آج سے 1500سال پہلے یہ حُکم ہوا تھا کہ مسلمان خواتین اپنی زیب و زینت اور سنگھار دِکھاتی نہ پھریں اور باہر جاتے ہوئے اپنے لباس کے اوپرایک بڑی سی چادر اِس طرح اوڑھ لیں کہ سَر بھی ڈھک جائے اور چہرے کے نقوش بھی۔ زمانہ حیران ہے، تاریخ کی اس گواہی پر کہ اُس وقت کی نئی نئی مسلمان خواتین تک جیسے ہی یہ حُکم پہنچا، تو بے چون وچرا، لمحے کی تاخیر کیے بغیر، کمر کے گرد بندھی اوڑھنیاں کُھل گئیں اور سراپے ڈھک گئے۔ کوئی سوال نہیں کیا گیا، کوئی حجّت نہیں کی گئی اور نہ کوئی دلیل طلب کی گئی۔
تب کسی خاتون نے یہ نہیں کہا کہ اس سے میری خُوب صُورتی چُھپ جائے گی، میرا جمال پوشیدہ ہوجائے گا، میرا حُسن ماند پڑجائے گا بلکہ وہاں تو اطاعت، محبّت، ربّ کےحُکم کی تعمیل اور پیغمبرﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات پر عمل، سب باتوں پر مقدم تھا۔ اُن خواتین میں اُس وقت کے سرداروں کی بیٹیاں بھی تھیں، معزز بیگمات بھی اور لونڈیاں بھی۔ بےشک، ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ پیغمبرِ انقلاب تھے۔ اُنہوں نے اپنے ماننے والوں کے دِل بھی بدلے اور اعمال بھی۔ اُن کے ظاہر میں بھی تبدیلی آئی اور باطن میں بھی۔
تاریخ اور تہذیب ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور تاریخ، تہذیب کی گواہ بن جاتی ہے اور تاریخ کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ ہر تہذیب میں، چاہے مَرد ہو یا عورت، ڈھکا ہوا سر اعزاز و افتخار کی علامت رہا ہے۔ مشرقی تہذیب میں اپنے انداز کے طور طریقے رائج تھے، جن میں چادریں اور دوپٹے شامل تھے، جب کہ مغربی تہذیب میں وہاں کے موسم اور طرزِ زندگی سے مماثلت رکھتے ہیٹس تھے۔
وقت کے ساتھ ہر جگہ پہننے اوڑھنے اور رہن سہن میں تبدیلی آئی، خصوصا خواتین کی سماجی مصروفیات اور تہذیبِ جدید کے غلبے نے روایتی رہن سہن کو خاصا متاثر کیا۔ تاہم، اسلام نے اپنے پیروکاروں کے لیے جو اصول مرتّب کر دیے ہیں، وہ ہر دَور اور ہر معاشرت کے لیے ہیں۔
قرآن و حدیث میں اس بات کی واضح تعلیمات موجود ہیں کہ گھروں کے اندر کس طرح رہا جائے اور گھر سے باہر نکلتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے۔ حجاب صرف سَر سے لپٹا ہوا کپڑا نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور رویّہ ہے۔ دِلوں کی پاکیزگی، نظر کی حفاظت اور محتاط لب و لہجہ سبھی پردے میں شامل ہے اور ان سے متعلق احکامات مَردو خواتین دونوں کے لیے ہیں۔
اسلام مسلمان خواتین سے کچھ خصوصی مطالبات کرتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اے نبیﷺ! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور اہلِ اسلام کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ باہر نکلتے وقت اپنی زیب و زینت اور سنگھار نہ دکھاتی پھریں اور اپنے اوپر ایک اضافی چادریا اوڑھنی اوڑھ لیں، اس طرح کہ سَر ، چہرہ اور سراپا ڈھک جائے۔‘‘ الحمدُللہ، مسلمان خواتین پندرہ سو سال پہلے بھی قرآن کے اس حُکم پر عمل کرتی تھیں اور آج بھی کاربند ہیں۔
غالب تہذیب کی مزاحمت اور ماڈرن ازم کے باوجود مشرق ہو یا مغرب، حجاب مسلمان خواتین کا امتیازی وصف ہے۔ آج مسلم ممالک میں بااعتماد اعلیٰ تعلیم یافتہ باحجاب خواتین ہر شعبۂ زندگی میں اپنی ذمّےداریاں ادا کرتی نظر آتی ہیں، جب کہ تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کی کثیر تعداد بھی علم کے حصول میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
اِسی طرح مغرب کے تعلیمی مراکز اور شاپنگ مالز میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد باوقار و باحجاب نظر آتی ہے اور ہمارے خیال میں تو اسلام کے آفاقی مذہب ہونے کے ضمن میں یہی ایک واضح گواہی، شان دار دلیل کافی ہے۔