عشرت زاہد
دُنیا بَھر میں ہر سال 4 ستمبر کو ’’عالمی یومِ حجاب‘‘ (World Hijab Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا بنیادی مقصد مسلمان خواتین کے حجاب پہننے کے فیصلے کا احترام اور اس ضمن میں پھیلی غلط فہمیاں دُور کرنا ہے۔ حجاب صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ ایک مسلمان خاتون کی پہچان، اس کی عزّت، وقار اور عقیدے کا ایک اہم ترین حصّہ ہے۔ پردہ محض عام سی رسم نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا واضح حُکم ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور اپنی صاحب زادیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو اُنہیں ستايا نہ جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب، آیت،59) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حجاب، عورت کے تحفّظ اور اس کی باوقار پہچان کے لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ وہ معاشرے میں امن، سکون اور احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
حجاب اور حیا کا آپس میں گہرا اور لازمی تعلق ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ نے حیا کو ایمان کا لازمی حصّہ قرار دیا ہے۔ آپ ؐ کا فرمان ہے۔ ’’حیا ایمان کا ایک بڑا حصّہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) ایک اور جگہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہر دِین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔‘‘ (سننِ ابنِ ماجہ) یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ حیا صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ یہ مومن کے دِل، سوچ اور اس کے پورے وجود کا حصّہ ہوتی ہے، جس کا ظاہری اظہار حجاب کی صُورت میں ہوتا ہے۔
تاریخِ اسلام سے پتا چلتا ہے کہ جب حجاب کا حُکم نازل ہوا، تو عہدِ رسالتؐ کی خواتین نے اس پر کس قدر تیزی اورعقیدت کے ساتھ عمل کیا۔ اس سلسلےمیں صحیح بخاری کی ایک نہایت مستند اور خُوب صُورت روایت موجود ہے۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب قرآنِ پاک کی سورۃ النور کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اوراپنی اوڑھنیاں اپنےگریبانوں پرڈالے رہیں‘‘ تو اُس وقت موجود انصار اور مہاجر خواتین کا جذبہ دیکھنے کے قابل تھا۔
انہوں نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی اور اپنی چادروں یا لباس کےنچلے حصّوں (تہہ بندوں) کو کناروں سے پھاڑ کر فوراً اپنے سَروں اور چہروں کو ڈھانپ لیا اور حجاب کا اہتمام کر لیا۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر، 4758) یہ تاریخی واقعہ بتاتا ہے کہ حجاب، اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے حُکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ صحابیاتؓ نے نئے کپڑے کی دست یابی کا انتظار بھی نہیں کیا بلکہ جو لباس موجود تھا، اُسی سے خود کو وقار کے ساتھ ڈھانپ لیا اور یہی وہ جذبہ ہے، جو آج کی مسلمان خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
دَور ِجدید خُود مختاری اور انتخاب کی آزادی کا دَور ہے۔ عصرِ حاضر میں بعض طبقات حجاب کو پس ماندگی کی علامت سمجھتے ہیں، جو سراسر ایک غلط فہمی ہے کہ درحقیقت حجاب خواتین کو وقار اور تحفّظ کا احساس دیتا ہے اور یہ عورت کو اُس کی ظاہری چمک دمک کی بجائے اُس کی سوچ، صلاحیت اور شخصیت کی بنیاد پر پہچان عطا کرتا ہے۔
آج حجاب پہننے والی خواتین دُنیا بَھر میں سائنس، سیاست اور کاروبار سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور ثابت کر رہی ہیں کہ حجاب اور ترقّی دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ درحقیقت، حجاب ایک مسلمان عورت کا فخر، تاج اور اس بات کا عملی اعلان ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے جسم اور اپنی پہچان کی حفاظت کررہی ہے۔
سو، ہمیں یہ پیغام عام کرنے کی ضرورت ہےکہ ہرانسان کے لباس اور انتخاب کی آزادی کا احترام کیا جائے، تاکہ معاشرے میں بدنظری اور اس کی وجہ سے ہونے والے دل خراش واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
آپ بھی اپنی بچیوں کو کم عُمری ہی سے اپنے آپ کو مناسب طریقے سے ڈھانپنے کا اہتمام کرنے کی عادت ڈالیں۔ جیسا کہ آج کل پردےکی شرائط کی تکمیل کے ساتھ بھی بےانتہا خُوب صُورت اور اسٹائلش عبایا، حجاب بآسانی دست یاب ہیں، جو بچیوں اور خواتین کی شخصیت کو مزید پُروقار بناتے ہیں۔