ سفر کیوں نہیں کیا؟۔ اس میں شک نہیں کہ نارویجن وزیر خارجہ کا انداز قابل تعریف ہے لیکن ناروے والوں کیلئے یہ کوئی عجیب بات نہیں ناروے کے اندر ہر اعلیٰ عہدے دار اور عام آدمی ایک طرح کے ہی سادہ طرز زندگی کا عادی ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ آج کے دورے میں جب ذرائع ابلاغ اتنے ترقی کر چکے ہیں تو پھر ہمیں نارویجن قوم کی کفایت شعاری اور سادگی کی اقدار کا نارویجن وزیر خارجہ کی پاکستان آمد پر ہی پتہ کیوں چلا۔ ناروے کے وزیر خارجہ کا اپنا دستی سامان اُٹھا کر چلنے کا اندازنہ تو کسی خاص وجہ سے اپنایا گیا اور نہ ہی اسکی کوئی خاص وجہ تھی بلکہ یہ سب انکی ذاتی زندگی اور سرکاری فرائض کی ادائیگی میں ہم آہنگی کا عکس ہے جو ناروے کے اندر ہر سطح پہ پائی جاتی ہے۔جسکے تحت نارویجن حکام اور اشرافیہ کی روزمرہ کی زندگی میں انکی سرکاری یا مالی حیثیت کا کوئی دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی سرکاری عہدہ انکے روزمرہ کے معمول میں کسی تبدیلی کا موجب بنتا ہے۔ کیونکہ انکو بحیثیت وزیر وزارت کے اختیارات دئیے جاتے اور وزارتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ہر طرح کی سہولیات اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں لیکن انکی روزمرہ کی زندگی انکا اپنا مسئلہ ہوتا ہے جس میں حکومت سوائے تنخواہ کے اور کچھ مہیا نہیں کرتی۔ اس سلسلہ میں اگر کوئی وزیر مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو وزارت سے معذرت کر سکتا ہے اور ایسا کئی بار ناروے میں ہو چکا ہے کہ وزرا نے اس بنیاد پر وزارت چھوڑی کہ انکی ذاتی ذمہ داریاں انکے وزارتی فرائض کی ادائیگی میں حائل ہوئیں۔ جہاں تک وزیر کا کمرشل فلائٹ سے آنے کا تعلق ہے تو اسکا فیصلہ یہ مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے کہ سرکاری دورے پہ بیرون ملک جانے والے وزرا اپنے ذاتی خرچ پہ نہیں جاتے بلکہ وہ قومی خزانے کے خرچ پر جاتے ہیں لہٰذا یہ طے کیا جاتا ہے کہ انکا سفر ایسے ہو کہ جس سے قومی خزانے کے کم سے کم وسائل خرچ ہوں تاکہ قومی خزانے پر کوئی بڑا بوجھ نہ پڑے۔لہٰذا ناروے میں تمام بیرون ممالک دورے سستی اور کمرشل فلائٹ سے ہی کیے جاتے ہیں کبھی کبھار کوئی مجبوری ہو تو خصوصی طیارہ کرایہ پہ لیا جا سکتا ہے۔

اس تصویر میں ایک پہلو جو مبصرین کی نظروں سے اوجھل رہا وہ یہ تھا کہ انکے ساتھ انکا اسٹاف بھی موجود تھا جو ناروے سے ساتھ آیا اور پھر پاکستان کے اندر ناروے کے سفیر بھی ساتھ موجود ہیں جو بالکل خالی ہاتھ ہیں۔ اب انکا اسٹاف اس دورے پہ اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے آیا ہے لہٰذا اسکی طرف سےوزیر خارجہ کا سامان اُٹھانے کی کوئی روایت نہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے عہدے کے اعتبار سے ممتاز ضرور ہے لیکن اپنی ذاتی ذمہ داریوں کا خود ذمہ دار ہے۔ اور اسکی وجہ یہ کہ ناروے کے اندر ذمہ داریوں اور اختیارات کے علاوہ ہر وزیر اور بڑے عہدے کا حامل فرد کسی فوقیت کا حامل تصور نہیں کیا جاتا اور یہ نارویجن معاشرے میں موجود سماجی مساوات کا حصہ ہے جو سب کو برابر کا شہری گردانتی ہے ۔نارویجن ثقافت میں عہدوں کے درمیان ایسا کوئی امتیاز موجود نہیں جس کے تحت چھوٹا عہدے دار بڑے عہدے دار کا سامان اُٹھائے اور اگر دیکھا جائے تو آج کے ناروے کی ترقی اور خوشحالی میں جہاں قومی دیانتداری کا کلیدی کردار ہے تو اس میں عوامی کفایت شعاری اور سادہ انداز زندگی کا بھی بہت بڑا دخل ہے اور نارویجن سیاستدان اور سرکاری عہدے دار اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسکا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ ناروے کے اندر جمہوری عہدےداروں کیلئے کڑے اخلاقی اصول وضع ہیں جنکی خلاف ورزی پر انکے لیے عہدے برقرار رکھنا ناممکن بن جاتا ہے۔ دو تین مثالیں یہاں پر عر ض ہیں کہ حال ہی میں نارویجن پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر شراب نوشی کے بعد اپنی کار ڈرائیو کرتے ہوئے پولیس کنٹرول میں پکڑے گئے تو انہیں عہدے سے برطرفی کے ساتھ اکیس دن جیل کی سزا بھی کاٹنی پڑی۔ اس طرح ایک وزیر کو اسلئے استعفیٰ دینا پڑا کہ اس کی ماسٹرز کی ڈگری کے تھیسس میں نقل کا شبہ تھا اور ایسے ہی ایک وزیر اسلئے وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھا کہ اس نے ایک ایسی کمپنی کے شیئرز خریدے جس کو بعد میں حکومت کی طرف سے ایک بڑا کنٹریکٹ ملا تھا۔ناروے کے اندر عموما اگر کوئی سیاستدان یا بڑا عہدے دار کسی جرم کی پاداش میں سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے تو اسکو عام شہریوں سے زیادہ سزا دی جاتی ہے کیونکہ ناروے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ عوام کے اعتماد کا امین ہوتا ہے لہٰذا اسکو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ کوئی عوام کی امانت میں خیانت نہ کرے اور نارویجن عوام بھی اپنے منتخب اراکین کا سخت احتساب کرتے ہیں اور کسی بھی خلاف قانون حرکت میں شریک سیاستدان اور اسکی پارٹی کو انتخابات میں بُری طرح ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔لہٰذا جہاں ناروے کے وزیر خارجہ کا انداز پسندیدگی اور تعریفوں کا مستحق ٹھہرا ہے تو اس میں وزیر موصوف کا عمل یقیناََ قابل تعریف ضرور ہے لیکن اس کا اصل حقدار وہ نارویجن معاشرہ اور نظام ہے جس کی تربیت نے اس وزیر کو اس انداز کا پابند بنایا۔

تازہ ترین