• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر جعفر عسکری

سب لوگ مر گئے، کیسے جیوں اکیلے

ٹُوٹے ہُوئے مکاں میں کیسے رہوں اکیلے

کل رات اِک دھماکا ایسا ہُوا زمیں پر

ماں باپ اور برادر ملتے نہیں کہیں پر

گُم ہوگئے کھلونے، کانوں کی بالیاں بھی

دُنیا میں اب نہیں ہیں، میری سہیلیاں بھی

کس سے لپٹ کے روؤں، سینہ نہیں ہے کوئی

بِن والدین جینا، جینا نہیں ہے کوئی

غم ایسا جاگزیں ہے، لوگوں سے بھاگتی ہُوں

ڈرتی ہُوں اِس قدر مَیں، راتوں کو جاگتی ہُوں

برباد ہوگیا ہے، سارا چمن ہمارا

صیہونیوں نے مل کر لُوٹا وطن ہمارا

اسرائیلی ستم کی پہچان بن چُکا ہے

میرے وطن کا ہر گھر شمشان بن چُکا ہے

اِک کمسنہ غموں کا اظہار کررہی ہے

بے حِس جہاں کو شاید بے دار کر رہی ہے