• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زوالِ خطابت و مکالمہ: ایک معاصر تعلیمی و تہذیبی المیہ

​کسی بھی زندہ معاشرے کی بے داری، تہذیبی پُختگی اور فکری بالیدگی کا راز اس کے ’’فنِ تکلّم‘‘ اور ’’فنِ خطابت‘‘ میں پنہاں ہوتا ہے۔ تاریخِ عالم شاہد ہے کہ الفاظ جب محض صوتی لہریں رہنے کی بجائے ایک مرتّب فکر، تہذیبی سلیقے اور استدلال کی قوّت سے لیس ہوتے ہیں، تو اقوام کی تقادیر بدل دیتے ہیں لیکن افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ ہمارے معاصر تعلیمی اور سماجی تناظر میں فنِ تقریر و خطابت نہ صرف اپنے زوال کی آخری حدوں کو چُھو رہا ہے بلکہ ایک ایسا فکری خلا پیدا کر چُکا ہے کہ جو ہماری نسلِ نو کو سطحی اور غوغا پسند بنا رہا ہے۔

اگر ہم گزشتہ تین سے چار دہائیوں کا سائنسی و تنقیدی جائزہ لیں، تو اس زوال کے چند بنیادی اور واضح اسباب سامنے آتے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

​1 :طلبہ یونینز پر پابندی اور مباحثوں کا خاتمہ: ماضی میں اسکولز، کالجز، بالخصوص جامعات میں طلبہ یونینز اور بزمِ ادب جیسے پلیٹ فارمز فعال ہوا کرتے تھے اور یہ ایسی فکری تربیت گاہیں تھیں، جہاں سے طلبہ کو بولنے، لکھنے، اور مخالف نظریے کو شائستگی سے سُننے کی تربیت ملتی تھی، جب کہ جامعات کے سالانہ میگزینز، بین الکلیاتی مباحثے اور مذاکرے نوخیز ذائقۂ تحریر و تقریر کو صیقل کیا کرتے تھے۔

جب سے ان سرگرمیوں کا خاتمہ ہوا، جامعات محض ڈگری بانٹنے والے سرد خانوں میں تبدیل ہوگئیں۔ نتیجتاً، تربیت یافتہ، مدلّل اور سنجیدہ مقرّرین کی جگہ ایک ایسی نسل سامنے آئی کہ جو زبانی اظہار کی بنیادی صلاحیت سے بھی ناآشنا ہے۔

2 : سطحی میڈیا اور ’’شو مین شپ ‘‘ کی یلغار: زوال کا دوسرا اورمُہلک ترین سبب ذرائع ابلاغ کی وہ یلغارہے، جس نے پڑھنے لکھنے اور سوچنے کے کلچر کو تہ و بالا کردیا۔ میڈیا نےتحریرو تقریر کےوقار کی جگہ شوروغوغا، شوبز اور نمائشی کارکردگی کو دے دی۔

نتیجتاً، تعلیمی اداروں میں علم، فکر اور مکالمے کی جگہ ’’میوزیکل کنسرٹس‘‘ اور ہنگامہ خیز تقاریب نے لے لی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے نو جوانوں میں راتوں رات شُہرت حاصل کرنے کی خواہش تو بے دار ہوگئی، لیکن اس کے لیے درکار محنت، مطالعہ اور ریاضت کا مزاج بالکل ختم ہوگیا۔

3 :اساتذہ کی عدم صلاحیت اور معیارِ قضاوت میں گرواٹ : ایک انتہائی لمحۂ فکریہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں میں جو اساتذہ تقریری مقابلے کروانے یا طلبہ کی تربیت پر مامور ہیں، ان کی اکثریت خود اس فن کی باریکیوں سے نا واقف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب تقریری مقابلوں کے نتائج مرتّب کیے جاتے ہیں، تو اکثر معیار یہ بن جاتا ہے کہ کس کا مواد کتنا کم غیر معیاری اور سطحی تھا، کس کا تلفظ کتنا کم خراب اور عامیانہ تھا، کس کے اندازِ تکلم میں نعرے بازی اور بدسلیقگی کم نمایاں تھی؟ یاد رہے، جب ناقص ہی کو معیار مان لیا جائے اور تنقیدی بصیرت کا فقدان ہو، تو پھر نکھار کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

​ خطابت: ایک فن اور ریاضت

​ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ تقریر یا خطابت کوئی ایسی جادوئی صلاحیت نہیں ،جو بغیر محنت کے حاصل ہو جائے۔ یہ محض چند کتابیں پڑھ لینے یا تقاریر حفظ کر لینے کا نام بھی نہیں ہے۔ جس طرح موسیقی کے علم میں جب تک ہارمونیم پر گھنٹوں ریاضت اور ’’گلا تیار‘‘ نہ کیا جائے، کوئی راگ الاپنے کے قابل نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح فنِ خطابت بھی باقاعدہ مشق، مطالعے اور ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔

ایک اچھا مقرّر یا خطیب بننے کے لیے تین بنیادی مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔

(1)وسیع مطالعہ: تاریخ، ادب، منطق اور معاصر علوم پر گہری نظر۔

(2)اصول و قواعد سے آگہی: تلفظ کی دُرستی، آواز کے اُتار چڑھاؤ کا فہم اور الفاظ کے مناسب انتخاب کا سلیقہ۔

(3)عملی مشق اور خود ضبطی: مسلسل بولنے اور سُننے کی مشق تاکہ اندازِ بیان میں عامیانہ پن کی بجائے دانش ورانہ وقار پیدا ہو۔

​اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں صرف ’’بٹن دبانے والی‘‘ یا شور مچانے والی نسل نہ بنیں بلکہ ان کے اندر بصیرت، منطقی استدلال اور شائستہ گفتگو کا ملکہ پیدا ہو، تو ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور سماجی ایوانوں میں ’’فنِ خطابت ‘‘کو ایک باقاعدہ فن اور علم کے طور پر دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

اساتذہ کو خود کو اس فن سے آراستہ کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ حقیقی خطابت شور مچانے میں نہیں بلکہ دلیل سے دِلوں کو فتح کرنے میں پنہاں ہے۔ معاشرے کی معروضی صورتِ حال کا جائزہ بتاتا ہے کہ ایک عام آدمی سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ہر شخص عدم برداشت کے مُہلک ترین مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔

یاد رہے، جب دلیل رخصت ہو جاتی ہے، تو اس خلا کو مغلظات اور تشدّد پرُ کرتا ہے اور ہمارا مجموعی معاشرتی رویّہ اس کی عکاسی کرتا ہے اور ایسے ماحول میں اساتذہ کی تربیت، مکالمے کی بقا اور دلیل کے کلچر کو واپس لانے کا عمل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔