• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم السّحر

آج دُنیا بَھر کے مفکّرین، ماہرین اور تھنک ٹینکس اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد جو حربی حکمتِ عملیاں، سماجی و معاشی نظام اور حقوقِ انسانی کے چارٹرز پیش کر رہے ہیں، وہ میرے آقا حضرت محمدﷺ نے آج سے1500 سال پہلے کام یابی سے نافذ کر کے دکھا دیے۔ ’’دُنیا کے ایک سو عظیم انسان‘‘ نامی کتاب کا مصنّف، مائیکل ہارٹ ایک کٹر عیسائی تھا۔

اُس نے برسوں ایسے افراد کی شخصیت اور زندگی پر تحقیق کی کہ جنہوں نے انسانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتّب کیے تھے اور وہ اپنی برسوں کی تحقیق کا نچوڑ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب کے دیباچے میں یوں بیان کرتا ہے کہ ’’یسوع مسیح کا پیروکار ہونے کے باوجود میری ایک سو عظیم ترین انسانوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر محمدﷺ کی موجودگی لوگوں کے لیے شاید تعجب کا باعث ہو مگر مُجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ دُنیا کی تاریخ کے سب سے زیادہ قوّت سے اثر انداز ہونے والے شخص محمدﷺ ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتا ہےکہ’’ آپﷺ کی اثر پزیری کی وجہ صرف اسلام کی عالم گیر فتوحات نہیں بلکہ مفتوحہ علاقوں میں مقامی آبادی کا بغیر کسی جبر کے نہایت تیزی کے ساتھ محمدﷺ کا عقیدہ اور طرزِ معاشرت اختیار کرنا ہے۔

ہرچند کہ قرآنِ پاک کی شکل میں رسول اللہ ؐ کا انسانیت پر جو احسانِ عظیم ہے، اس کی کوئی حد اور انتہا نہیں مگر میرے پیارے آقا ﷺ نے اپنی لیڈر شپ کے ذریعے بھی مادّہ پرست اور عقل پرست دُنیا کو سوچنے کے نئے زاویے عطا کیے اور جینے کا نیا ڈھنگ سکھایا۔

یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی دعوتِ اسلام کو رد کرنے والے غیر مسلم بھی بے شمار دنیاوی معاملات میں رہنمائی کے لیے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں اورآپؐ کی تعلیمات اور اخلاقی و معاشرتی اصول آج دُنیا بَھر میں مختلف اصطلاحات کے ساتھ زیرِ استعمال ہیں۔

آج’’اسٹرٹیجک مینجمنٹ‘‘ دُنیا میں پڑھایا جانے والا اہم ترین علم ہے جب کہ آپؐ نے آج سے 1500برس قبل دُنیا کو بتایا کہ حکمتِ عملی ہی یہ سکھاتی ہے کہ حالات و اسباب کا مفید اور مؤثر ترین استعمال کیسے کیا جائے۔ ناموافق حالات کواپنے حق میں کیسے موڑا جائے اور کیسے انتہائی مشکل فیصلے کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ بہ ظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط کا حامل معاہدہ نظر آتا تھا اور بعض صحابہؓ کو بھی اس پر شدید حیرت بھی ہوئی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فوری جذبات کی بجائے طویل المدّت نتائج کو سامنے رکھا۔ اس کے علاوہ متعدد جنگوں میں رسول اللہ ؐ کی زبردست جنگی حکمتِ عملی ہی کام آئی۔

غزوۂ بدر کے موقعے پرآپ ؐ نے مقام کے انتخاب، پانی کے ذرائع، صف بندی اور دفاعی پوزیشن جیسے امور پر توجّہ دی اور صحابہؓ سے مشاورت بھی فرمائی، جس کی بدولت قلیل افراد کا بے سر و سامان لشکر ہزار کی آراستہ و پیراستہ فوج کو شکست ِفاش دینے کے قابل ہوا۔

اب ہم بات کرتے ہیں، متاثر کُن گفتگویا ایفیکٹیوکمیونی کیشن کی۔ آج جب کہ دُنیا گلوبل ویلیج بن چُکی ہے، تو اس علم کی اہمیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ اس سے مُراد رابطہ کرنے کا ایسا انداز ہے کہ ہر سطح کی ذہنی استعداد رکھنے والا شخص بات سمجھ لے۔ رسول اللہ ؐ گفتگو فرماتے ،تو ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے۔ الفاظ واضح، اندازِ تکلّم دِل نشیں اور مفہوم ایسا کہ سُننے والا بات کو سمجھ بھی لے اور ذہن نشین بھی کر لے۔

دوسری جانب حضورِ اکرمؐ ایک اچّھے سامع بھی تھے۔ آپؐ صحابۂ کرامؓ سے مشاورت فرماتے، اُن کی آراء سُنتے اور معقول مشورے کو قبول بھی فرماتے اور یہ وہی اصول ہے کہ جسے ’’ Participative leadership‘‘ کے نام سے پڑھایا جاتا ہے۔

آپؐ کی ذاتِ پاک کی بدولت ہی انسانیت میں وقت کے دُرست اور منظّم استعمال کا شعور بیدار ہوا۔ آپ نے عبادت، معاشرت اور خانگی زندگی کے درمیان وقت کو بہترین انداز میں منظّم کرکے دکھایا اور سیرتِ نبویؐ مؤثر ٹائم مینجمنٹ اور نظم و ضبط کی بہترین مثال ہے۔ آپؐ نے فجر سے عشاء تک نمازوں کی باجماعت ادائی، اہلِ خانہ کے حقوق، صحابہؓ کی تعلیم و تربیت، لوگوں کے مسائل کا حل، ریاستی معاملات کی نگرانی اور ضرورت مندوں کی خبرگیری سمیت دیگر معاملات میں توازن کا خاص خیال رکھا۔

اس ضمن میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ رسول اللہ ﷺ گھر میں اپنے اہلِ خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور جب نماز کا وقت آتا، تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ ‘‘دوسری جانب آپ ﷺ نے عبادت میں بھی ایسا غلو پسند نہیں فرمایا جو انسان کو اس کے دیگر فرائض سے غافل کردے بلکہ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ ’’ربّ، نفس اور اہلِ خانہ سب کے حقوق ہیں۔‘‘

اگر انسانی حقوق کی بات کی جائے، تو آپؐ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں مساوات، تنوّع اورجامعیت سے متعلق دُنیا کا پہلا چارٹر پیش کیا ۔ آپؐ نے غلاموں سے متعلق اتنے سخت قوانین تشکیل دیے کہ سب سے پہلے اسلامی معاشرے اور پھر ساری دُنیا سے انسانی غلامی کا خاتمہ ہوگیا۔

آپؐ کی ذاتِ مبارکہ ہی نے پہلی بار حکم راں ہوتے ہوئے Minimalist اور Organic طرزِ زندگی اختیار کی۔ رسول کریمؐ نے خوراک، مال اور وقت کے اصراف سے سختی سے منع فرمایا اور آج پوری دُنیامیں انہی قوانین کی Environmental Sustainability اور Economic Sustainability کے نام سے دُھوم ہے۔