• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چادر، دوپٹا، اسکارف ... بوجھ نہیں، سر کا تاج

پوری دُنیا میں پچھلی کئی صدیوں سے خواتین کے پردے پر بحث جاری ہے اور شاید مستقبل میں بھی یہ کئی صدیوں تک جاری رہے۔ اس بحث کے نتائج سے قطع نظر باحجاب خواتین ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی ’’عالمی یومِ حجاب‘‘ بھرپور طریقے سے منائیں گی۔ اپنی اوڑھنی، آنچل، چادر، دوپٹے اور اسکارف کو سَر کا بوجھ نہیں بلکہ تاج ہی مانیں گی اور اپنے آنچل میں حیا کے جگنو، پُھول اور کلیاں سجاتی رہیں گی۔ 

پردے پر تنقید کی آڑ میں بےحیائی کو فروغ دینے کےخواہش مند طبقات حجاب کے خلاف چاہے کسی حد تک بھی کیوں نہ چلے جائیں، باحجاب خواتین کا قبیلہ ہمیشہ اور ہرصُورت حیا کا پاس دار وعلم بردار ہی رہے گا۔ ہمارا حجاب ہی ہمیں اللہ اور اُس کے پیارے بندوں کے سامنے سَر بلند اور سُرخ رُو کرے گا، کیوں کہ نورِ باری تعالیٰ بھی تو حجاب ہی میں ہے۔

نہ جانے ہم کب عقل کے ناخن لیں گے؟ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ سامنے موجود چیزیں بھی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ ہم جانتے بُوجھتے بھی احمقانہ اور بچکانہ فیصلے کردیتے ہیں، جسے عُرفِ عام میں ’’عقل پر پردہ پڑنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پردہ صرف نگاہ کا نہیں بلکہ سوچ، فکر اور عمل کا بھی ہوتا ہے۔

تکبّر سے پردہ، نمود ونمائش سے پردہ، بڑائی، بُرائی اور ظلم سے پردہ… حتیٰ کہ صراطِ مستقیم سےمنحرف کردینےوالےہرعمل سےاعراض اورنجات کی کوشش بھی پردہ ہے۔ لہٰذا، اپنی عقل سے پردہ ہٹائیں اور ہر اُس انفرادی و اجتماعی برُائی اور معاشرتی ظلم سے مجتنب ہوں کہ جس سے آپ اور آپ کا سماج متاثر ہو رہا ہے، نیز تمام سماجی بُرائیوں، عیوب، سیاہ کاریوں اور سِفلی جذبات کا جڑ سے خاتمہ کریں۔

ہمارا معاشرہ دن بدن جتنا مکروہ اور تعفّن زدہ ہوتا جا رہا ہے، ہم اُتنی ہی تیزی سے نشیب کی طرف گام زن ہیں۔ اس سے پہلے کہ معاشرے کا ہر فرد اِس سے متاثر ہو، ہمیں اپنی معاشرت کو بچانا ہوگا۔ پردے کا حُکم ربّ کا وہ انعام ہے کہ جس کا شُکر ہر سانس کے ساتھ بھی ادا کیا جائے، تو کم ہے۔

بد نظری سے گریز، منفی خیالات سے بچاؤ، حرام لقمے سے پرہیز اور اسی طرح دیگر برائیوں سے دُوری اختیار کرنا ہی ایک پاکیزہ اور دیانت دار معاشرے کی پہچان ہے۔

یاد رہے، سُلجھے ہوئے قلوب و اذہان ہی صاف سُتھرے راستوں کی سمت کا تعیّن کرتے ہیں اور یہ بے حیائی کی غلاظت سے بچتے ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی بچاتے بھی ہیں۔ سو، ڈُوبتے کو بچانا اور بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کرنا ہی ایک حیادار اسلامی معاشرے کا شعار ہونا چاہیے۔